Results 1 to 2 of 2

Thread: hamm aorr Murghii

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default hamm aorr Murghii

    ہم اور مرغی ۔۔ ناممکن کا ممکن

    ہم دل کے بہت نرم ہیں، کوئی بھی تکلیف دہ صورتحال دیکھی نہیں جاتی… ایک بار ہم گاڑی میں سبزی منڈی سے گزر رہے تھے تو بیگم کچھ پھل خریدنے کے لئے اتریں، اتنے میں میلے سے کپڑوں میں ملبوس ایک نہایت غریب سا شخص ہاتھ میں ایک مرغی تھامے ہمارے پاس آیا، اس نے اس مرغی کے خاندانی اوصاف اور اخلاق و کردار کے بارے میں ایک مختصر سی تقریر کے بعد ہم سے گزارش کی کہ اگر اس کے (یعنی شخص کے) مالی حالات دگرگوں نہ ہو گئے ہوتے تو وہ گھر کی پلی ہوئی اپنی پیاری مرغی کو کبھی نہ بیچتا، یہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ اور ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ہم سے اس کی دلدوز حالت دیکھی نہ گئی۔ اس نے جو قیمت بتائی وہ بھی بازار کی نسبت کچھ کم ہی تھی۔ لہٰذا ہم نے جبیب سے منہ مانگی رقم کے نوٹ دے کر مرغی لے لی اور وہ چلا گیا۔ بیگم واپس آئیں تو غصے سے بولیں… ”آخر آپ نے اس مرغی چور سے یہ چوری کی مرغی خرید ہی لی!“
    ہمیں اس بات سے دکھ پہنچا اور کہا … ”تمہیں کس نے بتایا کہ وہ مفلوک الحال شخص چور ہے؟؟“ بیگم نے کہا… ”یہ مفلوک الحال شخص ہر دوسرے تیسرے دن یہیں کھڑا ہوتا ہے اور ایک مرغی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے، آپ نے غور نہیں کیا؟ اس کے کاندھے پر ایک بڑا کپڑا بھی تھا جس سے وہ مرغی کو قابو کرتا ہے!“ …اب ہمیں بھی کچھ کچھ شک ہوا، لیکن وہ مرغی چوری کی تھی یا ڈاکے کی، ہم نے تو بہرحال پیسے دے کر خریدی تھی اس لئے اسے گھر لے گئے، بیگم نے بطور سزا ہم سے کہا… ”اب یہ زندہ مرغی خرید ہی لی ہے تو قصائی کہاں ڈھونڈتے پھریں گے، اسے ذبح بھی آپ ہی کیجئے!“ ہم لرز کر رہ گئے! ایسے خونخوار قسم کے کاموں سے ہمیشہ ہماری جان جاتی ہے… ہم تو…” ٹام اینڈ جیری“ والا کارٹون دیکھتے ہوئے بھی دعائیں کرتے ہیں کہ چوہا بھاگتے بھاگتے بلی کے ہاتھ نہ آ جائے ورنہ وہ اسے کھاجائیگی… اب اپنی نرم دلی کے بارے میں اور کیا کیا بتائیں… ایک بار ایک بچے کو انجکشن لگوانے کا مرحلہ درپیش تھا تو ڈھارس کے لئے ہم بیگم کو ساتھ لے گئے تھے مگر ڈاکٹر شاید چنگیز خاں تخلص کرتا تھا کہ ہمیں پیشگی نوٹس دیئے بغیر اس نے بچے کے بازو میں سوئی گھونپ دی، بچے سے زیادہ بلند چیخ ہماری تھی۔ وہ ظالم کم سے کم ہمیں بتا تو سکتا تھا۔ کہ انجکشن لگنے والا ہے آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئے!… اب آپ سوچئے کہ جو شخص دل کا اتنا نرم ہو وہ بھلا مرغی کیسے ذبح کرسکتا ہے مگر بیگم ایک بڑی سی چھری اور مرغی کے ٹکڑے رکھنے کے لئے ایک طشلہ لے آئی تھیں اور مرغی کی خوں ریزی پر اصرار کر رہی تھیں اچانک ہمیں ایک بہانہ سوجھ گیا اور ہم نے کہا…” یہ مرغی ذبح ہونے کے درمیان میں ہمارے ہاتھ سے نکل کر پھڑپھڑاتی ہوئی کمروں تک بھی آ سکتی ہے اور ہمارے کمروں میں ماشاء اللہ ’وال ٹو وال‘ دریاں بچھی ہوئی ہیں، وہ دریاں خون سے خراب بھی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا ہم اسے سامنے والے میدان میں لئے جاتے ہیں“۔ بیگم ہماری چالاکی نہ سمجھیں اور ہم مرغی کو باہر لے گئے۔ اب ہم میدان میں کھڑے کسی مرد میدان کا انتظار کر رہے تھے کہ مولانا قسم کی ایک شخصیت ہمارے قریب آئی، ہم نے انہیں بتایا کہ مرغی کو ذبح کرنے کا مرحلہ درپیش ہے۔ وہ مسکرائے اور بولے۔ ”کوئی بات نہیں، ہمارے ایک پھوپھا بھی ایسے ہی ڈرپوک تھے!“
    ہمیں ان کی یہ بات بہت بری لگی کیونکہ ڈرپوک ہم ہرگز نہیں ہیں بس ذرا دل کے کمزور ہیں۔ انہوں نے فوراً معذرت کی اور مرغی، چھری اور طشلہ ہمارے ہاتھ سے لے کر بولے… ”میں اسے ابھی ذبح کر دیتا لیکن خون کے چھینٹوں سے یہ سفید کپڑے خراب ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا لباس تبدیل کر کے اسے ذبح کروں گا اور ابھی ذرا دیر میں آپ کے گھر دے جاؤں گا، آپ کا گھر کون سا ہے؟“ ہم نے اشارے سے اپنے گھر کا دروازہ دکھایا اور وہ چلے گئے ہم وہیں گھر کی دہلیز پر بیٹھ گئے کہ ابھی بیس پچیس منٹ میں آ جائیں گے، شام ہوگئی مگر وہ مرد بزرگ نہیں پلٹے، سورج ہمیں ایک دہکتا ہوا طشلہ نظر آنے لگا پھر ہمارے چہرے کی طرح زرد ہو کر دھڑام سے غروب ہوگیا… اب ایک ہفتہ ہوگیا ہے اور کوئی صورت نظر نہیں آتی، بیگم ہمیں طعنے دیتی ہیں کہ مرغی جانے کا اتنا دکھ نہیں ہے مگر ان صاحب کو ڈھونڈکر کچن کی چھری اور طشلہ تو واپس لے آیئے لیکن ہم نے انہیں یہ شعر سنا کر صبر کی تلقین کر دی ہے کہ…
    ”آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
    اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا“
    اس دکھ کے ساتھ ہمیں یک گونہ خوشی بھی ہے کہ ہم مرغی ذبح کرنے کے سفّاک عمل سے بچ گئے ہماری طرح دل کے تمام مریضوں کو ایسے دردناک واقعات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے جن سے ہارٹ اٹیک ہو جانے کا اندیشہ ہو مگر شامت کبھی کبھی روپ بدل کر بھی آ جاتی ہے جیساکہ ہمارے ساتھ ہوا، اچھے خاصے بیٹھے تھے کہ بیگم نے ٹی وی آن کردیا اور بتایا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کا ٹی ٹوئنٹی میچ آ رہا ہے۔ ہم دل میں امیدوں اور آرزوؤں کے چراغ روشن کرکے میچ دیکھنے لگے، پاکستان کو پہلے بیٹنگ کا موقع ملا، آسٹریلیا کے بالرز چیتے کی طرح تیز رفتار ہیں اور ان کا ایک فاسٹ باؤلر تو ایسا شقی القلب ہے کہ اس نے ہمارے معصوم کھلاڑیوں پر ایک اوور میں دو دو باؤنسر تک کرا دیئے لیکن ہمارے جوانمردوں نے آخرکار 20اوورز میں 192 رنز بنا ہی لئے۔ ہماری ٹیم مطمئن تھی کہ اتنے زیادہ رنز وہ نہیں بنا سکیں گے۔ پاکستانیوں کا یہ خیال کسی حد تک درست بھی تھا کیونکہ آخری اوور میں ان کے بیٹسمین مائیکل ہسی کو پورے 23رن بنانے تھے پہلی گیند اس نے روک لی، اب پانچ گیندوں پر 23رنز بننا بالکل ناممکن نظر آتا تھا مگر وہ کم بخت فرنگی ایسا بے مروت نکلا کہ چند زمینی رنز کے بعد فضاء کی طرف متوجہ ہوگیا اور تین چھکے داغ دیئے، نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ٹیم یہ انتہائی اہم میچ ہارگئی اور ہم حوصلہ ہار گئے دل پر ہاتھ رکھ کر ہم نے ایک چیخ ماری اور بیگم سے کہا… ”جب تمہیں معلوم ہے کہ ہم دل کے مریض ہیں تو ایسا پریشر میچ کیوں دیکھنے دیا؟
    Last edited by Arslan; 06-08-2012 at 12:50 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: hamm aorr Murghii

    Waqayi Ye Biwiyaan Dil Ke Doray Ka Baayis Banti Hain

    Awesome Sharing
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •