Results 1 to 2 of 2

Thread: اللہ تعالیٰ کا قول کہ قیامت کا علم صرف اللہ

  1. #1
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    family ka sath
    Posts
    3,189
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    31 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474848

    Default اللہ تعالیٰ کا قول کہ قیامت کا علم صرف اللہ

    اللہ تعالیٰ کا قول کہ قیامت کا علم صرف اللہ &#
    اسحاق، جریر، ابی حیان، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر پورا ایمان رکھتا ہو اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھتا ہو قیامت اور حشر کو پورے طور پر ماننا پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا، شرک سے محفوظ رہنا، نماز ادا کرنا، زکوۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، اس کے بعد پھر پوچھا کہ احسان کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو اتنا ہی یقین رکھے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے اس کے بعد پوچھا قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا اس کو میں تم سے زیادہ نہیں جانتا ہاں یہ بتاتا ہوں کہ اس کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ عورت اپنا خاوند جنے گی یعنی بیٹا بڑا ہو کر اس کا خاوند و مالک بنے گا، کمیں اور جھوٹے لوگ بادشاہ بن جائیں گے اس کے بعد فرمایا کہ پانچ باتیں ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، ایک یہ کہ قیامت کب آئے گی؟ دوسرے یہ کہ بارش کب ہوگی؟ عورت کے رحم میں کیا ہے، اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا؟ آپ نے فرمایا اسے ذرا واپس لاؤ ہم نے دیکھا مگر نہیں ملا آپ نے فرمایا یہ جبریل تھے۔ لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1893 حدیث متواتر حدیث مرفوع

    محمد بن قدامة، جریر، ابوفروة، ابوزرعة، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہوتے پھر جو کوئی نیا شخص آتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان نہ سکتا۔ جس وقت تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہ پوچھتا۔ اس وجہ سے ہم لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چاہا کہ بیٹھنے کے واسطے ایک جگہ بنائی جائے کہ نیا آدمی آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان لے پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے ایک اونچا چبوترہ مٹی سے بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوتے۔ ایک دن ہم تمام لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنی جگہ تشریف فرما تھے اس دوران ایک آدمی حاضر ہوا کہ جس کا منہ (یعنی چہرہ) تمام لوگوں سے اچھا تھا اور جس کے جسم کی خوشبو سب سے بہتر تھی اور اس کے کپڑوں (یعنی لباس) میں کچھ بھی میل نہیں تھا اس نے فرش کے کنارے سے سلام کیا اور اس نے کہا السلام علیک یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آجا۔ وہ قرب آنے کی اجازت طلب کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دئیے اور کہا اے محمد! مجھ کو بتلا کہ اسلام کس کو کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی عبادت کرو اور یہ کہ خداوند قدوس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کرو اور نماز ادا کرو زکوة دو اور حج کرو بیت اللہ شریف کا اور رمضان المبارک کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کیا جس وقت میں یہ تمام باتیں کر لوں تو مسلمان ہو جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں! اس شخص نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا جس وقت ہم نے یہ بات سنی کہ وہ شخص کہہ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا تو ہم کو اس کی یہ بات بری لگی کیونکہ قصدا کیوں معلوم کرتا ہے۔ پھر وہ کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بتلا کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس پر یقین کرنا اور اس کے فرشتوں اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور یقین کرنا تقدیر پر۔ اس نے کہا کہ جس وقت میں ایسا کروں تو میں مومن ہو جاؤں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں۔ پھر اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا پھر اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بتلا کہ احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم خداوند قدوس کی اس طریقہ سے عبادت کرو جیسے کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اگر اس طرح سے عبادت نہ کر سکو تو (کم از کم) اس طرح عبادت کرو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا پھر وہ شخص کہنے لگا اے محمد! مجھ کو بتلا کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر (مبارک) جھکا لیا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے پھر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا اور سر اٹھایا پھر فرمایا جس سے تم دریافت کر رہے ہو وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتے۔ لیکن قیامت کی علامت یہ ہیں جس وقت تو مجہول جانور چرانے والوں کو دیکھے کہ وہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں اور جو لوگ اب ننگے پاؤں اور ننگے جسم پھرتے ہیں ان کو زمین کا بادشاہ دیکھے اور عورت کو دیکھے وہ اپنے مالک کو جنتی ہے تم سمجھ لو کہ قیامت قریب ہے۔ پانچ اشیاء ہیں کہ جن کا کہ کسی کو کوئی علم نہیں ہے علاوہ خداوند قدوس کے۔ پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم کہ جس نے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچا (نبی) بنا کر بھیجا ہے اور وہ کھانے والا اور خوش خبری دینے والا میں اس شخص کو تم سے زیادہ نہیں پہچانتا تھا اور بلاشبہ یہ حضرت جبرئیل تھے جو کہ دحیہ کلبی کی شکل میں تشریف لائے تھے۔
    کتاب سنن نسائی جلد 3 حدیث نمبر 1292

  2. #2
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default Re: اللہ تعالیٰ کا قول کہ قیامت کا علم صرف اللہ

    جزاک اللہ خیر

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •