Results 1 to 2 of 2

Thread: سورة الضّحیٰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لہ

  1. #1
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    tanhao main
    Posts
    6,644
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1009 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474849

    Default سورة الضّحیٰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لہ



    سورة الضّحیٰ

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

    ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے دو تین راتیں آپ نے قیام نہیں+ فرمایا ، ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم معلوم ہوتا ہے کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے ، دو تین راتوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ تیرے قریب نہیں آیا ۔ جس پر اللہ نے یہ سورت نازل فرمائی (صحیح البخاری ، تفسیر سورۃ الضحٰی ) یہ عورت ابو لہب کی بیوی ام جمیل تھی (فتح الباری )

    وَالضُّحَىٰ ﴿١﴾

    قسم ہے چاشت کے وقت کی (1)

    تفسیر

    ١۔١ چاشت ضّحیٰ اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔

    وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ﴿٢﴾

    اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے (2)

    تفسیر

    ۲۔ ۱ سَجَى کے معنی ہیں سَکَنَ ، جب ساکن ہو جائے، یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہرچیز ساکن ہو جاتی ہے۔

    مَا وَدَّعَكَ رَ+بُّكَ وَمَا قَلَىٰ ﴿٣﴾

    نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے (3)

    تفسیر

    ۳۔۱جیسا کہ کافر سمجھ رہے ہیں۔

    وَلَلْآخِرَ+ةُ خَيْرٌ+ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ ﴿٤﴾

    یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا (4)

    تفسیر

    ٤۔١ یا آخرت دنیا سے بہتر ہے، دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔

    وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَ+بُّكَ فَتَرْ+ضَىٰ ﴿٥﴾

    تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا (5)

    تفسیر

    ٥۔١ اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر و ثواب مراد ہے، اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لئے ملے گا۔

    أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ﴿٦

    کیا اس نے تجھے یتیم پا کر جگہ نہیں دی (6)

    تفسیر

    ٦۔١ یعنی باپ کے سہارے سے بھی محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔

    وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ ﴿٧﴾

    اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی (7)

    تفسیر

    ٧۔١ یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لئے سرگرداں تھا۔

    وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ ﴿٨﴾

    اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟ (8)

    تفسیر

    ۸۔۱تونگر کا مطلب ہے کہ اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بےنیاز کر دیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “تونگری ، ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (صحیح مسلم ، کتاب الزکوۃ ، باب لیس الغنی عن کثرۃ العرض )

    فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ+ ﴿٩﴾

    پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر (9)

    تفسیر

    ۹۔۱بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔

    وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ+ ﴿١٠﴾

    اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ (10)

    تفسیر

    ۱۰۔۱یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر، بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔

    وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَ+بِّكَ فَحَدِّثْ ﴿١١﴾

    اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره (11)

    تفسیر

    ۱۱۔۱یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلا ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت وتونگری عطا کی وغیرہ۔ انہیں جزبات تشکر و ممنونیت کے ساتھ بیان کرتا رہ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے انعامات کا تذکرہ اور ان کا اظہار اللہ کو پسند ہے لیکن تکبر اور فخر کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کے فضل و کرم اور احسان سے زیر بار ہوتے ہوئے اور اس کی قدرت و طاقت سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہ کر دے ۔ —

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: سورة الضّحیٰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لہ

    jazakALLAH khair....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •