Results 1 to 1 of 1

Thread: azzall Taa Abadd

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default azzall Taa Abadd


    اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے ۔
    یا باری تعالیٰ ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں ؟
    زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے ؟
    اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔
    ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے ۔آقائے دوجہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے۔
    جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔
    ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں ۔
    خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے،جب کہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
    ”بانو قدسیہ ” کی کتاب ”امر بیل ” سے لیا گیا اقتباس۔۔۔
    Last edited by Arslan; 06-08-2012 at 12:17 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •