اداسیوں نے بنائے ہیں گھونسلے اس میں
مسرّتوں سے کبھی سر ہوا نہ دل کا درخت

بہار آئی کئی بار اس طرف لیکن
تمہاری یاد سے جانبر ہوا نہ دل کا درخت

تمہارے جاتے ہی وہ دور اس کا ختم ہوا
پھر اُس کے بعد تناور ہوا نہ دل کا درخت

خزاں سے اپنے تعلق پہ اس کو ناز رہا
کبھی بہار کا نوکر ہوا نہ دل کا درخت

وہ پتے زرد ہوئے سارے پھول مرجھائے
کسی خوشی کا کبھی گھر ہوا نہ دل کا درخت

جہاں جہاں بھی گھنے مال و زر کے جنگل ہیں
پھر اُس زمیں کا مقدّر ہوا نہ دل کا درخت

تمہارے بعد کئی موسموں نے کوشش کی
مگر وہ پھولوں کی چادر ہوا نہ دل کا درخت

یہ سب طیور اُسی کا کلام پڑھتے تھے
پھر اُس طرح سے سخنور ہوا نہ دل کا درخت

وہ پہلے پیار کی بارش عجیب بارش تھی
کسی سے ویسا مسخّر ہوا نہ دل کا درخت