قرآنی لفظ ’رحمان ‘
علامہ سيد سلمان ندوى ( رحمہ اللہ)

خدا كے ليے رحمان كا لفظ اسلام سے پہلے عام طور پر عربوں ميں مستعمل نہ تھا ، اصل ميں یہ عبرانى لفظ ہے اور صرف يہود و نصاری اور بعض ديگر ارباب مذہب اس كو بولتے تھے ، چنانچہ يمن كے آخرى كتبات ميں رحمٰن ہی كا نام ملتا ہے ۔ سد عرم كے عيسائى كتبہ كا آغاز "بنعمة الرحمن الرحيم " سے ہوتا ہے ۔ اسى ليے اسلام نے جب ابتداءاً رحمٰن كا نام ليا تو قريش كو اچنبھا ہوا کہ يہ کون سا نيا نام ہے ؟ صلح حديبيہ ميں حضرت علي رضي اللہ عنہ نے عہد نامہ كى پيشانى پر بسم اللہ الرحمٰن الرحيم لكھا تو قريش نے ماننے سے انكار كيا كہ ہم رحمان كو نہیں جانتے ۔

قرآن مجيد ميں قريش كے اس انكار كى تصريح مذكور ہے :

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا (60) سورة الفرقان
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان كو سجدہ كرو تو كہتے ہیں رحمان كيا ہے ، تو جس كو كہے گا اس كو ہم سجدہ كريں گے ، اس سے ان كى نفرت ميں اور ترقى ہوتی ہے ۔

.....وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ (36) سورة الانبياء رحمٰن كى ياد سے وہ منكر ہیں ۔

قرآن نے ان كو بتايا كہ خدا كے ليے تمام اچھے نام بولے جا سكتے ہیں ، اللہ اور رحمان ايك ہی ذات كے مختلف نام ہیں :
قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا (110) سورة بنى اسرائيل
كہہ دے كہ اللہ كہہ كر پکارو يا رحمٰن كہہ كر پکارو اس كے ليے سب اچھے نام ہیں ۔

قرآن کے ہر سورہ كا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحيم سے ہوتا ہے ، ہمارے مفسرين نے رحمان اور رحيم دو ہم معنى صفتوں كى يكجائى كى متعدد تاويليں كى ہیں اور ان دونوں الفاظ كے معانى كے درميان نہا يت نازك اور دقيق فرق نكالے ہیں ، ليكن ہمارے نزديك سب كوہ كاوى و موشگافى ہے ۔ قرآن كے استعمال سے صاف ظاہر ہوتا ہے كہ اس نے رحمان كا استعمال بطور صفت كے نہیں، بطور علم كے كيا ہے ۔ چنانچہ تمام قرآن ميں 53 دفعہ یہ نام خدا كے ليے آيا ہے اس بناء پر اس كو صفت قرار دينا صحيح نہیں ہے ۔ سورہ بنى اسرائيل كى اوپر والى آيت سے یہ سمجھا جا سكتا ہے كہ رحمان خدا كى صفت نہيں بلكہ علم ہے ۔

ہم سمجھتے ہیں كہ عرب ميں دو متضاد جماعتيں تھیں ، جن ميں سے ايك اپنے معبود كو اللہ اور دوسرى رحمٰن كہتى تھی ۔ اسلام ان دونوں كو يكجا كرتا ہے كہ تم جس كو اللہ كہتے ہو اور وہ جس كو رحمٰن كہتے ہیں وہ حقيقت ميں ايك ہی ذات كى دو تعبيريں ہیں اور يہ باہمی اختلاف محض نزاعِ لفظى ہے ۔ اس بنا پر بسم اللہ الرحمن الرحيم كے معنى ہمارے نزديك يہ ہیں : " ہم اپنا كام اس خدا ( اللہ) كے نام سے شروع كرتے ہیں جس كا دوسرا نام رحمن ہے، اور جو رحمت والا ہے ۔"

بسم اللہ اولا وآخرا

اقتباس از : تاریخ ارض القرآن ، علامہ سيد سلمان ندوى ( رحمہ اللہ)