Results 1 to 3 of 3

Thread: کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو


    کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو
    مرے نہ ہونے سے راحت ہوئی زمانے کو

    اب اس میں جان مری جائے یا رہے، صیاد!
    بہار میں تو نہ چھوڑوں گا آشیانے کو

    چلا نہ پھر کوئی مجھ پر فریب ہستی کا
    لحد تک آئی اجل بھی مرے منانے کو

    فلک! ذرا اس بے بسی کی داد تو دے
    قفس میں بیٹھ کے روتا ہوں اشیانے کو

    وفا کا نام کوئی بھول کر نہیں لیتا
    ترے سلوک نے چونکا دیا زمانے کو

    قفس کی یاد میں پھر جی یہ چاہتا ہے جگر
    لگا کے آگ نکل جاؤں آشیانے کو

    جگر مراد آبادی





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Karachi....
    Posts
    31,280
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6917 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474875

    Default Re: کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو

    bohat Khoob!!


    Ik Muhabbat ko amar karna tha.....

    to ye socha k ..... ab bichar jaye..!!!!


  3. #3
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    *In The Stars*
    Posts
    18,093
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1271 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474862

    Default Re: کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو

    Very Nice sharinG....




    Yahi Dastoor-E-ulfat Hai,Nammi Ankhon,
    Mein Le Kar Bhi,

    Sabhi Se Kehna Parta Hai,K Mera Haal,
    Behter Hai...!!


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •