Results 1 to 3 of 3

Thread: کيا ميں چور ہوں؟

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default کيا ميں چور ہوں؟

    کيا ميں چور ہوں؟

    ايک لطيف موضوع پر لکھي ہوئي تحرير جو آپکے دلوں کو چھو لے گي، آخر تک پڑھيئے۔۔۔



    ايک سوڈاني ڈاکٹر کہتا ہے کہ وہ ميڈيکل کي ايک سپيشلائزيشن کے پہلے پارٹ کے امتحان کے سلسلہ ميں ڈبلن گيا۔۔ اس امتحان کيلئے فيس ۳۰۹ پاؤنڈ تھي۔ مناسب کھلے پيسے نہ ہونے کي وجہ سے اُس نے متعلقہ ادارے ميں ۳۱۰ پاؤنڈ ادا کيئے، بھاگ دوڑ اور رش کے باعث باقي کے پيسے لينا ياد نہ رہے، امتحان دے کر واپس اپنے ملک چلا گيا۔ واپسي کے کُچھ عرصے بعد اُسے سوڈان ميں ايک خط موصول ہوا، خط کے ساتھ ايک پاؤنڈ کا چيک منسلک تھا اور ساتھ ہي وضاحت بھي کي گئي تھي کہ اُسے ايک پاؤنڈ کا يہ چيک کس سلسلے ميں بھيجا گيا تھا۔

    سچي بات تو يہ ہے کہ اس قصے نے مُجھے اپنے ساتھ پيش آنے والا ايک واقعہ ياد دلا ديا ہے۔۔ سن ۱۹۶۸ کا ذکر ہے جب ميں نے انگلينڈ بيڈفورڈ کمپني کے خرطوم ميں ايجنٹ سے ايک لاري مبلغ ۲۴۰۰ سوڈاني پاؤنڈ ميں خريدي۔ اب ميں جو کُچھ آپ کو بتانے جا جا رہا ہوں اُس پر زيادہ حيران نہ ہوں، يہ اُن اچھے دنوں کا واقعہ ہے جب انساني اقدار ماديت پر حاوي ہوا کرتي تھيں،،، لاري خريدنے کے کوئي چار يا چھ مہينے کے بعد مُجھے اُس ايجنٹ سے ايک ليٹر موصول ہوا جس ميں درج تھا کہ انگلينڈ بيڈفورڈ کمپني نہايت ہي شرمندگي کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتي ہے کہ لاري کي پيداواري لاگت اور بيچنے کي قيمت ميں حسابي غلطي ہو گئي تھي۔ اصولا ہميں ۲۳۷۰ پاؤنڈ لينا چاہيئے تھے مگر ہم نے ۲۴۰۰ پاؤنڈ وصول کر ليئے ہيں۔ ساتھ ہي مُجھے کہا گيا تھا کہ ميں اُن سے رابطہ کروں تاکہ وہ مُجھے ۳۰ پاؤنڈ لوٹا سکيں۔

    ان ۳۰ پاؤنڈ کے ملنے پر مُجھے اس قدر خوشي ہو رہي تھي جو اس بناء پر نہيں تھي کہ مُجھےغير متوقع طور پر ۳۰ پاؤنڈ کي آمدني ہونے جا رہي تھي۔ اور نہ ہي ۳۰ پاؤنڈ ميرے لئے کوئي ايسي بڑي رقم تھي جس سے ميرے دن پھرنے جا رہے تھے۔ مُجھے خوشي اس عالي القدر اخلاق، ا مانت کي اس نادر مثال اور انساني اقدار کي اس عظيم حفاظت پر ہو رہي تھي جس سے برطانوي قوم بہرہ ور تھي۔

    جبکہ ميں اپنے ہي آس پاس، اپنے ہم مذہب اور ہم جنس کاروباري لوگوں، تاجروں، دُکانداروں اور حتيٰ کہ جن پيشوں سے مُنسلک لوگوں کو عملي اخلاق و کردار اور اعليٰ معاملات کے نمونہ ہونا چاہيئں اُنکي خيانت، بد ديانتي، غلط ترين معاملہ، بد اخلاقي اور کم ظرفي کو ديکھتا ہوں تو غم اور غصہ کے مارے رو پڑتا ہوں۔ سخت رو، درشت اور احساس سے عاري لوگ جو اپنے ہي ہموطنوں سے امانت و صداقت سے دور رہ کر برتاؤ کرتے ہيں۔ دوسروں کے حقوق غصب کر لينا يا قومي سرمايہ کو باطل طريقوں سے لوٹنا تو بعد کي بعد ہے، عوام الناس کو کس طرح لوٹا جائے کے طريقوں پر اس طرح سوچا اور غور کيا جاتا ہے جس طرح کہ گويا يہي انکي عاقبت کو سنوارنے والا معاملہ ہو۔ مذہب کي تعليمات کي تو کُچھ پرواہ ہي نہيں رہي، دونوں ہاتھوں سے پيسہ لوٹنے کو نصب العين بنا ليا گيا ہے۔

    معاف کيجيئے ميں موضوع سے ہٹ کر غصہ کي رو ميں بہہ گيا ہوں کيوں کہ اب جو بات مُجھے غصہ دلا رہي ہے وہ مُجھے ۱۹۷۸ کا وہ ياد آنے والا واقعہ ہے جب ميں پہلي بار سير و تفريح کيلئے لندن گيا۔ اُس وقت لندن جانے کا تصور ميرے لئے بہت ہي فرحت بخش اور ميرا مقصد وہاں کي ہر تفريح اور سير و سياحت والي جگہ سے لطف اندوز ہونا تھا۔ سچ تو يہ ہے کہ ميں اس سفر کو اپنے لئے يادگار بنانے کيلئے گيا تھا۔

    ميں نے لندن ميں بادنگٹن کے علاقے ميں رہائش رکھي ہوئي تھي۔ آمدورفت کيلئے روزانہ زير زمين ٹرين استعمال کرتا تھا۔ ميں جس اسٹيشن سے سوار ہوتا تھا وہاں پر ايک عمر رسيدہ عورت کے سٹال سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ اُسکے سٹال پر ٹھہر کر اُس سے چند باتيں کرنا ميرا معمول تھا اور ساتھ ہي ميں روزانہ اُس سے ايک چاکليٹ بھي خريد کر کھايا کرتا تھا جس کي قيمت ۱۸ پنس ہوا کرتي تھي۔ چاکليٹ کے يہ بار قيمت کي آويزاں تختي کے ساتھ ايک شيلف پر ترتيب سے رکھے ہوا کرتے تھا۔ گاہک قيمت ديکھ کر اپني پسند کا خود فيصلہ کر کے خريد ليتے تھے۔

    حسب معمول ايک دن وہاں سے گُزرتے ہوئے ميں اس عورت کے سٹال پر ٹھہرا اور اپنا پسنديدہ چاکليٹ بار لينے کيلئے ہاتھ بڑھايا تو يہ ديکھ کر حيران رہ گيا کہ آج وہ چاکليٹ دو مختلف شيلف ميں رکھے ہوئے تھے۔ ايک شيلف ميں رکھے ہوئے کي قيمت حسبِ معمول ۱۸ پنس ہي تھي مگر دوسرے شيلف ميں رکھے ہوئے کي قيمت ۲۰ پنس لکھي ہوئي تھي۔

    ميں نے حيرت کے ساتھ اُس عورت سے پوچھا؛ کيا يہ چاکليٹ مختلف اقسام کي ہيں؟ تو اُس نے مختصرا کہا نہيں بالکل وہي ہيں۔ اچھا تو دونوں کے وزن ميں اختلاف ہو گا؟ نہيں دونوں کے وزن ايک بھي جيسے ہيں۔ تو پھر يقينايہ دونوں مختلف فيکٹريوں کے بنے ہوئے ہونگے؟ نہيں دونوں ايک ہي فيکٹري کے بنے ہوئے ہيں۔

    ميري حيرت ديدني تھي اور ميں حقيقت جاننا چاہتا تھ، اسليئے ميں نے اس بار تفصيل سے سوال کر ڈالا؛ تو پھر کيا وجہ ہے کہ ايک شيلف ميں رکھے ہوئے چاکليٹ کي قيمت ۱۸ پنس ہے جبکہ دوسرے شيلف ميں رکھے ہوؤں کي قيمت ۲۰ پنس! ايسا کيوں ہے؟

    اس بار اُس عورت نے بھي مُجھے پوري صورتحال بتانے کي غرض سے تفصيلي جواب ديتے ہوئے ہوئے کہا کہ آجکل نائجيريا ميں جہاں سے کاکاؤ آتا ہے کُچھ مسائل چل رہے ہيں جس سے وجہ سے چاکليٹ کي قيمتوں ميں ناگہاني طور پر اضافہ ہو گيا ہے۔

    ميں نے يہاں عورت کي بات کاٹتے ہوئے کہا کہ مادام، آپ سے بيس پنس کي چاکليٹ کون خريدے گا جبکہ وہي اٹھارہ پنس کي بھي موجود ہے؟ عورت نے کہا؛ ميں جانتي ہوں ايسا کوئي بھي نہيں کرے گا۔ مگر جيسے ہي پُراني قيمت والے چاکليٹ ختم ہوں گے لوگ خود بخود نئي قيمتوں والے خريدنے لگيں گے۔

    اپني فطرت اور ماحول پروردہ خوبيوں کے ساتھ، رواني ميں کہيئے يا اپني عادتوں سے مجبور، ميں نے کہا؛ مادام، آپ دونوں چاکليٹ ايک ہي خانے ميں رکھ کر بيس پنس والي نئي قيمت پر کيوں نہيں بيچ ليتيں؟

    ميري بات سُننا تھي کہ عورت کے تيور بدلے، چہرے پر موت جيسي پيلاہٹ مگر آنکھوں ميں خوف اور غصے کي ملي جُلي کيفيت کے ساتھ لرزتي ہوئي آواز ميں مُجھ سے بولي؛ کيا تو چور ہے؟

    اب آپ خود ہي سوچ کر بتائيے کيا ميں چور ہوں؟ يا وہ عورت جاہل اور پاگل تھي؟ اور شايد عقل و سمجھ سے نا بلد، گھاس چرنے والي حيوان عورت
    اچھا ميں مان ليتا ہوں کہ ميں چور ہوں تو يہ سب کون ہيں جو غلہ اور اجناس خريدتے ہي اس وجہ سے ہيں کہ کل مہنگي ہونے پر بيچيں گے۔

    کس جہنم ميں ڈالنے کيلئے پياز خريد کر رکھے جاتے ہيں جو مہنگے ہونے پر پھر نکال کر بيچتے ہيں۔

    اُن لوگوں کيلئے تو ميں کوئي ايک حرف بھي نہيں لکھنا چاہتا جن کي چيني گوداموں ميں پڑے پڑے ہي مہنگي ہوجاتي ہے۔ نہ ہي مُجھے اُن لوگوں پر کوئي غصہ ہے جو قيمت بڑھاتے وقت تو نہيں ديکھتے کہ پہلي قيمت والا کتنا سٹاک پڑا ہے مگر قيمتيں کم ہونے پر ضرور سوچتے ہيں کہ پہلے مہنگے والا تو ختم کر ليں پھر سستا کريں گے۔

    کيا ہمارے تجار نہيں جانتے کہ مخلوق خدا کو غلہ و اجناس کي ضرورت ہو اور وہ خريد کر اس نيت سے اپنے پاس روک رکھيںکہ جب او ر زيادہ گراني ہو گي تو اسے بيچيں گے يہ احتکار کہلاتا ہے۔ روزِ محشر شفاعت کے طلبگار شافعيِ محشر صلي اللہ عليہ وسلم کاغلہ کے احتکار اور ذخيرہ اندوزي پر کيا فرمان اور کيا وعيد ہے کو تو نہيں سُننا چاہتے کيونکہ وہ في الحال اپني توندوں اور تجوريوں کو جہنم کي آگ سے بھرنے ميں جو لگے ہوئے ہيں۔

    مُجھے کسي پر غصہ اور کسي سے کوئي ناراضگي نہيں، ميں تو اُس جاہل عورت پر ناراض ہوں جس نے محض ميرے مشورے پر مُجھے چور کا خطاب ديديا۔ اچھا ہے جو وہ برطانيہ ميں رہتي تھي، ادھر آتي تو حيرت سے ديکھتي اور سوچتي کہ وہ کس کس کو چور کہے! اور اُسے کيا پتہ کہ جسے بھي وہ چور کہنا چاہے گي وہ چور نہيں بلکہ ہمارے سيد، پير، مخدوم، شيخ، حکام اور ہمارے راہنما ہيں۔

  2. #2
    Join Date
    Apr 2008
    Location
    City Of Lights ....
    Posts
    36,361
    Mentioned
    7 Post(s)
    Tagged
    2098 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    21474882

    Default Re: کيا ميں چور ہوں؟

    buhat hi umda batain ki gayi hain is tehreer main ... sabak amooz hai par sawal wahi k kon khud ko badalnay ki niyat say is tahreer say sabak hasil karay ga ??/

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: کيا ميں چور ہوں؟

    Quote Originally Posted by Mr. Bean View Post
    buhat hi umda batain ki gayi hain is tehreer main ... sabak amooz hai par sawal wahi k kon khud ko badalnay ki niyat say is tahreer say sabak hasil karay ga ??/
    Jo ALLAH Se Hadayat Talab Kare Ga

    ALLAH Us Ka Dil Hadayat Se Munawwar Kar De Ga INSHALLAH

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •