سورة اللیْل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾

قسم ہے اس رات کی جب چھا جائے (1)

تفسیر

۱۔۱یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔

وَالنَّهَارِ+ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾

اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو (2)

تفسیر

۲۔۱۔ یعنی رات کا اندھیرا ختم ہو جائے اور دن کو اجالا پھیل جائے۔

وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ+ وَالْأُنثَىٰ ﴿٣﴾

اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا (3)

تفسیر

٣۔١ یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی ہے، کیونکہ مرد عورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے مَا موصولہ ہے بمعنی الذی

إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿٤﴾

یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے (4)

تفسیر

٤۔١ یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔ لَشَتَّى، لشَتَّیت کی جمع ہے جیسے مَرِیض کی جمع مَرضَٰی

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ﴿٥﴾

جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) (5)

تفسیر

۵۔۱یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔

وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾

اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا (6)

تفسیر

٦۔۱یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقوی اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔

فَسَنُيَسِّرُ+هُ لِلْيُسْرَ+ىٰ ﴿٧﴾

تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے (7)

تفسیر

۷۔ ۲ يُسْرَى کا مطلب نیکی اور اَلخَصلَۃُ الحسنَٰی ہے یعنی ہم اس کو نیکی اور اطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لیے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ (فتح القدیر)

وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾

لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی (8)

تفسیر

۸۔۱یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بےپرواہی کرے گا۔

وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾

اور نیک بات کی تکذیب کی (9)

تفسیر

۹۔۱یا آخرت کی جزاء وسزا اور حساب وکتاب کا انکار کرے گا۔

فَسَنُيَسِّرُ+هُ لِلْعُسْرَ+ىٰ ﴿١٠﴾

تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے (10)

تفسیر

۱۰۔ ۱ عُسْرَى تنگی سے مراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے، یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے، قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتا دیتا ہے یہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “تم عمل کرو ، ہر شخص جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، وہ اس کے لیے آسان کر دیا جاتا ہے ، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے ، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے ، اس کے لیے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں “ (صحیح البخاری تفسیر سورۃ اللیل )

وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَ+دَّىٰ ﴿١١﴾

اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا (11)

تفسیر

۱۱۔۱یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔

إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ ﴿١٢﴾

بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے (12)

تفسیر

۱۲۔۱یعنی حلال اور حرام، خیر و شر، ہدایت وضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کر دیا)

وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَ+ةَ وَالْأُولَىٰ ﴿١٣﴾

اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے (13)

تفسیر

١٣۔١ یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

فَأَنذَرْ+تُكُمْ نَارً+ا تَلَظَّىٰ ﴿١٤﴾لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿١٥﴾ الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾

میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے (14)جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا (15) جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا (16)

تفسیر

2 اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے)استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے ۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو ، وہ جہنم میں نہیں+جائے گا ۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی ، جن کو اللہ تعالٰی کچھ سزا دینا چاہے گا کچھ عرصے کے لیے جہنم میں جائیں گے ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ملائکہ اور دیگر صالحین کیی شفاعت سے نکال لیے جائیں گے ، یہاں+حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں ، جہنم دراصل ان ہی کے لیے بنائی گئی ہے ، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے داخل ہوں گے ۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلان جہنم میں جائٰں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے نہیں+جائیں گے بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہو گا ۔ (فتح القدیر)

وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾

اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا (17)