Results 1 to 4 of 4

Thread: Bhadur Shah Zafar

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Bhadur Shah Zafar


    بہادر شاہ ظفر




    بہادر شاہ ظفر
    تاج پوشی 1252ھ مطابق 1837ء تاج پوشی کی گیی
    جائے پیدائش دہلی
    شاہی گھرانہ خاندانِ تیمور
    خاندان مغل
    والد اکبر شاہ ثانی
    مذہب سنی اسلام


    سوانح

    ابوالمظفر سراج الدین محمد بھادر شاہ غازی۔ خاندان مغلیہ کا آخری بادشاہ اور اردو کا ایک بہترین و مایا ناز شاعر تھا، اکبر شاہ ثانی کا دوسرا بیٹا جولال باءی کے بطن سے تھا۔ اس کا سلسلہ نسب گیارھویں پشت میں شہنشاہ بابر سے ملتا ہے۔ یہ دہلی میں پیدا ہوا ۔1252 ھ مطابق 1837ء کو قلعہ دہلی میں اس کی تخت نشینی کی رسم ادا کی گءی۔




    جنگ آزادی ہند 1857ء، اسباب

    ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ۔انگریزوں نے اس جنگ کو غدر کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ ایڈیا کمپنی کے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہوگئے ۔ دوم یہ کہ ان دنوں جوکارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں مین بہت سے ایسے تھے جنہوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھی


    واقعات

    جنگ آزادی ہند کا آغاز 1857ء میں بنگال میں ڈمڈم اور بارک پور کے مقامات پر ہوا جہاں دیسی سپاہیوں نے ان کارتوسوں کے استعمال سے انکار کر دیا جن میں ان کے خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی لگی ہوئی تھی۔ انگریزی حکومت نے ان سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے فوجی ملازمت سے برخاست کر دیا۔ لکھنو میں بھی یہی واقعہ پیش آیا ۔ برخاست شدہ سپاہی ملک میں پھیل گئے۔ اور فوجوں کو انگریزوں کے خلاف ابھارنے لگے۔ 9 مئی 1857ء کو میرٹھ میں ایک رجمنٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی۔ جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی تہذیب سے گرا ہوا تھا۔ دیسی سپاہیوں نے انگریز افسروں کو ہلاک کرکے ان قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور میرٹھ سے دہلی کی طرف بڑھنے لگے ۔ میرٹھ کے سپاہیوں کی دہلی میں آمد سے دہلی کی فوجیں بھی بگڑ گئیں۔ اور دہلی کے مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ دور دور تک پھیل گئی۔ یہی بغاوت بعد میں مغلیہ حکومت کے زوال کا سبب بنی۔




    بہادر شاہ ظفر رنگون میں

    جنرل نکلسن نے انگریز فوجوں کی مدد سے تقریباً چار مہینے تک دہلی کا محاصرہ کیے رکھا۔ 14 ستمبر کو کشمیری دروازہ توڑ دیا گیا۔ جنرل نکلسن اس لڑائی میں مارا گیا مگر انگریز اور سکھ فوجوں نے دہلی پر قبضہ کر کے ۔ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا ۔ ان کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو گولی سے اڑا دیا گیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو جانے سے ہر جگہ جنگ آزادی کی رفتار مدہم پڑھ گئی۔ مارچ 1858ء میں لکھنو پر دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ دہلی ،لکھنو ،کانپور ، جھانسی کے علاوہ چند اور مقامات پر بھی انگریزوں کے تصرف میں آگئے۔ جنگ آزادی کا نعرہ ’’انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو‘‘ تھا، اس لیے اس میں تمام ایسے عناصر شامل ہوگئے جنھوں نے انگریز سے نقصان پہنچا تھا۔ متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے تھے لیکن وطنیت اور قومیت کے تصورات سے ناآشنا تھے۔ بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہت کا اعلان باغی سپاہیوں نے کردیا تھا۔ نہ بادشاہت کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت۔ مزید برآں باغیوں نے دہلی میں لوٹ مار اور غارت گری مچا کر عام لوگوں کی ہمدریاں کھو دی تھیں۔ چنانچہ 1857ء کی یہ جنگ آزادی ناکام ری۔


    غزلِ ظفر

    لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
    کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

    بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
    قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

    کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
    اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

    ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
    کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

    عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
    دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں


    دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
    پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

    کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
    دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
    Last edited by Arslan; 05-08-2012 at 12:11 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default Re: بہادر شاہ ظفر

    hmm Nyc...
    suno hworiginal - Bhadur Shah Zafar
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Bhadur Shah Zafarღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Bhadur Shah Zafar

  3. #3
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    ~Near to Heart~
    Age
    28
    Posts
    78,521
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    2881 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474924

    Default Re: بہادر شاہ ظفر

    mai ne in ki shairi sirf chand dafa parhi hai ziyada nai

    bht umda sharing
    2112kjd - Bhadur Shah Zafar

  4. #4
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Islamabad, UK
    Posts
    88,506
    Mentioned
    1028 Post(s)
    Tagged
    9706 Thread(s)
    Thanked
    603
    Rep Power
    21474934

    Default Re: بہادر شاہ ظفر

    ahaan zaberdast info

    thanks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •