Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 13

Thread: Kuch Sadaat Hassan Minto Ke Bare Mai

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Kuch Sadaat Hassan Minto Ke Bare Mai

    اسلام علیکم

    برسی سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955

    سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے ۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار ہے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھا جس نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی۔ افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دینا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ درخوراعتناء نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں تھے ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود تھی۔

    منٹو کے حوالے سے جناب
    جناب محمد حمید شاہد کی ایک تحریر جس میں انہوں نے منٹو کا احاطہ بہت ہی خوبی سے کیا ہے ۔




    حسن عسکری نے لکھا تھا:
    ”منٹو تو ایک اسلوب تھا.... لکھنے کا نہیں جینے کا۔“
    اُس نے یہ بھی لکھا تھا:
    ”واقعی منٹو بڑی خوفناک چیز تھا ۔ وہ ایک بغیر جسم کے روح بن کر رہ گیا تھا....منٹو سوچتا تو احساسات اور جسمانی افعال کے ذریعہ ہی تھا۔ لیکن یہ چیز وہ تھی جس کے متعلق اسپین کے صوفیوں نے کہا ہے کہ جسم کی بھی ایک روح ہوتی ہے ‘ یہ روح منٹو نے پالی تھی....منٹو نے اپنی روح کو بالکل ہی بے حفاظت چھوڑ دیا تھا۔ ہر چیز منٹو تک پہنچتی تھی ۔ اور اتنے زور کا تصادم ہوتا کہ وہ چکرا کے رہ جاتاتھا“
    تو یوں ہے کہ ہندوستان کے ٹوٹ کر آزاد ہونے اورمسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کے قیام کے واقعات بھی ایسے تھے جن کا تصادم منٹو کی روح سے ہوا تھا ‘ اور تصادم اتنے زور کا تھا کہ وہ چکرا کر رہ گیا تھا۔ یہ جسے میں نے چکرا جانا کہا ہے‘ فتح محمد ملک نے اسے اپنی نئی کتاب” سعادت حسن منٹو: ایک نئی تعبیر“ میں بدل جانا لکھا ہے ۔ خود پروفیسر ملک ہی کے الفاظ میں:
    ” پاکستان کے قیام نے منٹو کے فکرواحساس کی دُنیا کو منقلب کر کے رکھ دیا تھا“
    وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ :
    ”پاکستان پہنچتے ہی منٹو نے نئی زندگی کے نئے ممکنات کو کھنگالنا شروع کر دیا تھا۔“
    وہ نئے ممکنات کیا تھے ان پر اس کتاب کے چھ نئے اور ایک پچاس سال پرانے مضمون میں تفصیل سے بات کی گئی ہے ۔ اور ساتھ ہی ان اہم تحریروں کو ضمیمہ جات کی صورت بہم کردیا گیا ہے جو اس موضوع پر معاون ہو سکتی تھیں ۔ ہم دیکھتے ہیںکہ قیام پاکستان کے بعد تبدیل ہو جانے والے منٹو کو ممتاز شیریں نے بہت پہلے شناخت کرلیا تھا ۔اس نے ”منٹو کا تغیر اور ارتقا“ میں تقسیم کے بعد کے دور کو منٹو کی اَفسانہ نگاری کا نیا دور قرار دیا تھا ۔ صرف وقت کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی اس دورانئے میں اسے منٹو اپنی تخلیقات میں بدلا ہوا نظر آیا تھا۔ اس کتاب میںپروفیسر ملک کی دلچسپوں کا محور بھی یہی تبدیلی رہا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ منٹو کی ہر اس تحریر سے بھر پور توجہ کے ساتھ گزرے ہیںجو منٹو نے پاکستان آنے کے بعد لکھی تھی۔
    ”منٹو کی مثالیت پسندی‘ والے باب میں وہ ’باسط‘ افسانے کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ یہ منٹو کا کوئی اہم اَفسانہ نہیںبنتا ‘ بلکہ میں اسے اس کے انتہائی کمزور افسانوں میں شمار کرتا ہوں‘ جو کچھ منٹو اس افسانے میں باسط کے ذریعے دکھا رہا تھا وہ مثال بنانے کو درست سہی مگر ہماری اپنی تہذیبی روےے کی سدھائی ہوئی جبلت اور نفسیات سے مطابقت نہ رکھتا تھا تاہم پروفیسر ملک اس کے ذریعے تبدیل شدہ منٹو کی مثالیت پسندی کو دکھایا دیا ہے اور یہ بھی بتادیا ہے کہ منٹو نے اس نئی مملکت میں کس سطح کے احترام انسانیت کا خواب دیکھا تھا۔
    ” منٹوکی پاکستانیت“ کا عنوان پانے والا مضمون جہاں منٹو کے لکھے ہوئے شیام کے قلمی خاکے ”مرلی کی دھن“ سے معنی اخذ کرتا ہے وہیں پروفیسر ملک اس کے افسانوں ”سہائے“ اور ”دو قومیں“ سے ایسے منٹو کو تلاش کر لاتے ہیں جو روحانی اور تخلیقی سطح پر یہ ثابت کررہا ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرف آنا اس کا شعوری فیصلہ تھا اور بعد ازاں پاکستان کی روحانی شناخت کو قائم رکھنا اس کی اصل ترجیح بن گیا تھا۔ منٹو بدل گیا تھامگر اس سر زمین کے لوگوں کے رویے نہیں بدلے تھے اور اس پر منٹو برہم ہوتا تھا ۔ پر وفیسر ملک کا کہنا ہے کہ برطانوی تربیت یافتہ حکمرانوں نے بہت جلد ہمیں عملاً دوبارہ مغربی طاقتوں کا غلام بنادیا تھا جب کہ منٹو کی پاکستانیت کو یہ بات گورا نہ تھی ۔ اس صورت حال پر منٹو نے صدائے احتجاج بلند کی تھی.... اپنے افسانوں میں.... چچا سام کے نام اپنے خطوط میں....اور اپنے مضامین میں ۔ جابجا منٹو کی تحریروں میں اس احتجاجی لے کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے ہم منٹو کی سچی پاکستانیت کو بھی شناخت کر سکتے ہیں۔
    منٹو اس بات پر فخر کرتا تھا کہ وہ کشمیری تھالہذا یہ کیوں کر ممکن تھا کہ وہ کشمیریوں کی غلامی پر کچھ نہ کہتا ۔ پروفیسر ملک نے اپنے مضمون” سعادت حسن منٹو اور جنگ آزادی ءکشمیر“ میں بتایا ہے کہ منٹو تنازعہ کشمیر میں پاکستان کو حق بجانب سمجھتا تھا ۔ان کہنا ہے کہ منٹو نے اَفسانہ ”آخری سلیوٹ“ میں کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت جنگ کی ذمہ داری برطانوی استعمار ڈالی اور ” چچا منٹو کے نام بھتیجے کا خط “ میںاس مسئلے کو نہ سلجھانے کا گناہ گار اقوام متحدہ کو ٹھہرایا ۔انہوں نے اِس مضمون میں منٹوکے اَفسانہ ” ٹیٹوال کا کتا“ پر بھی بات کی ہے ۔ یہ وہ اَفسانہ ہے کہ ہمارے ہاں کے دانش ور اس کی گمراہ کن تاویلیں کرتے ہوئے نہیں شرماتے تاہم پروفیسر ملک کے مطابق یہ اَفسانہ بتاتا ہے کہ نہرو ماﺅنٹ بیٹن گٹھ جوڑ‘ نے پرانے دوست فوجیوں کو ایک دوسرے کے مقابل کر دیا‘ جب کہ حکومتوں کی نااہلیوں نے اس جنگ کو طویل تر کرکے نتیجہ خیز نہیں ہونے دیا تھا اور صورت یہاں تک پہنچ گئی کہ بے مصرف گولی چلنے لگی ۔ کشمیر پر پاکستانی موقف سے منٹو کی ہم آہنگی کے ثبوت کے طور پر پروفیسر ملک نے اُس کی اُس تحریر کی بھی نشاندھی کی ہے جس میں منٹو نے اپنے محبوب ہندو دوست شیام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا:
    ” پیارے شیام‘ میں بمبئے ٹاکیز چھوڑ کر چلا آیا تھا۔ کیا پنڈت جواہر لال نہرو کشمیر نہیں چھوڑ سکتے ؟“
    ”انقلاب پسند منٹو اور نام نہاد ترقی پسند“ کے عنوان سے اس کتاب میں ترقی پسندوں کی خوب خبر لی گئی ہے ۔ اس باب میں منٹو کی ادبی اٹھان کو ایک ترقی پسند کی اٹھان کے طور پر دکھایا گیا ہے ‘ جس نے اَفسانہ نگاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے نامور اشتراکی ادیب اور مو ¿رخ باری علیگ کے زیر اثر عالمی فکشن کا بالعموم اور روسی فکشن کا گہرا مطالعہ کیا تھا ۔ جس نے روسی ادب کے اس وقت تراجم کئے تھے جب انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں بھی نہ آیا تھا۔ اس نے منتخب روسی افسانوں کا ترجمہ کرکے اردو دنیا میں ایک نئی ادبی تحریک کی راہ ہموار کی تھی ۔ مگر طرفگی دیکھئے کہ یہی منٹو بعد ازاں ترقی پسندوں کو کھٹکنے لگا تھا۔ پروفیسر ملک نے اس باب میں دونوں کے رویوں کا جائزہ لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ منٹو درست تھا۔ محمد حسن عسکری کی ادبی رفاقت منٹو کی غلطی نہ تھی بلکہ وہ اپنے روحانی اور سچے تخلیقی تقاضوں سے جڑ گیا تھا۔
    اس نئی کتاب میں پروفیسر ملک نے منٹو کے معروف افسانے”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کی ایک نئی تعبیر کی ہے ....جو واقعی نئی ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آج تک اردو ادب کے ناقدین نے اِس رُخ سے کیوں نہ سوچا۔ سب اسے منٹو کے تقسیم کے دوران کے فسادات پر لکھے ہوئے افسانوں کی ذیل میں رکھ کر دیکھتے رہے۔ بجا کہ ممتاز شیریں نے منٹو پر جم کر لکھا اورخوب لکھا اور صاحب یہ بھی درست کہ اس نے منٹو کے ان افسانوں کی فہرست بنائی جواسے بہت پسند تھے تو اس میں جہاں’ہتک‘ ’کالی شلوار‘ ’بو‘ ’نیا قانون‘ ’بابو گوپی ناتھ‘ کے علاوہ ’ممی ’موذیل‘’ ننگی آوازیں‘ ’کھول دو‘ ’ٹھنڈا گوشت‘’اور ’سڑک کنارے ‘ کے نام آتے ہیں وہیںقدرے نیچے سہی ”ٹوبہ ٹیک سنگھ “ کا نام بھی آتا ہے مگر اس افسانے کی کوئی تعبیر اس کے ہاں ملتی ہی نہیں ہے ۔ یہی عالم‘ منٹو کو رجعت پسندبنانے کا طعنہ پانے والے ‘حسن عسکری کے ہاں ملتاہے۔ دونوں اِس طرف توجہ دیتے توبعد میں بہت میں آنے والے سوں کو ٹھوکریں کھانے سے روک سکتے تھے ۔ یہی ٹھوکریں کھانے والے فتح محمد ملک کے اس مضمون کے اولین مخاطب ہیں ۔ میں اس مضمو ن کو اس کتاب کا دل کہوں گا جسے چھوتے ہی میرا اپنادل دھڑکنا بھول گیا تھا۔
    منٹو کے شاہکار اَفسانہ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کی تعبیر جس طرح اور جس توجہ سے پر وفیسر ملک نے کی ہے اُس پر دل ٹُھکتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس افسانے کی یہ تعبیر تھی تو یہ اَفسانہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگی۔ میں نے بہت غور کیا تو اپنے آپ کو وارث علوی کا متفق پایا کہ :
    ” اَفسانہ اپنے حسن کا راز فوراً سب پر ظاہر نہیں کرتا‘ وہ صاحب نظر نقاد کا انتظار کرتا ہے ۔ افسانے کی معنیاتی بصیرت کا راز اس رشتے میں ہے جو نقادافسانے سے قائم کرتا ہے۔ یہ رشتہ محبت ‘نشاط اور وارفتگی کا ہوتا ہے “
    مجھے پر وفیسر ملک کے ہاں منٹو کے اس افسانے کی تعبیر اور تشریح میںیہی نشاط‘ وارفتگی اور تنقیدی بصیرت ایک ساتھ متحرک نظر آتے ہیں۔ اسی تنقیدی بصیرت (جو ہرحال میں ایک قومی شعور سے وابستگی پر مصر اور نازاں رہتی ہے )کا فیصلہ ہے کہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا موضوع برطانوی ہند کی تقسیم نہیں ہے اور یہ بھی کہ یہ اَفسانہ فسادات کے پس منظر میں لکھا ہی نہیں گیا تھا۔ اس مضمون کے آغاز میں طارق علی پر گرفت کی گئی ہے جس نے اَفسانہ” ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کو برطانوی ہند کی تقسیم اور نسل کشی کے فسادات کا شاخسانہ کہا تھا ۔ آگے چل کر لگ بھگ وارث علوی نے بھی اس باب میں ایسی ہی ٹھوکر کھائی اور اندازنظر قائم کیا کہ:
    ” ملک تقسیم ہوتے ہی بشن سنگھ جس پاگل خانہ میں تھا اس کے باہر بھی ایک بہت بڑا پاگل خانہ کھل گیا تھا....رات کی رات جغرافیہ بدل گیا ۔ روابط اور وابستگیاں بدل گئیں اور لوگ بہ تمام ہوش مندی ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرنے لگے ۔“
    فتح محمد ملک نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل برٹش انڈیا کی سامراجی وحدت ٹوٹنے کا وہ اہم واقعہ ہے جو دو قوموں کی آزاد قومی ریاستوں کے قیام کی نوید بن گیا تھا اور یہ قومیں اپنے اپنے جغرافیائی خطوں میں استعماری چنگل سے آزاد ہو گئی تھیں لہذا باہر کی دنیا پر پاگل خانے کے اندر کے واقعات اور صورت حال کو منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ مصنف نے کہا ہے کہ منٹو کے افسانے کا موضوع نہ تو تقسیم ہے اور نہ ہی فسادات۔بلکہ اس افسانے کا موضوع حافظے کی گم شدگی اور تخیل کی موت ہے ۔ پروفیسر ملک نے افسانے کے دیگر پاگل کرداروں کے ساتھ بشن سنگھ کا موازانہ اور تجزیہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ
    ٭.... دیگر کردار وں میں سے پہلا وہ تھا ‘ جسے اس کے لواحقین پھانسی کی سزا سے بچانے کی خاطر پاگل قرار دے کر یہاں بند کروا گئے تھے۔ یہ کردارجانتا تھا کہ پاکستان کیا ہے اور کہاں ہے۔
    ٭....دوسرے پاگل سکھ کردار کے محسوسات کی دنیا بھی قائم تھی اور محسوس کر رہا تھا کہ ہندوستان کہاں ہوگا بس اسے فکر تھی تو یہی کہ اسے’ ہندستوڑوں‘ کی بولی نہیں آتی تھی۔
    ٭....پروفیسر ملک نے جن دو مزید پاگل کردارں کا تجزیہ کیا ہے وہ دونوں دماغ ماﺅف ہوتے ہوئے بھی محسوس کر سکتے تھے ایک نے محمد علی جناح بن جانے کا دعوی کیا تھا اور دوسرے نے ماسٹر تارا سنگھ ہو جانے کا۔ دونوں کا رویہ انہیں الگ الگ قوم کا فرد بنا دیتا تھا ۔
    یوں یہ سارے کردار محسوسات کی محدود سطح پر سہی بیرونی دنیا اور اس کی تبدیلیوں سے جڑے ہوئے تھے ۔ لیکن افسانے کا مرکزی کردار بشن سنگھ المعروف بیرونی دنیا سے بالکل کٹا ہوا تھا ۔ پروفیسر ملک نے یہ ثابت کرنے کے بعد افسانے کے متن کے اس حصے کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں منٹو نے اس کردار کا تعارف کراتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں حتی کہ اپنی بیٹی تک کو نہیں پہچان سکتا تھا۔ یوں وہ اس افسانے کی ایسی تعبیر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے اس کی خبر ملتی ہے کہ تقسیم کے حوالے سے منٹو کا تخلیقی شعور کس سطح پر کام کر رہا تھا۔ پر وفیسر ملک کا کہنا ہے کہ منٹو کی اس کہانی کی صرف ایک ہی تعبیر ممکن ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی تحریک ایک روحانی وابستگی کاکر شمہ تھی اور تحریک پاکستان قید مقامی سے رہائی اور خوابوں کی سرزمین سے وابستگی کا استعارہ تھی اور یہ بھی کہ الگ قوم کے لیے ایک خود مختار اور آزاد نظریاتی مملکت کے قیام کی بات بشن سنگھ جیسے پاگلوں کی سمجھ میں آہی نہیں سکتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قیام پاکستان کے بعد بدلے ہوئے تناظر میں منٹو فہمی کے لیے فتح محمد ملک کی یہ کتاب اس نئی تعبیر کے حوالے سے بہت اہم ہو جاتی ہے ۔
    ٭٭٭

    407173 325368587502917 211354325571011 979051 2017200881 n - Kuch Sadaat Hassan Minto Ke Bare Mai
    Last edited by Arslan; 05-08-2012 at 01:23 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Karachi....
    Posts
    31,280
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6917 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474875

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    Walaikum Asalam

    hmmmm very nice


    Ik Muhabbat ko amar karna tha.....

    to ye socha k ..... ab bichar jaye..!!!!


  3. #3
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    usa
    Posts
    526
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    307 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    Walikum Asalaamm...
    hmm very good..

  4. #4
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    3,929
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1530 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474846

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    beautiful sharing.............

    Thanks for increase our knowledge and a great sharing.......
    1383466 1388375978065877 814058537 n zpsc25ba847 - Kuch Sadaat Hassan Minto Ke Bare Mai

  5. #5
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    ~Near to Heart~
    Age
    28
    Posts
    78,521
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    2881 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474924

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    mai ne in ko ziyada nai parha mere cxn ne bht parha hai in ko...!!!

    /up

    nice sharing
    2112kjd - Kuch Sadaat Hassan Minto Ke Bare Mai

  6. #6
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    Quote Originally Posted by SenoriTa View Post
    Walaikum Asalam

    hmmmm very nice
    shkriyaaa....


    Quote Originally Posted by mirza sehris View Post
    Walikum Asalaamm...
    hmm very good..

    thanxx janabb


    Quote Originally Posted by murad View Post
    beautiful sharing.............

    Thanks for increase our knowledge and a great sharing.......

    thanxx muraddd...


    Quote Originally Posted by DaNgErOuS tEaRs View Post
    mai ne in ko ziyada nai parha mere cxn ne bht parha hai in ko...!!!

    /up

    nice sharing

    kabii waqtt Nikkall karr Parhnaa,,Issmat Chughtaii kayy Badd Jiss afsanaa Niggar nay mjhay Impress kiaa haii woh Montoo sahibb haiinnn...

    thanxx





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  7. #7
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Quetta , Sialkot ,Pakistan
    Age
    29
    Posts
    544
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474845

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    kafi lamba hay aram sy prhu ga

  8. #8
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    Walaikumusalam

    Informative Thread bnaya hai
    Thanks for sharing

    eq2hdk - Kuch Sadaat Hassan Minto Ke Bare Mai

  9. #9
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Paris of East
    Posts
    10,491
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    1617 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474854

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    WALAIKUM ASSALAM

    kal news main b araha tha ink baray main kuch


    DUA...MUST READ AND MUST FORWARD



    Then Which Of The Favours Of Your LORD Will You Deny?

    "Be In This World As If You Were A Stranger Or A Traveler"
    (Bukhari)






  10. #10
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    usa
    Posts
    526
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    307 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: کچھ سعادت حسن منٹو کے بارے میں۔ ۔ ۔

    Quote Originally Posted by sarfraz_qamar View Post

    thanxx janabb
    ohh koi gul nei g...
    no prblm...

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •