بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْقَارِ+عَةُ ﴿١﴾ مَا الْقَارِ+عَةُ ﴿٢

کھڑکھڑا دینے والی (1) کیا ہے وه کھڑکھڑا دینے والی (2)

تفسیر

٢۔١ یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس سے قبل متعدد نام گزر چکے ہیں مثلاً اَ لْحاقَّۃُ، الطَّاَمَّۃُ، صَّاَخَّہُ، اَلْغَاشِیَۃُ، الْسَّاعَہُ، الْوَاقِعَۃُ وغیرہ، اسے الْقَارِعَۃُ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے دلوں کو بیدار اور اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے خبردار کر دے گی، جیسے دروازہ کھٹکھٹانے والا کرتا ہے۔

وَمَا أَدْرَ+اكَ مَا الْقَارِ+عَةُ ﴿٣﴾ يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَ+اشِ الْمَبْثُوثِ ﴿٤﴾

تجھے کیا معلوم کہ وه کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے (3) جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے (4)

تفسیر

٤۔١فراش، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مبثوث، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی قیامت والے دن انسان بھی پروانوں کی طرح پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہوں گے۔

وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ ﴿٥﴾

اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے (5)

تفسیر

عھن، اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، منفوش، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جسکی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اب آگے ان دوفریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔

فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ﴿٦﴾

پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے (6)

تفسیر

٦۔۱ موازین، میزان کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورہ أعراف۔آیت ۸ سورہ کہف (۱۰۵) اور سورہ انبیاء (٤۷) میں بھی گزراہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہوگا (فتح القدیر) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔

فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّ+اضِيَةٍ ﴿٧﴾

وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا (7)

تفسیر

۷۔۱یعنی ایسی زندگی جس کو وہ صاحب زندگی پسند کرے گا۔

وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ﴿٨﴾

اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے (8)

تفسیر

۸۔۱جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہوگا۔

فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ﴿٩﴾

اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے (9)

تفسیر

۹۔۱ہاویہ جہنم کا نام ہے اس کو ہاویہ اس لیے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام (ماں) سے اس لیے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لیے ماں، جائے پناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی دماغ کے ہیں۔ جہنمی، جہنم میں سرکے بل ڈالے جائیں گے۔(ابن کثیر)

وَمَا أَدْرَ+اكَ مَا هِيَهْ ﴿١٠﴾

تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے (10)

تفسیر

١٠۔١ یہ استفہام اس کی ہو لناکی اور شدت عذاب کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ انسان کے وہم و تصور سے بالا ہے انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کی کنہ نہیں جان سکتے۔

نَارٌ+ حَامِيَةٌ ﴿١١﴾

وه تند وتیز آگ (ہے) (11)

تفسیر

١١۔١ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ انسان دنیا میں جو آگ جلاتا ہے، یہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ٦٩ درجہ زیادہ ہے (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ لنار وأنھا مخلوقۃ مسلم ، کتاب الجنۃ، باب فی شدۃ حرنار جھنم) ایک اور حدیث میں ہے کہ "آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے، اللہ تعالٰی نے اسے دو سانس لینے کی اجازت فرما دی۔ ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں پس جو سخت سردی ہوتی ہے یہ اس کا ٹھنڈا سانس ہے، اور نہایت سخت گرمی جو پڑتی ہے، وہ جہنم کا گرم سانس ہے"(بخاری، کتاب و باب مذکور) ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جب گرمی زیادہ سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے۔