Results 1 to 3 of 3

Thread: تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے

  1. #1
    Join Date
    May 2011
    Location
    saudi arab
    Posts
    11
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے

    تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
    ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے

    دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک
    کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے

    ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر
    کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں؟ ان سوالوں میں رہے

    بدظنی ایسی کہ غیروں کی وفا بھی کھوٹ تھی
    سوئے ظن ایسا کہ ہم اپنوں کی چالوں میں رہے

    ایک دنیا کو میری دیوانگی خوش آ گئی
    یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے

    عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
    پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  3. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    56
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    8 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے

    nice

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •