اور اب سنوارنے آئے اُجاڑنے والے
مرے شجر سے مرے برگ جھاڑنے والے

یہ سنگ باز مُجھے جو گھسیٹتے لائے
اُگانے والے نہیں ہیں یہ گاڑنے والے

عجب نہیں کہ بکھر جائیں کرچیوں کی طرح
یہ آئینے میں کھڑے ہو کے دھاڑنے والے

گُرو جی! آپ کو مَیں نے یہ گُر سکھایا تھا
جسے لگا کے ہیں مُجھ کو پچھاڑنے والے

سُدھارنے چلے آئے ہیں عاقبت میری
زمیں سے۔۔۔ میرا تعلق بگاڑنے والے

تُو اب جو سَر بہ گریباں ہے اے مرے ہمزاد
تو موقع تاڑ رہے ہیں یہ تاڑنے والے

عجیب لوگ تھے آنکھوں پہ ہاتھ رکھتے رہے
کہاں گئے ۔۔مرے ناخن۔۔۔ اُکھاڑنے والے

بہت دنوں سے رضا مَیں نے موڑ رکھے ہیں
کتابِ یاراں سے کُچھ صفحے پھاڑنے والے