Results 1 to 1 of 1

Thread: Ziddd

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Ziddd

    ضد ۔۔۔

    ضد کا لفظی مطلب کسی بات کا مخالف پہلو ہے ، ضد کرنے سے مراد کسی کی رائے کے خلاف

    رائے رکھتے ہوئے اس پر ڈٹے رہنا ہے ، اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ صرف بچوں کی خاصیت ہے تو

    یہ ہماری غلط فہمی ہو گی ، کیو نکہ بڑ ے بڑے معتبر ، معزز اور سمجھدار لوگ اس مرض

    کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں ۔سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضد کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی یا

    پھر ہر کوئی اپنے اندر ایک ضدی بچے کا عنصر ظاہراً یا پوشیدہ ، ضرور رکھتا ہے ۔

    یہ ممکن ہے کی ضد ، تکبر ، انا اور غرور جیسی “ مہلک “ باطنی بیماریوں کی وجہ سے

    اپنی انتہا کو پہنچ جائے ، ایسی صورت میں ضد میں کیا گیا صرف ایک فیصلہ ،

    زندگی بھر کا پچھتاوہ بن جاتا ہے ، جس سے صرف ایک انسان کی زندگی نہیں بلکہ اس

    کے ارد گرد لوگوں کی زندگیاں بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں +رہتیں ۔

    انسانوں کی طرح ۔ ضدّیں بھی اچھی بُری ہوتی ہیں ۔اور یہ بات یقینی ہے کہ اگر کوئی

    ضد پر ہے تو یا وہ “ اچھا “ ہے یا “ بُرا“ ۔۔۔اکثر و بیشتر بُرا بھی خود کو اچھا ہی سمجھتا

    ہے ۔اور بعض اوقات دو مخالف لوگ واقعتاً اپنی اپنی جگہ صحیح بھی ہوتے ہیں ۔

    والدین اور بچے کے درمیاں ضد کا کبھی نہ کبھی کوئی لمحہ ضرور ہر کسی کی زندگی کا

    حصہ بنتا ہے ۔بچپن میں ، لڑکپن میں ، نو جوانی میں یا آگے کبھی بھی ۔۔۔اب یہ بھی اکثر

    ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ بچے پیدائیشی طور پہ اپنے والدین کی “ ضد“ ہوتے ہیں۔

    ایسے بچوں کی زندگیاں خود سے ، گھر والوں سے ، ذہنی اور حقیقی جنگوں کا نمونہ

    بن جاتی ہیں ، ایسے بچے اکثر اپنی اور والدین کی سوچ میں کشمکش کی وجہ سے ،

    صحیح اور غلط کی پہچان نہیں کر پاتے ، اور ایسے بچوں کے والدین ، اپنے بچے کو

    سمجھاتے سمجھاتے ، اپنے غلط رویے کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔اور نتیجہ ۔۔۔

    ایک خوبصورت رشتے کی ڈور میں پیدا ہونے والا “ تناؤ“۔۔۔جس کے اثرات سے دونوں کو

    برابر کی تکلیف اور دکھ ۔۔۔اب یہ رشتہ والدین اور بچے کا ہو ، یا بڑے چھوٹے کا

    ۔ بہن بھائی کا ، ساس بہو کا ، نند بھاوج کا ، میاں بیوی کا ، استاد شاگرد کا ،

    ، دوست دشمن کا یا پھر نگراں حکومت اور مخالف پارٹی کا وغیرہ وغیرہ ضد کے

    بعد صرف “ دشمن ، دشمن “ کا رشتہ بن کے رہ جاتا ہے ۔

    یہ ہے ضد کا حاصل ، دونوں اطراف کا کہیں نہ کہیں غلط انداز، ہزار غلط فہمیاں

    پیدا کرتا چلا جاتا ہے ، اور دونوں کی ضد ، دونوں کو سوائے نقصان کے کچھ نہیں

    دیتی ۔ نقصان جو سالوں پہ محیط ہو جاتا ہے ، یادوں کو عزاب میں بدل دیتا ہے ، سانسوں

    پہ بھاری ہو جاتا ہے ،زندگی جب شرمندگی بن جاتی ہے ، حسرت مزاج کا حصہ ہو جاتی ہے اور

    ایک انمٹ تکلیف دہ تاریخ کے اس ایک لمحے کا ایسا زہر وجود میں سرایت کر جاتا ہے ،

    جس کا تریاک صرف تبھی ملتا ہے جب کوئی خود کا “ احتساب“ کرے ، اب یہ اللہ کے کرم

    پہ ہے کہ وہ کب کرے اور کیسے کرے ، یا پھر اس کو اس کی مہلت ملے بھی کہ نہیں !


    ہم سب انسان ہیں+، اور مادوں کی طرح ضد بھی ہماری ایک خاصیت ہے۔کم از کم ہم

    اگر ضد کرنا جانیں تو ضروری ہے کہ “ درگزر “ کرنا بھی سیکھیں ، آخر وہ بھی تو ہماری

    فطرت میں شامل ہے ۔۔۔اگر ساری عمر ضدوں میں ہی گزر گئی تو پھر اس کی باری کب آئے

    گی ؟؟؟ آخر کب ہم اپنی ضد کی “ ضد“ کو اجاگر کریں گے ؟؟؟ کم از کم ہم یہ تو دیکھ سکتے

    ہیں کہ ہم اپنی ضدوں میں صحیح کتنے فیصد ہیں ؟؟؟ کہیں ایسا نہ ہوکہ آنے والے کل میں

    ہم خود کو “غلط غلط“ کہہ کہہ کر دم توڑ دیں ، کہیں ایسا نہ ہو ہم ماضی کے اس ایک پل

    کو دوبارہ ڈھونڈ نے نکلیں تو مٹھی میں سرکتی ریت کے زرات کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے ۔۔۔

    خود پہ آنسو بہانہ بھی تب بے کار لگے ۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو ۔۔۔ بہت دیر ہو جائے !!!!

    بہت دیر ۔۔۔
    Last edited by Arslan; 09-08-2012 at 01:43 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •