Results 1 to 4 of 4

Thread: Shehnaz

  1. #1
    Join Date
    Jul 2011
    Location
    Lahore-Pakistan
    Posts
    1,636
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    944 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    cute Shehnaz

    شہناز




    شہناز نے اپنی ماں کا دوپٹہ سر پہ لیا اور اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے دوپٹے کا گھونگھٹ بنا کر اپنے معصوم سے چہرے کو چھپاتے ہوئے ادھر اُدھر ٹہلنے لگ گئی۔شہناز کا پورا خاندان اس کی معصوم سی حرکت پر کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔7سالہ شہناز اپنے خاندان کو ہنستا ہوا دیکھ کر انہیں اور خوشی دینے کے لیے مزید کوئی ایسا کام کرتی کہ ان کی ہنسی میں مزید اضافہ ہوتا۔
    شہناز بالکل گڑیا جیسی دکھتی تھی۔اس کی خواہش پر ہر لباس اور اس کے کھلونے الماری میں درجنوں کی تعداد میں سجے رہتے تھے۔
    شہناز کے ابو شہناز سے بہت پیار کرتے تھے اسی لیے تو اپنی لاڈلی اور معصوم بیٹی کے ناز نخرے اٹھایا کرتے تھے۔شہناز کی ماں تو جیسے بیٹی کے لیے سارا جہان چھوڑنے کو تیار تھی۔اسی لیے تو معصوم بیٹی کی تمام جائز خواہشات کو پورا کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے تھیں!شہناز کے 7بھائی جن میں سب بڑا خالد 20سال کا تھا۔اپنی معصوم اور لاڈلی بہن کے لیے اپنی جان تک نچھاور کرنے کا دعویدار تھا۔
    اور آخر پورا خاندان معصوم شہناز سے پیار کیوں نہ کرتا ??سات بھایئوں اور ہزارہا دعاوں کے بعد پیدا ہونے والی معصوم شہناز سب کے دلوں پر راج کرتی تھی۔اس کی ایک مسکراہٹ دیکھنے کے لیے ماں ،باپ،بھائی اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لایا کرتے تھے۔لاڈلی بہن بھایئوں کی آنکھوں کا تارا بن چکی تھی۔
    اس خاندان کے گھر میں روز عید کا سا سماں رہا کرتا تھا۔کبھی پورا خاندان کسی ایک کھیل میں مشغول ہے تو کبھی شہناز اپنے باپ یا بڑے بھائی کے کندھے پر بیٹھ کر گھڑ سواری کر رہی ہے!
    گویا کہ پورا خاندان فقظ شہناز کے لیے اپنی تمام تر مصروفیات کو زائل کر کے صرف اپنی ننھی منھی گڑیا کے ساتھ کھیل کود میں مصروف رہتا تھا۔
    اکثر جب محلے میں شادی کے بینڈ باجے بجتے تو شہناز اپنے گھر کی چھت پر کھڑی ہو کر تمام ماجرا دیکھا کرتی تھی۔اور اپنی معصوم آنکھوں کو گھماتے ہوئے ادھر ادھر نظر دوڑاتی اور بھاگتی ہوئی اپنی ماں کے پہلو میں بیٹھ جاتی۔
    شہناز اپنی توتلی زبان میں اپنی ماں سے پوچھا کرتی تھی!۔۔۔۔
    "ماں میلی شادی کب ہو گی???تو اس کی ماں ہنستی ہوئی معصوم بیٹی کو یقین دلواتی کہ جب تم بڑی ہو جاو گی نا تب تمہاری شادی اس بھی دھوم دھام سے ہوگی!انجان شہناز ماں کی تسلیوں سے خوش ہوتی ہوئی ماں کے گلے جاتی۔
    وقت کا پہیہ کھومتا گیا۔منٹ گھنٹوں میں ،گھنٹے دنوں میں اور دن مہینے سالوں میں بدل گئے۔شہناز 20 برس کی ہوچکی تھی۔دو چار بھایئوں کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ماں باپ بوڑھے ہو چکے تھے مگر انکا پیار ابھی بھی شہناز کے لیے اتنا ہی تھا جتنا بچپن میں ہوا کرتا تھا۔
    شہناز کے بھائی ابھی بھی شہناز کے لیے بہت سارے تحائف لے کر آیا کرتے تھے۔اور اپنی پیاری بہن کی ہر خواہش کو پورا کرنا انکا اولین مقصد بن چکا تھا۔
    لاڈ اور پیار سے پلی شہناز محلے کے ایک آوارہ لڑکے کو اپنا دل دے بیٹھی تھی۔اس بات کے بارے مٰن گھر کا کوئی فرد نہیں جانتا تھا۔جبکہ اس لڑکے کو شہناز نے پورا یقین دلوایا تھا کہ میرے بھائی میری ہر خواہش کو پورا کرتے ہیں اور جب کبھی شادی کی بات چلی تو وہ میری خواہش کو کبھی رد نہیں کریں گے۔
    اس آوارہ لڑکے سے شہناز کا میل جول بڑھتا گیا۔یہاں تک کہ ایک دن شہناز اسے ملنے اس کی بتای ہوئی جگہ پر پہنچی تو اس لڑکے نے شہناز کے ساتھ اپنے گندے عزائم کا اظہار کیا مگر شہناز نے اسے کچھ دنوں تک کا وعدہ کر کے روک دیا۔اور کہا کہ میں کل اپنی ماں سے تمہاری اور میری شادی کی بات کروں گی۔مجھے پورا یقین ہے کہ وہ منع نہیں کریں گی!
    تم بس پھر اپنے ماں باپ کو ہمارے گھر بھیجنا اور میرا ہاتھ مانگ لینا۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا!!!
    اس سے پہلے کہ شہناز اپنی ماں سے اپنی خواہش کا اظہار کرتی اگلی صبح گھر میں شہناز کی شادی کا شور بپا تھا۔شہناز کو جب حقیقت کا پتہ چلا تو بڑی رنجور ہوئی۔
    "آج تمہیں دیکھنے کے لیے لڑکے والے آرہے ہیں۔جلدی سے کپڑے پہنو بناو سنگھار کرو۔ میری چاند سی بیٹی اب دلہن بنے گی!"ماں کے ان الفاظوں نے شہناز کی زبان پر چپ کے تالے لگا دیے۔اس دن شہناز مہمانوں میں کھوئی کھوئی سی نظر آتی رہی۔
    شہناز کا رشتہ طے ہو چکا تھا۔اپنے عاشق سے کیے سب وعدے اسے وفا ہوتے نظر نہیں آرہے تھے۔ایک طرف ماں باپ ،اور بھایئوں کی لازوال محبت اور دوسری طرف ہمیشہ کی طرح اسکی انہونی خواہش! گویا کہ اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ کا سا سماں تھا۔
    آخری دفعہ کا سوچ کر اپنے عاشق کو دکھ بھرا پیغام سنانے کے لیے گھر سے نکلی۔رستے میں ہزاروں مشورے اپنے دل سے کرتی ہوئی اپنے عاشق کے پاس پہنچی اور تمام داستان غم سنا ڈالی!
    شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔مگر حیرانگی اس بات پر تھی کہ وہی بجھی بجھی سی شہناز ایک دم سے اتنی خوش کیسے ہو گئی??اپنی پسند کے لباس،زیورات خریدنے میں اسے اتنی خوشی کیوں محسوس ہو رہی تھی???
    پورا گھر برقی قمقموں سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔ہر کسی کے چہرے پر خوشی کے طوفان اٹھ رہے تھے۔
    بارات آگئی۔۔۔بارات آگئی۔۔۔شہناز کی سہیلیاں ہنستی مسکراتی ،اٹکھیلیاں کرتی ہوئی گھر میں داخل ہوئیں۔ شہناز کا باپ اور بھائی بارات کے اسقبال کے لیے چوراہے میں کھڑے ہو گئے!
    پورا خاندان شہناز کے بچھڑ جانے کے غم میں دل ہی دل میں خون کے آنسو رو رہا تھا۔
    شہناز کہاں ہے??? شہناز کی سہیلی نے شہناز کی ماں سے پوچھا!
    "ارے بیٹا وہ تو تمہارے ساتھ بیوٹی پارلر نہیں گئی تھی??شہناز کی ماں نے بوکھلاتے ہوئے جواب دیا!
    نہیں آنٹی میں تو ابھی یہاں پہنچی ہوں در اصل میری ماں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے ان کی دیکھ بھال میں مصروف تھی۔اور اس بات کا شہناز کو بھی علم تھا۔
    بیٹا جلدی سے جاو اور شہناز کو بیوٹی پارلر سے لے کر آو۔ شہناز کی ماں نے اسی کی سہیلی کو کہا! مگر دل ہی دل میں سوچوں کے اندھیرے طوفان میں اتر گئی!
    کچھ ہی دیر میں پتہ چلا کہ شہناز بیوٹی پارلر میں نہیں ہے!
    بارات واپس جا چکی تھی۔شہناز اپنی خواہش بتائے بغیر بہت سے چاہنے والوں کو غموں کے اندھیروں میں اتار کر جا چکی تھی۔ شہناز اپنے عاشق کے ساتھ روانہ ہو چکی تھی۔ کیوں کہ اس دن اس کے عاشق نے اسے بھاگ کر شادی کرنے کا مشورہ دے دیا تھا۔
    تب ایک طرف سے رونے کی آواز آرہی تھی اور کوئی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اس سے اچھا تھا یہ کلموہی پیدا ہی نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہناز کی ماں شاید سچ کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Last edited by **Sagar**; 17-08-2011 at 03:26 AM.
    sagar3 - Shehnaz

    جانےکیسا رشتہ ہےمیرا اسکیذاتکےساتھ
    وہذرا بھیخاموشہوتوسانس ٹھہرسی جاتی ہے




  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1181
    Rep Power
    21474971

    Default Re: Shehnaz

    ufff
    ....
    ghar se bhag janey walon ka anjaam bhot bura hota hai.
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  3. #3
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default Re: Shehnaz


    theak kaha ap ney
    in ki is muaashrey main koi izzat nahi hoti..
    Last edited by Raniii; 21-08-2011 at 10:17 PM.
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - Shehnaz

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Shehnaz

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •