وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
اک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا

اک عالم خوبی ہے میسر مگر اے کاش
اس گل کا علاقہ میری جاگیر میں ہوتا

اس آہوئے رم خوردہ و خوش چشم کی خاطر
اک حلقہ خوشبو میری زنجیر میں ہوتا

مہتاب میں اک چاند سی صورت نظر آتی
نسبت کا شرف سلسلۂ میر میں ہوتا

مرتا بھی جو اس پر تو اسے مار کے رکھتا
غالب کا چلن عشق کی تقصیر میں ہوتا

اک قامتِ زیبا کا یہ دعوی ہے کہ وہ ہے
ہوتا تو میرے حرفِ گرہ گیر میں ہوتا