Results 1 to 1 of 1

Thread: اس زلف کو پھبتی کہ شب دیجور کی سوجھی

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default اس زلف کو پھبتی کہ شب دیجور کی سوجھی


    ایک دفعہ انشاء جرات سے ملنے گئے ، وہ خیال سخن میں مگن تھے۔ انشاء نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ جرات نے کہا کہ ایک مصرع ہو گیا ہے، دوسرے کی فکر میں ہوں۔ انشاّ نے کہا کہ مجھے مصرع سنا۔ جرات نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ تو گرہ لگا کر شعر اچک لوگے۔ خیر انشا نے بہت اصرار کیا تو اسے مصرع سنایا

    اس زلف کو پھبتی کہ شب دیجور کی سوجھی

    انشاّ نے جھٹ سے گرہ لگایا ۔۔

    اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی

    مزے کی بات یہ ہے کہ جرات اندھے تھے
    Last edited by Arslan; 05-08-2012 at 12:12 AM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •