میں محبت لکھتا ہوں‘ محبت ہر رشتے کی بنیاد ہے اور محبت ہی ہر رشتے کو اُس کی معراج تک پہنچاتی ہے۔ یہ کائنات رب کی اپنی مخلوق سے محبت کی مظہر ہے۔ محبت کو اگر محسوس کرنا چاہیں تو ہر سانس میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ سرسراتی ہوئی ہوا میں‘ گنگناتے پانیوں میں‘ چہچہاتے پرندوں میں‘ رات کی سیاہ چادر پر جھلملاتے ستاروں میں‘ تیز دھوپ میں‘ کسی پیڑ کے ٹھنڈے سائے میں‘ کسی کی آنکھوں میں ٹھہرے ان کہے جملے میں‘ کسی کی ریشمی پلکوں کے گیلے سایوں میں‘ کسی کے نرم ہاتھوں کے مسیحا لمس میں‘ غرض یہ کہ محبت کو ہر گام پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ محبت سردیوں میں دھند سے بھرے شیشے پر انگلیوں کی نرم پوروں سے کسی کا نام لکھتی ہے‘ کسی کے ہاتھ کی ایک پیالی چائے میں بولتی ہے‘ کسی کی خاموش نگاہوں میں لرزتے آنسوؤں میں دکھائی دیتی ہے‘ گیلی ریت پر کسی کے قدموں کے نشاں پر پاؤں رکھ کر چلتی ہے اور کبھی شام ڈھلے گھروں کی جانب لوٹتے پرندوں کی تھکی اُڑانوں میں خاموشی سے اپنا آپ رکھ دیتی ہے۔ محبت کئی بھیس بدل کر ہمارے آس پاس رہتی ہے کبھی ماں کے لرزتے کانپتے ہونٹوں کی دعاؤں سے جھلکتی ہے‘ کبھی گیلی مٹی کی سوندھی خوشبو میں محسوس ہوتی ہے‘ اور کبھی ساحل سے ملنے کو بے تاب سر پٹکتی موجوں میں نظر آتی ہے۔ کبھی خاموشیوں میںصدا بن کر گونجتی ہے اور کبھی چپ چاپ دل کے نہاں خانوں میں جا چھپتی ہے۔ محبت انسان کو بہت بہادر بنا دیتی ہے مگر اس میں کہیں اندر اک ڈر سا رہتا ہے۔ یہ وصال کی راہوں پر ہجر کے خدشوں کا دامن پکڑ کے چلتی ہے۔ محبت بھرا دل عجب واہموں اور اندیشوں کے جنگل میں بھٹکتا رہتا ہے۔ کبھی بچھڑ جانے کا اندیشہ آنکھوں میں نیندوں کی ڈولی اترنے نہیں دیتا اور کبھی کھو دینے کا اندیشہ اسے بے چین رکھتا ہے۔ محبت ہی انسان کو دُعا کا ڈھنگ سکھاتی ہے اور پھر وہ دعا عرش کو ہلا دیتی ہے۔ میں وہ محبت لکھتا ہوں جو محسوس کرتا ہوں۔ وہ محبت مری پلکوں پہ بیٹھی نیندوں میں جاگتی ہے‘ مری ذات کی خاموشیوں میں بولتی ہے‘ لہو کی روانیوں میں دوڑتی ہے اور سینے میں دل کے سنگ دھڑکتی ہے۔ یہ محبت ہی جذبوں کے پھولوں پر لفظوں کی تتلیوں کو بیٹھنا سکھاتی ہے اور پھر یہ خوش رنگ تتلیاں ڈائری میں کبھی غزل کی صورت محفوظ ہو جاتی ہیں‘ کبھی نظم کی صورت اپنے رنگ چھوڑ دیتی ہیں اور کبھی چپ چاپ آنسو بن کر مرے چہرے پر کوئی تصویر بنا جاتی ہیں۔ میں اس محبت کو لکھتا ہوں اور لکھتا رہوں گا۔