Results 1 to 5 of 5

Thread: صدیق کی صداقت

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default صدیق کی صداقت

    Asalam o Alaikom...


    حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے۔

    وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم فنحاس اس اجتماع میں ایا تھا۔

    صدیق اکبر رضی الله نے فنحاس سے کہا اے فنحاس! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کر لے اللہ کی قسم تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں او تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل ......میں لکھی ہوئی پاتے ہو اس پر فنحاس کہنے لگا۔

    وہ اللہ جو فقیر ہے بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں۔ غرض فحناس نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا۔

    من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا ( سورہ البقرہ ٢٤٥) صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے مولا کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا:”

    اس مولا کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکر کی جان ہے اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا-“

    فنحاص دربار رسالت میں آگیا-اپنا کیس حکمران مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا- کہنے لگا:”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھئے! آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ اس اور اس طرح ظلم کیا ہے-“

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا:” آپ نے کس وجہ سے اس کے ٹھپڑمارا -

    “تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس اللہ کے دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا -اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم لوگ غنی ہیں-

    اس نے یہ کہا اور مجھے اپنے اللہ کے لئے غصہ آگیا -

    چنانچہ میں نے اس کا منہ پیٹ ڈالا -“یہ سنتے ہی فنحاص نے انکار کردیا اور کہا :” میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی-“

    اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی دینے والا کوئی موجود نہ تھا-

    یہودی مکر گیا تھا اور باقی سب یہودی بھی اس کی پشت پر تھے-

    یہ بڑا پریشانی کا سماں تھا-مگراللہ نے اپنے نبی کے ساتھی کی عزت وصداقت کا عرش سے اعلان کرتے ہوئے یوں شہادت دی-

    لَقَد سَمِعَ اَللَّہُ قَولَ الَّذِینَ قَالُو ااِنَّ اللَّہ َ فَقِیر وَنَحنُ اَغنِیَائُ(آل عمران : ۱۸۱)”

    اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں-“

    قارئین کرام ! ….صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مولا کی گستاخی پر رب کے دشمن کے طمانچہ مارا اور جب صدیق کی صداقت پہ حرف آنے لگا تو رب تعالیٰ نے صدیق کی صداقت کا علان عرش سے کر دیا۔۔

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: صدیق کی صداقت

    جزاک اللہ خیر

  3. #3
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    kahyyyyyyyy doooooooor
    Age
    36
    Posts
    2,200
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    304 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474846

    Default Re: صدیق کی صداقت

    Jazakallah

  4. #4
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    tanhao main
    Posts
    6,644
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1009 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474849

    Default Re: صدیق کی صداقت

    Jazakallah

  5. #5
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Ishq ki gehrae
    Posts
    236
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: صدیق کی صداقت

    JazakAllah
    very beautiful sharing

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •