Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11

Thread: قصے عشق کی دیوانگی کے

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel قصے عشق کی دیوانگی کے

    کائنات کا تمام تر حسن و جمال ابد الآباد تک آفتابِ رسالت مآب کے جلوؤں کی خیرات ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دنیا کے خوش قسمت ترین انسان تھے کہ انہوں نے حالتِ ایمان میں آقائے محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔ اُنہیں ان فضاؤں میں جو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انفاسِ پاک سے معطر تھیں، سانس لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔
    صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہ تھی، دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُنہیں دنیا و مافیہا کی ہر نعمت سے بڑھ کر عزیز تھا۔ وہ ہر وقت محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جھلک دینے کے لئے ماہیء بے آب کی طرح تڑپتے رہتے تھے۔ اس حسنِ بے مثال کی جدائی کا تصور بھی ان کے لئے سوہانِ روح بن جاتا۔ وہ چاہے کتنے ہی مغموم و رنجیدہ ہوتے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آتے ہی ان کے دل و جاں کو راحت اور سکون کی دولت مل جاتی۔ حتی کہ ظاہری بھوک پیاس کا علاج بھی دیدارِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی تلاش کرلیتے۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت و قربت سے ایسے مسرور ہوتے کہ پھر وہ عالمِ وارفتگی میں محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائمی رفاقت کی آرزو اور تمنا کی فضائے دلکش میں گم ہو جاتے۔ شمع رسالت مآب کے پروانوں کے محبت بھرے تذکرے ایمان کو جلا بخشتے ہیں ۔ آئیے چشمِ تصور میں دورِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھ کر ذیل میں* چند قصے عشق کی دیوانگی کے پڑھ کر اپنے ایمان کی تازگی کا سامان کریں۔

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    پہلا قصہ
    صحابی کا شوقِ زیارت اور حضور اکرم سے دوری کا غم

    عن شعبی : إن رجلا مِن الأنصار أتی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، فقال : يا رسول اﷲ! واﷲ! لأنت أحب إلی من نفسی و ولدی و أهلی و مالی، و لو لا انی آتيک فأراک لظننت إنی سأموت. و بکی الأنصاری، فقال له النبی صلي الله عليه وآله وسلم : ما أبکاک؟ فقال : ذکرت إنک ستموت و نموت فترفع مع النبيين، و نحن إذا دخلنا الجنة کنا دونک فلم يخبره النبی صلي الله عليه وآله وسلم بشیء، فأنزل اﷲ علی رسوله : (وَ مَنْ يُّطِعِ اﷲَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَيْهِمْ... عَلِيْماً) فقال : ابشر يا أبا فلان.

    حضرت شعبی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
    ’’ایک انصاری صحابی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ مجھے اپنی جان، والدین، اہل و عیال اور مال سے زیادہ محبوب ہیں۔ اور جب تک میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کی زیارت نہ کر لوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنی جاں سے گزر جاؤں گا، اور (یہ بیان کرتے ہوئے) وہ انصاری صحابی زار و قطار رو پڑے۔
    اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ نالۂ غم کس لئے؟
    عرض کرنے لگے : یا رسول اﷲ! جب میں خیال کرتا ہوں کہ آپ وصال فرمائیں گے اور ہم بھی مر جائیں گے تو آپ انبیاء کرام کے ساتھ بلند درجات پر فائز ہوں گے، اور جب ہم جنت میں جائیں گے تو آپ سے نچلے درجات میں ہوں گے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (یہ آیت مبارکہ) نازل فرمائی : (وَ مَنْ يُّطِعِ اﷲَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَيْهِمْ... عَلِيْماً) ’’ اور جو کوئی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اِطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت) اُن (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
    اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس صحابی کو بلایا اور) فرمایا : اے فلاں! تجھے (میری ابدی رفاقت کی) خوش خبری مبارک ہو۔‘‘

    سيوطی، الدر المنثور، 2 : 2182
    هناد، الزهد، 1 : 118، باب منازل الانبياء
    سعيد بن منصور، السنن، 4 : 1307، رقم : 4661
    بيهقی، شعب الايمان، 2 : 131، رقم : 1380

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    دوسرا قصہ
    صحابہ کرام رض کی نماز اور زیارتِ مصطفی کا حسین منظر

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرضِ وصال میں جب تین دن تک حجرۂ مبارک سے باہر تشریف نہ لائے تو وہ نگاہیں جو روزانہ دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرفِ دلنوازسے مشرف ہوا کرتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس گئیں۔ جان نثاران مصطفیٰ سراپا انتظار تھے کہ کب ہمیں محبوب کا دیدار نصیب ہوتا ہے۔ بالآخر وہ مبارک و مسعود لمحہ ایک دن حالتِ نماز میں انہیں نصیب ہوگیا۔

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایامِ وصال میں جب نماز کی امامت کے فرائض سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سپرد تھے، پیر کے روز تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں حسب معمول باجماعت نماز ادا کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدرے افاقہ محسوس کیا۔ آگے روایت کے الفاظ ہیں :

    فکشف النبی صلي الله عليه وآله وسلم ستر الحجرة، ينظرإلينا و هو قائمٌ، کأن وجهه ورقة مصحف، ثم تبسم.
    ’’حضور نبی اکرم نے اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ اٹھا کر کھڑے کھڑے ہمیں دیکھنا شروع فرمایا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور قرآن کا ورق ہو، پھر مسکرائے۔‘‘
    بخاری، الصحيح، 1 : 240، کتاب الجماعة والامامة، رقم : 2648
    مسلم، الصحيح، 1 : 315، کتاب الصلوة، رقم : 3419

    حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
    فهممنا أن نفتتن من الفرح برؤية النبی صلي الله عليه وآله وسلم، فنکص أبوبکر علی عقبيه ليصل الصف، وظن أن النبی صلي الله عليه وآله وسلم خارج إلی الصلوٰة.بخاری، الصحيح، 1 : 240، کتاب الجماعة والامامة، رقم : 2468
    بيهقی، السنن الکبریٰ، 3 : 75، رقم : 34825

    ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی خوشی میں قریب تھا کہ ہم لوگ نماز چھوڑ بیٹھتے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں پر پیچھے پلٹے تاکہ صف میں شامل ہوجائیں اور انہوں نے یہ سمجھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لانے والے ہیں۔‘‘
    ان پر کیف لمحات کی منظر کشی روایت میں یوں کی گئی ہے :
    فلما وضح وجه النبی صلي الله عليه وآله وسلم ما نظرنا منظرا کان أعجب إلينا من وجه النبی صلي الله عليه وآله وسلم حين وضح لنا.
    بخاری، الصحيح، 1 : 241، کتاب الجماعة والامامة، رقم : 2649
    مسلم، الصحيح، 1 : 315، کتاب الصلاة، رقم : 3419

    ’’جب (پردہ ہٹا اور) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور سامنے آیا تو یہ اتنا حسین اور دلکش منظر تھا کہ ہم نے پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔‘‘
    فبهتنا و نحن فی الصلوة، من فرح بخروج النبی صلي الله عليه وآله وسلم.
    مسلم، الصحيح، 1 : 315، کتاب الصلوة، رقم : 419

    ’’ہم دورانِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باہر تشریف لانے کی خوشی میں حیرت زدہ ہو گئے (یعنی نماز کی طرف توجہ نہ رہی)۔‘‘

    علامہ اقبال نے حالتِ نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشقِ زار حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے دیدارِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منظر کی کیا خوبصورت لفظی تصویر کشی کی ہے :

    ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
    کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

    کم و بیش یہی حالت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی تھی۔ شارحینِ حدیث نے فھممنا ان نفتتن من الفرح برؤیۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معنی اپنے اپنے ذوق کے مطابق کیا ہے۔

    امام قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :
    ’’پس قریب تھا یعنی ہم نے ارادہ کر لیا کہ (دیدار کی خاطر) نماز چھوڑ دیں۔‘‘
    قسطلانی، ارشاد الساری، 2 : 44

    امام ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں :
    ’’قریب تھا کہ لوگوں میں اضطراب پیدا ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو۔‘‘
    ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 327، رقم : 386

    شیخ ابراہیم بیجوری رحمۃ اﷲ علیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اضطراب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
    صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شفایاب ہونے کی خوشی کے خیال سے متحرک ہونے کے قریب تھے حتیٰ کہ انہوں نے نماز توڑنے کا ارادہ کر لیا اور سمجھے کہ شاید ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں، لہٰذا انہوں نے محراب تک کا راستہ خالی کرنے کا ارادہ کیا جبکہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم خوشی کی وجہ سے کودنے لگے۔
    بيجوری، المواهب اللدنيه علی الشمائل المحمديه : 194

    امام بخاری نے باب الالتفات فی الصلوۃ کے تحت اور دیگر محدثین کرام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی یہ والہانہ کیفیت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں بیان کی ہے :

    و هَمَّ المسلمون أن يفتتنوا فی صلوٰتهم، فأشار إليهم : أتموا صلاتکم.

    ’’مسلمانوں نے نماز ترک کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز کو پورا کرنے کا حکم دیا۔‘‘

    بخاری، الصحيح، 1 : 262، کتاب صفة الصلاة، رقم : 2721
    ابن حبان، الصحيح، 14 : 587، رقم : 36620
    ابن خزيمه، الصحيح، 3 : 75، رقم : 41650
    ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 5217
    طبری، التاريخ، 2 : 231

  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    تیسرا قصہ
    دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھوک کا مداوا

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسین چہرہ اقدس کی زیارت بھوکوں کی بھوک رفع کرنے کا ذریعہ بنتی تھی، چہرۂ پرنور کے دیدار کے بعد عشاق کو بھلا بھوک اور پیاس کا احساس کہاں رہتا؟

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت کا شانۂ نبوت سے باہر تشریف لائے کہ : لا يخرج فيها و لا يلقاه فيها أحد.’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے کبھی اس وقت باہر تشریف نہ لاتے تھے اور نہ ہی کوئی آپ سے ملاقات کرتا۔‘‘
    پھر یوں ہوا کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بھوک سے مغلوب باہر تشریف لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رفیقِ غار سے پوچھا :
    ما جاء بک يا أبا بکر؟
    اے ابوبکر! تم اس وقت کیسے آئے ہو؟
    وفا شعار عجزو نیاز کے پیکر نے ازراہِ مروّت عرض کیا :
    خرجت ألقی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وأنظر فی وجهه و التسليم عليه.
    ’’یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف آپ کی ملاقات، چہرہ انور کی زیارت اور سلام عرض کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔‘‘

    تھوڑی دیر بعد ہی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوگئے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا :
    ما جاء بک يا عمر؟’’
    اے عمر! تمہیں کون سی ضرورت اس وقت یہاں لائی؟‘‘
    شمعِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانے نے عرض کی : الجوع، یا رسول اﷲ!
    ’’یا رسول اللہ! بھوک کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں۔‘‘

    رحمتِ کل جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : و أنا قد وجدت بعض ذلک.
    ’’اور مجھے بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔‘‘

    اب ہادیء برحق نبی مکرم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں جاں نثاروں کے ہمراہ اپنے ایک صحابی حضرت ابو الہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ کا شمار متمول انصار میں ہوتا تھا۔ آپ کھجوروں کے ایک باغ کے مالک تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے وقت صاحبِ خانہ گھر پر موجود نہ تھے، اُن کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ جب دیکھا کہ آج سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے غریب خانے کو اعزاز بخشا ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دو صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ اپنے گھر میں دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ایک عجیب سی کیف و سرور اور انبساط کی لہر نے اہلِ خانہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور گھر کے در و دیوار بھی خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔ روایت میں الفاظ ہیں ۔۔
    ’’(حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ آتے ہی) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہتے جاتے میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ عليک وسلم پر قرباں ہوں۔‘‘
    بعد ازاں حضرت ابو الہیشم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ان دو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو اپنے باغ میں لے گئے، تازہ کھجوریں پیش کیں اور کھانا کھلایا۔
    ترمذی، الجامع الصحيح، 4 : 583، ابواب الزهد، رقم : 22369
    ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 312، رقم : 3373
    حاکم، المستدرک، 4 : 145، رقم : 47178

    شمائلِ ترمذی کے حاشیہ پر مذکورہ حدیث کے حوالے سے یہ عبارت درج ہے :
    ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس لئے تشریف لائے تھے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی زیارت سے اپنی بھوک مٹانا چاہتے تھے، جس طرح مصر والے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن سے اپنی بھوک کو مٹا لیا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عمل میں بھی یہی راز مضمر تھا۔ مگر رفیقِ سفر نے اپنا مدعا نہایت ہی لطیف انداز میں بیان کیا اور یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پُر نورِ نبوت کی وجہ سے آشکار ہو چکا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ طالبِ ملاقات ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر نورِ ولایت کی وجہ سے واضح ہو چکا تھا کہ اس گھڑی آقائے مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار انہیں ضرور نصیب ہو گا۔‘‘

    شمائل الترمذي : 27، حاشيه : 3

  5. #5
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    چوتھا قصہ
    سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت و وارفتگی

    ایک مرتبہ حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے تمہاری دنیا میں تین چیزیں پسند ہیں : خوشبو، نیک خاتون اور نماز جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
    سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے سنتے ہی عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے بھی تین ہی چیزیں پسند ہیں :
    النظر إلی وجه رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، و إنفاق مالی علی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، وأن يکون ابنتی تحت رسول اﷲ.
    ابن حجر، منبهات : 21، 22
    ’’آپ صلی اﷲ عليک وسلم کے چہرۂ اقدس کو تکتے رہنا، اللہ کا عطا کردہ مال آپ صلی اﷲ عليک وسلم کے قدموں پر نچھاور کرنا اور میری بیٹی کا آپ صلی اﷲ عليک وسلم کے عقد میں آنا۔‘‘
    جب انسان خلوصِ نیت سے اللہ تعالیٰ سے نیک خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ ذات اپنی شانِ کریمانہ کے مطابق اُسے ضرور نوازتی ہے۔ اس اصول کے تحت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی تینوں خواہشیں اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دیں۔

    آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نکاح میں قبول فرما لیا۔ آپ کو سفر و حضر میں رفاقتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصیب رہی یہاں تک کہ غارِ ثور کی تنہائی میں آپ کے سوا کوئی اور زیارت سے مشرف ہونے والا نہ تھا، اور مزار مبارک میں بھی أوصلوا الحبيب إلی الحبيب کے ذریعے اپنی دائمی رفاقت عطا فرما دی۔ اسی طرح مالی قربانی اس طرح فراوانی کے ساتھ نصیب ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    ما نفعنی مال أحد قط ما نفعنی مال أبی بکر.
    ’’مجھے جس قدر نفع ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے دیا ہے اتنا کسی اور کے مال نے نہیں دیا۔‘‘ دوسرے مقام پر مال کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحبت کا ذکر بھی فرمایا :

    ہجر رسول میں حضرت صدیق اکبر کا حال زار

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے والد گرامی سارا دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہتے، جب عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر گھر آتے تو جدائی کے یہ چند لمحے کاٹنا بھی اُن کے لئے دشوار ہو جاتا۔ وہ ساری ساری رات ماہی بے آب کی طرح بیتاب رہتے، ہجر و فراق کی وجہ سے ان کے جگرِ سوختہ سے اس طرح آہ نکلتی جیسے کوئی چیز جل رہی ہو اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی جب تک وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کو دیکھ نہ لیتے۔

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وصال کا سبب بھی ہجر و فراقِ رسول ہی بنا۔ آپ کا جسم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے صدمے سے نہایت ہی لاغر ہو گیا تھا، حتی کہ اسی صدمے سے آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔

    علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوبیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہجر کے سوز و گداز کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

    قوتِ قلب و جگر گردد نبی
    از خدا محبوب تر گردد نبی

    ذرۂ عشقِ نبی اَز حق طلب
    سوزِ صدیق و علی اَز حق طلب

    (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی دل و جگر کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور شدت اختیار کرکے خدا سے بھی زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔ تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کا ذرہ حق تعالیٰ سے طلب کر اور وہ تڑپ مانگ جو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ میں تھی۔)

    حوالہ جات : ترمذی، الجامع الصحيح، 5 : 609، ابواب المناقب، رقم : 23661
    ابن ماجه، السنن، 1 : 36، مقدمه، باب فضائل الصحابه، رقم : 394
    احمد بن حنبل، المسند، 2 : 4253

  6. #6
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    پانچواں قصہ
    ہجرِ رسول اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی گریہ و زاری

    حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے : ایک رات آپ عوام کی خدمت کے لیے رات کو نکلے تو آپ نے ایک گھر میں دیکھا کہ چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اُون کاتتے ہوئے ہجر و فراق میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے :

    علی محمد صلاة الأبرار
    صلی عليه الطيبون الأخيار
    قد کنتَ قواماً بکا بالأسحار
    يا ليت شعری والمنايا أطوار
    هل تجمعنی و حبيبی الدار

    ’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کے تمام ماننے والوں کی طرف سے سلام ہو اور تمام متقین کی طرف سے بھی۔ آپ راتوں کو اللہ کی یاد میں کثیر قیام کرنے والے اور سحری کے وقت آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس! اسبابِ موت متعدد ہیں، کاش مجھے یقین ہوجائے کہ روزِ قیامت مجھے آقا صل اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہوسکے گا۔‘‘
    قاضی عياض، الشفاء، 2 : 2569
    ابن مبارک، الزهد، 1 : 363

    یہ اشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بے اختیار اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد آ گئی اور وہ زار و قطار رو پڑے۔ اہل سیر آگے سیدنا عمر فاروق کا حال لکھتے ہیں :
    انہوں نے دروازے پر دستک دی۔
    خاتون نے پوچھا : کون؟
    کہا : عمر بن الخطاب۔
    خاتون نے کہا : رات کے ان اوقات میں عمر کو یہاں کیا کام؟
    آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خاتون ! اللہ آپ پر رحم فرمائے، دروازہ کھولیں آپکو کوئی پریشانی نہ ہوگی۔
    دروازہ کھولا گیا ۔ آپ اندر داخل ہوگئے اور کہا کہ جو اشعار آپ ابھی پڑھ رہی تھی انہیں دوبارہ پڑھ دیں ۔ خاتون نے جب دوبارہ اشعار پڑھے اور جب قیامت میں دیدارِ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اشعار تک پہنچی تو سیدنا عمر فاروق کہنے لگے :
    اس مسعود و مبارک اجتماع میں مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کرکے یوں کہیے کہ ہم دونوں کو آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار اور سنگت نصیب ہو اور اے معاف کرنے والے عمر کو معاف کر دے۔‘‘[/
    خفاجي، نسيم الرياض، 3 : 355

    قاضی سلیمان منصور پوری رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے بعد چند دن تک صاحبِ فراش رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی عیادت کے لئے آتے رہے۔
    ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر آئے، طواف کیا اور حجرِاسود کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ اس سے فرمانے لگے :
    إنی أعلم أنک حجر لا تضر و لا تنفع، ولو لا أنی رأيت النبی صلي الله عليه وآله وسلم يقبلک ما قبلتک.
    ’’(اے حجرِاسود !) میں جانتا ہوں بیشک تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔‘‘
    یہ کلمات ادا کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔
    لگتا یوں ہے کہ سیدنا فاروق اعظم بظاہر تو پتھر کو چوم رہے تھے لیکن عالم تصور میں پتھر پر لگے ہوئے محبوب کے لبوں کو بوسہ دے رہے تھے۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لازوال عشق تھا کہ ہر عبادت اور ہر عمل میں یاد محبوب صلی اللہ علیہ وسلم انکے ہم نشین رہتی۔
    بخاری، الصحيح، 2 : 579، کتاب الحج، رقم : 21520
    مسلم، الصحيح، 2 : 925، کتاب الحج، رقم : 31270
    ابن ماجه، السنن، 2 : 981، کتاب المناسک، رقم : 43943
    نسائی، السنن الکبریٰ، 2 : 400، رقم : 53918
    احمد بن حنبل، المسند، 1 : 646
    حاکم، المستدرک، 1 : 628، رقم : 1682

  7. #7
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    چھٹا قصہ
    سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروقِ اعظم رضی اﷲ عنھما کا دیدارِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منفرد اعزاز

    صدیقِ باوفا رضی اللہ عنہ کو سفرِ ہجرت میں رفاقتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعزاز حاصل ہوا، جبکہ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ مرادِ رسول ہونے کے شرفِ لازوال سے مشرف ہوئے۔ ان جلیل القدر صحابہ کو صحابہ رضی اللہ عنھم کی عظیم جماعت میں کئی دیگر حوالوں سے بھی خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم کان يخرج علي أصحابه من المهاجرين و الأنصار، و هم جلوس و فيهم أبوبکر و عمر، فلا يرفع إليه أحد منهم بصره إلا أبوبکر و عمر، فإنهما کانا ينظران إليه و ينظر إليهما و يتبسمان إليه و يتبسم إليهما.

    ’’حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مہاجر اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے جھرمٹ میں تشریف فرما ہوتے اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما بھی ان میں ہوتے تو کوئی صحابی بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتا، البتہ ابوبکر صدیق اور فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنھما حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کو مسلسل دیکھتے رہتے اور سرکار ان کو دیکھتے، یہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنھما رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے نورانی چہرہ مبارک) کو دیکھ کر مسکراتے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں (غلاموں) کو دیکھ کر تبسم فرماتے۔‘‘

    گویا بقول شاعر ۔۔
    یک نگاہِ نازِ جاناں ، قیمتِ ایمانِ ما
    محبوب کی ایک نگاہ ہی میرے کل ایمان کی قیمت ہے
    حوالہ جات : ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 612، ابواب المناقب، رقم : 23668
    احمد بن حنبل، المسند، 3 : 3150
    طيالسي، المسند، 1 : 275، رقم : 42064
    عبد بن حميد، المسند، 1 : 388، رقم : 51298
    ابو يعلي، المسند، 1 : 116، رقم : 63378
    احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 212، رقم : 7339
    طبري، الرياض النضره، 1 : 338، رقم : 209

  8. #8
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    ساتواں قصہ
    حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ
    اسیرِحسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    عشاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو منفرد اعزاز عطا ہوا اس کا مظاہرہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنا سفیر بنا کر مکہ معظمہ بھیجا کہ کفار و مشرکین سے مذاکرات کریں۔ کفار نے پابندی لگا دی تھی کہ اس سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سفیرِ رسول بن کر مذاکرات کے لئے حرمِ کعبہ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ اس سال آپ لوگ حج نہیں کر سکتے، تاہم کفارِ مکہ نے بزعم خویش رواداری برتتے ہوئے
    حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ عثمان ! چونکہ تم آگئے ہو، اس لئے حاضری کے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اگر چاہو تو ہماری طرف سے تمہیں طواف کی اجازت ہے
    لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کفار کی اس پیشکش کو بڑی شان بے نیازی سے ٹھکرا دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر طواف کرنا انہیں گوارا نہ ہوا۔
    آپ رضی اللہ عنہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا :
    ما کنتُ لأطوف به حتی يطوف به رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.
    ’’میں اس وقت تک طوافِ کعبہ نہیں کروں گا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف نہ کرلیں۔‘‘

    حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اس عمل سے دشمنانِ اسلام کو جتلا دیا کہ ہم کعبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر کعبہ مانتے ہیں اور اس کا طواف بھی اس لئے کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا طواف کرتے ہیں۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کعبے سے اپنی جذباتی وابستگی اور عقیدت کو اہمیت نہ دی حالانکہ اس کے دیدار کے لئے وہ مدت سے ترس رہے تھے اور ہجرت کے چھ سات سال بعد انہیں یہ پہلا موقع مل رہا تھا۔ اگر وہ طواف کر بھی لیتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے منع نہیں کیا تھا لیکن ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی جس کے بغیر وہ کسی عمل کو کوئی وقعت دینے کے لئے تیار نہ تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہی نسبت ان کے ایمان کی بنیاد تھی۔
    آج ملت اسلامیہ کے اندر ایسے گروہ بھی پیدا ہوچکے ہیں جو بڑی شد ومد سے صرف ظاہری عمل ہی کی تبلیغ کیے جاتے ہیں اور اسی کو کل ایمان جانتے ہیں حتی کہ محبت رسول کے قلبی و روحانی جذبات کو بھی ظاہری عمل پر ہی منحصر کردیتے ہیں۔ اگر یہی فلسفہ درست ہوتا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی حضور اکرم کے بغیر ہی طواف کعبہ کرکے ثواب کمالیتے لیکن ان سچے عشاقان رضی اللہ عنھم کے ہاں سرکار دوجہاں کی ذات گرامی سے محبت و عشق اولیں جذبہ اور بنیادِ ایمان ہے جبکہ اعمال و افعال اس جذبہء لازوال کے تحت آتے ہیں ۔
    بيهقي، السنن الکبري، 9 : 2221
    ابن هشام، السيرة النبويه، 4 : 3282
    طبري، التاريخ، 2 : 4121
    قاضي عياض، الشفاء، 2 : 5594
    ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 4 : 6167
    حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 7701
    ابن حبان، الثقات، 1 : 8299
    طبري، تفسير، 26 : 986
    ابن کثير، تفسير، 4 : 187

  9. #9
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    آٹھواں قصہ
    حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا جذبہ عشق
    خدمتِ رسول اور نماز عصر
    حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کی تربیت براہِ راست آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ بچوں میں سب سے پہلے دامنِ اسلام سے وابستہ ہونا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقدر میں لکھا گیا تھا۔
    حضرت حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی اور تقرب کا حال جاننے کے لئے یہ روایت ملاحظہ فرمائیے :
    حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ غزوہء خیبر کے دوران قلعہ صہباء کے مقام پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سرِ انور رکھ کر اِستراحت فرما رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابھی نمازِ عصر ادا نہیں کی تھی۔ اگر معاذاللہ محبت وعشق سے بےبہرہ خشک اعمال پرست مسلمان ہوتے تو عرض کردیتے یارسول اللہ ! ذرا چند لمحے توقف فرمائیں میں عصر پڑھ لوں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی تھا لیکن جہاں بحر محبت موجزن ہو وہاں عقل کا کیا کام ۔ اسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں
    عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
    عشق پر اَعمال کی بنیاد رکھ
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ’’عقل قرباں کن بہ پیشِ مصطفیٰ‘‘ کا مظہر بنتے ہوئے اپنی نماز محبوب کے آرام پر قربان کر دی، جس کے نتیجے میں اس کشتۂ آتشِ عشق اور پیکرِ وفا کو وہ نماز نصیب ہوئی جو کائناتِ انسانیت میں کسی دوسرے کا مقدر نہ بن سکی۔
    حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اور قرب نصیب کا نادر موقع کیونکر ہاتھوں سے جانے دیتے۔ وہ تو سالارِ عاشقاں ہیں اس راز کو بخوبی جانتے تھے
    نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں
    نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں

    چنانچہ انہوں نے موقع غنیمت جانا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِانور کے لئے اپنی گود بچھا دی، جس پر محبوب کل جہاں انے اپنا مبارک سر انکی گود میں رکھا اور اِستراحت فرمانے لگے۔ اب نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اور نہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ نماز عصر ادا ہوئی کہ نہیں؟
    آفتابِ جہاں تاب اپنی منزلیں طے کرتا ہوا غروب ہوتاجارہا تھا۔ اور آٍفتابِ رسالت انکی گود میں جلوہ فرما تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ سورج ڈوب چلا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدا ر ہوئے تو دیکھا کہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں محوِ گریہ ہیں۔
    پوچھا : کیا بات ہوئی؟
    عرض کیا : آقا! میری نمازِ عصر رہ گئی ہے۔
    فرمایا : قضا پڑھ لو۔
    سالارِ عاشقاں نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ، گویا یہ کہہ رہے ہوں کہ آقا !ٗنماز جائے آپ کی خدمت میں اور قضا پڑھوں؟
    جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ قضا نہیں بلکہ نماز ادا ہی کرنا چاہتا ہے تو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، اللہ جل مجدہ کی بارگاہ میں دستِ اقدس دعا کے لئے بلند کر دیئے اور عرض کیا :
    اللّٰهم! إنّ عليا فی طاعتک و طاعة رسولک، فاردد عليه الشمس.
    ’’اے اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا (کہ اس کی نماز قضا ہو گئی)، پس اس پر سورج کو پلٹا دے (تاکہ اس کی نماز ادا ہو)۔‘‘
    غور طلب نکتہ :
    نماز وقت پر ادا کرنا اللہ کی اطاعت ہے لیکن یہاں تو نماز قضا ہو گئی تھی اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قضا کو اﷲ کی اطاعت قرار دے رہے ہیں۔ آرام تو حضور علیہ السلام کا تھا، نیند بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نماز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند پر قربان ہو گئی۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ
    ’’اے اللہ! علی تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا‘‘ لیکن ایسا نہیں فرمایا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے اطاعت کا مفہوم بھی واضح ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت گری جیسی بھی ہو رب کی اطاعت ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مصروف تھے اس لئے ان کی نماز قضا ہو کر بھی اطاعتِ الٰہی قرار پائی۔
    حدیثِ مبارک میں مذکور ہے کہ جب آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستِ اقدس دعا کے لئے بلند فرمائے تو ڈوبا ہوا سورج اس طرح واپس پلٹ آیا جیسے ڈوبا ہی نہ ہو۔ یہ تو ایسے تھا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں ڈوریاں ہوں جنہیں کھینچنے سے سورج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب کھنچا آرہا ہو۔ یہاں تک کہ سورج عصر کے وقت پر آگیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز عصر ادا کی۔
    طبراني، المعجم الکبير، 24 : 151، رقم : 2390
    هيثمي، مجمع الزوائد، 8 : 3297
    قاضي عياض، الشفا، 1 : 4400
    ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 6 : 583
    سيوطي، الخصائص الکبري، 2 : 6137
    حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 103
    محبتوں کا حال
    قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا :
    کيف کان حبکم لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم؟
    آپ (صحابہ کرام) کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قدر محبت تھی؟
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
    کان و اﷲ! أحب إلينا من أموالنا وأولادنا و آباء نا و أمهاتنا و من الماء البارد علي الظمأ.
    ’’اللہ کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنے اموال، اولاد، آباء و اجداد اور امہات سے بھی زیادہ محبوب تھے اور کسی پیاسے کو ٹھنڈے پانی سے جو محبت ہوتی ہے ہمیں اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر محبوب تھے۔‘‘

    قاضی عياض، الشفا، 2 : 568

  10. #10
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: قصے عشق کی دیوانگی کے

    کاش ان کامل انسانوں کے دل میں موجزن جذبوں کا ایک قطرہ ہی ہمیں نصیب ہوجائے

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •