ة

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

اس کے مدنی اور مکی ہونے میں اختلاف ہے ، اس کی فضیلت میں معتدد روایات منقول ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ۔

إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْ+ضُ زِلْزَالَهَا ﴿١﴾

جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی (1)

تفسیر

١۔١ اس کا مطلب ہے سخت بھو نچال سے ساری زمین لرز اٹھے گی اور ہرچیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، یہ اس وقت ہوگا جب پہلا نفخہ پھونکا جائے گا۔

أَخْرَ+جَتِ الْأَرْ+ضُ أَثْقَالَهَا ﴿٢﴾

اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی (2)

تفسیر

٢۔١ یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی اور اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہوگا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔

وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا ﴿٣﴾

انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟ (3)

تفسیر

۳۔۱یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔

يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَ+هَا ﴿٤﴾

اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی (4)

تفسیر

٤۔۱ یہ جواب شرط ہے ۔حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی اور پوچھا کہ جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہوگا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔(ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ وتفسیر سورۃ اذازلزلت ۔ مسند احمد 374/2 )

بِأَنَّ رَ+بَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا ﴿٥﴾

اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا (5)

تفسیر

۵۔۱یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ تعالٰی عطا فرمائے گا اس لیے اس میں تعجب والی بات نہیں۔، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالٰی یہ قوت پیدافرمادے گا، زمین کو بھی اللہ تعالٰی متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔

يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ+ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَ+وْا أَعْمَالَهُمْ ﴿٦﴾

اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں (6)

تفسیر

٦۔۱یصدر، یرجع (لوٹیں گے) یہ ورود کی ضد ہے یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف ، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ اشتاتا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں، بعض بےخوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتیوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہوگی۔ بیض کا رخ دائیں جانب ہوگا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان ومذاہب اور اعمال وافعال کی بنیاد پر ہوں گے۔
٦۔١ یہ متعلق ہے یَصدُرُ کے یا اس کا تعلق اَوحَٰی لَھَا سے ہے ۔ یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ+ةٍ خَيْرً+ا يَرَ+هُ ﴿٧﴾

پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا (7)

تفسیر

۷۔۱پس وہ اس سے خوش ہوگا۔

وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ+ةٍ شَرًّ+ا يَرَ+هُ ﴿٨﴾

اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا (8)

تفسیر

۸۔۱وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ذرۃ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پر جو مٹی لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گردوغبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسراشخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر,