خوفِ خدا بھی رکھا کرو دل میں ذرا سا
تو ہے بُرا،شاید تو بھی جاے عذاب میں
ممکن نہیں،حسیں چہرے ہی ھوں چھپے
مقصود یوں نہ جھانکا کرھراک نقاب میں