Results 1 to 1 of 1

Thread: Tik Rote Rote

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Tik Rote Rote

    ٹک رو تے رو تے

    رونا اور گانا کسے نہیں آتا۔ مگر یہ اس زمانے کی بات ہے جب مرد گایا اور عورتیں رویا کرتی تھیں۔ تاریخ اس باب میں خاموش ہے کہ پھر بچے کیا کرتے تھے؟ ویسے ہم آج تک یہ گتھی سلجھانے میں ناکام رہے کہ مردوں کے گانے پر عورتیں رویا کرتی تھیں یا عورتوں کے رونے کو محلہ والوں سے چھپانے کے لئے مرد گانے لگتے تھے۔ خیر وجہ کچھ بھی ہو، اب اس توجیح کی قطعا“ ضرورت نہیں رہی۔ کیوں کہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ یہ مرد و زن کے مساوات کا دور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین و حضرات نے اپنے بیشتر “ فرائض“ ایک دوسرے سے بدل لئے ہیں اور “بقیہ فرائض“ بدلنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ آج کل خواتین نے گانے اور مردوں نے رونے کا فریضہ سنبھال لیا ہے۔
    رونے کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا“ بچوں کا رونا، عورتوں کا رونا اور مردوں کا (عورتوں کی طرح) رونا وغیرہ وغیرہ۔ بچے عموما“ آواز سے اور بلا آنسو روتے ہیں۔ بچوں کو اس طریقہ سے رونے میں اسی طرح ملکہ حاصل ہے، جس طرح ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم کو (رونے میں نہیں بلکہ گانے میں) صفر سے سو سال تک کے “بچے“ جب کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس ہمدردی کی آڑ میں انہیں دامے، درمے، یا سخنے کچھ "مطلوب" ہو تو وہ مختلف آوازوں کے ساتھ (بلا آواز ) رونا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ کبھی حالات کا رونا روتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسی کا۔ کبھی دوسروں کی زیادتی کا رونا روتے ہیں تو کبھی تقدیر کی ستم ظریفی کا۔ غرض کسی نہ کسی سبب رو دھو کر اپنا کام نکلوا لیتے ہیں۔۔۔۔ (اقتباس از انشائیہ " ٹک روتے روتے" تحریر یوسف ثانی، کتاب: "یوسف کا بکا جانا" مطبوعہ 2000ء)
    Last edited by Arslan; 06-08-2012 at 12:19 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •