Results 1 to 2 of 2

Thread: شوق سے لخت جگر نور ِ نظر پیدا کرو

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default شوق سے لخت جگر نور ِ نظر پیدا کرو

    سید ضمیر جعفری۔اردو ادب و مزاح کا ایک بہت بڑا نام،ان کی یہ غزل آج نظر سے گزری سوچا آپ کے ساتھ شئیر کروں۔۔۔۔۔


    شوق سے لخت جگر نور ِ نظر پیدا کرو
    ظالمو ! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو

    ارتقا تہذیب کا یہ ہے کہ پھولوں کے بجاۓ
    توپ کے دھڑ،بم کے دھڑ،راکٹ کے سر پیدا کرو

    میں بتاتا ہوں زوال اہل یورپ کا پلان
    اہل یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو

    میری دشواری کا کویٔ حل مرے چارہ گرو
    جلد تر پیدا کرو اور مختصر پیدا کرو

    میری درویشی کے جشن تاجپوشی کے لیے
    ایک ٹوپی او ر کچھ مرغی کے پر پیدا کرو

    خضرت ِ اقبال کا شاہین تو کب کا اٌڑ گیا
    اب کویٔ اپنا مقامی جانور پیدا کرو


    سید ضمیر جعفری






    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default Re: شوق سے لخت جگر نور ِ نظر پیدا کرو

    heeheh nich
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - شوق سے لخت جگر نور ِ نظر پیدا کرو

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •