عربی زبان میں اخلاص خالص کرنے کو کہتے ہیں، شریعت کی اصطلاح میں کسی بھی نیک عمل کی ادائیگی میں ”سچی نیت“کا نام اخلاص ہے ۔ سچی نیت کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی نیک عمل کیا جائے اس سے صرف اور صرف اللہ رب العالمین کی خوشنودی مقصود ہو، اس میں ریاونمود اور کسی دنیاوی غرض کی آمیزش نہ ہو۔

شرعی نقطہ نظر سے جب نیت میں آمیزش کی گنجائش نہیں ہے تو ان اعمال کی کیا حیثیت جو اخلاص سے بالکل عاری اور دنیاوی اغراض میں سے کسی غرض کے لیے ہوں ۔

اخلاص تمام نیک اعمال کی جان ہے۔ اگر کسی نیک عمل میں اخلاص ہے تو قابل قبول ہے ورنہ نہیں۔ کیونکہ اخلاص ہی اصل ایمان ہے۔ رسول اللہا سے پوچھا گیا: یارسول اللہ ! ماالایمان ؟ قال : الاخلاص” اے اللہ کے رسول ا ایمان کیا ہے؟ آپ انے فرمایا: اخلاص“۔ (بیہقی ،ترغیب)

لہذا جب اخلاص ہی ایمان ہے تو لازمی بات ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی نیک عمل قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔ یہ بات پتھر کی لکیر ہے ۔
حضرت ابوہریرة رضی ا للہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور شہید ان نعمتوں کا اقرار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا ” تو نے نعمتوں کا حق ادا کرنے کے لیے کیا عمل کیا ؟“ وہ کہے گا:” میں نے تیری راہ میں جنگ کی حتی کہ شہید ہوگیا “ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ” تو جھوٹ کہتا ہے تو نے بہادر کہلوانے کے لیے جنگ کی، سو دنیا میں تجھے بہادر کہا گیا “ پھر (فرشتوں کو ) حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

اس کے بعد وہ آدمی لایا جائے گا جس نے خود بھی علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور قرآن پڑھا، اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ( عالم) ان کا اقرار کرے گا ، تب اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا ” ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے تو نے کیا عمل کیا ؟“ وہ عرض کرے گا ” یا اللہ ! میں نے علم سیکھا ، لوگوں کو سکھایا اور تیری خاطر لوگوں کو قرآن پڑھ کرسنایا “ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ” تو نے جھوٹ کہا ، تو نے علم اس لیے سیکھا تاکہ لوگ تمہیں عالم کہیں اور قرآن اس لیے پڑھ کر سنایاتا کہ لوگ تجھے قاری کہیں سو دنیا نے تمہیں عالم اور قاری کہا “ پھر (فرشتوں کو) حکم ہوگا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

اس کے بعد تیسرا آدمی لایا جائے گا جسے دنیا میں خوشحالی اور ہر طرح کی دولت سے نوازا گیا تھا اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں جتلائے گا وہ شخص ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ تعالیٰ سوال کرے گا”میری نعمتوں کو پا کر تو نے کیا کام کئے؟“ وہ کہے گا ” یا اللہ میں نے تیری راہ میں ان تمام جگہوں پر مال خرچ کیا جہاں تجھے پسند تھا “ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا” تو نے جھوٹ کہا، تو نے صرف اس لیے مال خرچ کیا تاکہ لوگ تجھے سخی کہیں اور دنیا نے تجھے سخی کہا“ پھر( فرشتوںکو) حکم ہوگا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا “۔ (صحیح مسلم ، باب من قاتل للریاءوالسمعةاستحق النار ، حدیث نمبر 1905)

لہذا جب اخلاص ہی ایمان ہے تو لازمی بات ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی نیک عمل قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔ یہ بات پتھر کی لکیر ہے ۔

نیک اعمال میں سب سے افضل عبادات ہیں خواہ وہ لسانی ہوںیا قلبی ، جسمانی ہوں یامالی،کسی بھی قسم کی عبادت ہو اس میں اخلاص کا ہونا ضروری ہے ۔ کیونکہ اخلاص کے بغیر جب دیگر نیک اعمال مقبول نہیں ہوسکتے تو عبادت بدرجہ اولیٰ قبول نہیں ہوسکتی ۔ لہذا اگر اخلاص ہے تو ٹھیک ورنہ عبادت ‘عبادت نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کی نافرمانی ہوگی جو باعثِ عذاب بھی ہے۔ ارشاد ربانی ہے

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ، وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ، قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿(سورة الزمر11۔13)

”اے نبی (ا) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میںاللہ کی عبادت و اطاعت گذاری کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماںبردار بن جاؤں۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“

ان آیات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ عبادت خالصتاً اللہ کے لیے ہونی چاہیے ۔ یہی اس کی مطلوبہ اطاعت گزاری ہے۔ اگر عبادت خالصتاًاللہ کے لیے نہیں ہے تو یہ عبادت نہیں بلکہ اللہ کی نافرمانی ہے جو باعث عذاب ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نیک کام یا عبادت کرتے ہوئے ہمارے جسموں اور صورتوں کو نہیںدیکھتا بلکہ صرف دلوں کو دیکھتا ہے کہ ان میں اخلاص ہے یا نہیں۔ اگر اخلاص ہے تو ٹھیک ورنہ عمل ناقابل قبول ۔

ارشاد نبوی ہے: ان اللہ لاینظر الی اجسامکم ولا الی صورکم ولکن ینظر الی قلوبکم(مسلم)

”(نیک کام یا عبادت کرتے ہوئے ) اللہ تعالی تمہارے جسموںاور صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ صرف دل دیکھتا ہے ۔“

قربانی ایک نیک کام اور عبادت ہے، اس سلسلے میں

ارشاد ربانی ہے : لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقوَی مِنکُم ﴿(سورة الحج 37)

”اللہ کو قربانیوں کے گوشت اور ان کے خون نہیں پہنچتے بلکہ اسے تو تمہارے دلوں کی پرہیزگاری پہنچتی ہے ۔ “

یہی معاملہ تمام نیک کاموں اور عبادات کے ساتھ ہے ، اگر اخلاص اور تقوی ہے تو اللہ رب العالمین کے ہاں تمام اعمال مقبول ہیں نہیں تو نہیں ۔

اخلاص کے بہت سارے فوائد ہیں جن میں چند درج ذیل ہیں:

(1) اخلاص سے نیک اعمال قبول ہوتے ہیں ۔

(2) اخلاص آدمی کو نفاق اور شرک سے بچاتا ہے ۔

(3) اخلاص سے ضبط نفس کی صفت وحقیقت پیدا ہوتی ہے ۔

(4) اخلاص والے سے اللہ تعالی خوش رہتا ہے ۔

(5) اخلاص والوں کی برکت سے اللہ تعالی اس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی )

(6) اخلاص سے پر عمل وسیلہ کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر اس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو مصیبت دور ہوتی ہے ۔ (بخاری )

(7) پرخلوص نیت پر ثواب ملتا ہے ۔ اگر آدمی نے کسی کام کی سچی نیت کی لیکن کسی وجہ سے وہ کام نہیں کرسکا تو محض نیت کی وجہ سے ایک ثواب ملتا ہے اور اگر کرلے تو دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے (بخاری)

اللہ تعالی ہمیں اخلاص کا پیکر بننے کی توفیق دے ۔ آمین —