ہم بصد ناز دل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بُھلائے بھی گئے

ہم تِرا ناز تھے، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بیچارہ تِرے سامنے لائے بھی گئے

ہم سے رُوٹھا بھی گیا، ہم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلّق کے مِٹائے بھی گئے

جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے

جون! دلِ شہرِ حقیقت کو اُجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توَہّم کے بسائے بھی گئے