Results 1 to 9 of 9

Thread: Topic of the week.....(taqdeer)

  1. #1
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Pakistan
    Age
    29
    Posts
    67
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    11 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    snow Topic of the week.....(taqdeer)

    assasl1 - Topic of the week.....(taqdeer)

    اس بار کے مقابلے کی ونر مجھے قرار دیا گیا ہے

    لہذا اس ہفتے کا ٹاپک بھی مجھے منتخب کرنا ہے

    امید ہے آپ سب مل کر اچھی اچھی شئیرنگ کریں گے

    آپ میں سے کچھ لوگ تقدیر پر یقین تو رکھتے ہی ہوں گے۔

    لہذا اس تھریڈ میں آپ سب نے جس ٹاپک پر لکھنا ہے وہ ہے


    "تقدیر"

    اس ٹاپک پر اپنے قلم کو حرکت میں لائیں اور بنیں مقدر کے سکندر

    شکریہ




    assasl1 - Topic of the week.....(taqdeer)

  2. #2
    Join Date
    Nov 2010
    Location
    india
    Age
    25
    Posts
    9
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)


  3. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Sky
    Age
    25
    Posts
    10,789
    Mentioned
    28 Post(s)
    Tagged
    4384 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474853

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)

    o00o0ps i am sorry i think yahan khud k likhi oi shair kerni thi


  4. #4
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    ~Near to Heart~
    Age
    28
    Posts
    78,521
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    2881 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474924

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)

    Quote Originally Posted by *Anaya* View Post
    o00o0ps i am sorry i think yahan khud k likhi oi shair kerni thi
    haan jee khan jee

    yahan khd ki likhi huwi share krni hai
    2112kjd - Topic of the week.....(taqdeer)

  5. #5
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Sky
    Age
    25
    Posts
    10,789
    Mentioned
    28 Post(s)
    Tagged
    4384 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474853

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)

    sory sory jaldi sa del kerdo


  6. #6
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)

    hm me ko to likha hi nahi ata
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - Topic of the week.....(taqdeer)

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


  7. #7
    Join Date
    Jul 2011
    Location
    Lahore-Pakistan
    Posts
    1,636
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    944 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)


    تقدیر

    مقدر انسان کا پیچھا لحد کی دیواروں تک کرتا ہے بند مٹھیاں کھلتی ہیں تو رنگین سماں بندھ جاتا ہے۔شہنایئوں کی گونج کانوں کی تہوں کو رونق بخشتی ہیں تو کہیں ماتم کا دوردورا۔
    فقط تقدیر جس کو اپنا لے وہ سکندر ۔۔۔۔۔۔۔
    رخسانہ کا یہ آخری خط تھا جو اسد کے نام لکھنے جا رہی تھی۔وہ جانتی تھی کہ سات سمندر پار کے لوگوں میں بیوفائی کے عنصر پائے جاتے ہیں مگر آخری بار اپنی تقدیر کو آزمانے جا رہی تھی۔ابھی خط لکھا ہی جا رہا تھا کہ ماں کی کرخت آواز نے رخسانہ کے ہاتھوں کو کانپنے پر مجبور کر دیا۔
    آج پھر اسد کو خط لکھ رہی ہو نا؟ تم باز کیوں نہیں آتی کیوں ہماری اپنی اور میری جان کی دشمن بنی ہوئی ہو؟تمہارے بابا نے یا بھائی نے دیکھ لیا تو تیرے ساتھ مجھے بھی مار دیں گے۔رخسانہ کی ماں نے رونا شروع کر دیا۔
    ماں میں لاکھ دل کو سمجھاتی ہوں مگر یہ مانتا ہی نہیں ماں کجھے اسد کے بغیر کچھ بھی سوجھتا نہیں تو میں اسکا خیال دل سے کیسے نکالوں ؟؟؟
    ماں ایک کام کرو تم خود ہی اپنے ہاتھوں سے میرا گلہ دبا دو۔نہ رہے گا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری۔تم سب یہی چاہتےہو نا؟ کہ میں بابا اور بھائی کی پسند سے شادی کروں؟
    میں شادی کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر ماں میں پھر بھی مر جاوں گی ایک زندہ لاش رہوں گی بس۔اور اسد سے شادی کرنے میں برائی ہی کیا ہے؟ وہ میرا چچا ذاد ہے اوربابا کی لڑائی تو اسد کے ابا جان سے ہے مجھ سے تو نہیں ؟مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟بچپن سے مجھے اسد کے ساتھ شادی کے خواب دکھائے گئے۔کیا اس میں میرا قصور ہے؟ماں میں ایک مشرقی لڑکی ہوں اور ماں باپ کے حکم کی تعمیل کرتی ہوں۔
    مگر کیا بابا کی چھوٹی سی ناراضگی میرے دل کے ٹکٹرے ٹکٹرے کر دے گی؟
    رخسانہ کی ماں اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پیٹتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
    رخسانہ حسبِ معمول اسد کی تصویر سے باتیں کرنا شروع ہو گئی۔
    رخسانہ کے ابا کہیں آپ کا فیصلہ کسی کی جان نہ لے لے؟ہماری ایک ہی بیٹی ہے اور وہ بھی لاڈوں سے پالی ہوئی۔کیا ہم یہ سب ٹھیک کر رہے ہیں؟
    ٹھیک کیا بالکل ٹھیک کر رہے ہیں۔رخسانہ کے بابا غصے سے بلبلاتے ہوئے بولے۔
    آخر تم چاہتی کیا ہو؟ میں اسد کے ابا سے معافی مانگوں ؟اس کے پیر پکڑوں؟ اور رو رو کے اسے کہوں کہ میری بیٹی سے اپنے بیٹے کی شادی کردو؟؟؟
    ایسی ذلت سے موت اچھی۔۔اور ویسے بھی اس دن جھگڑے میں اسد کے ابا نے ہمارے ساتھ جینا مرنا ختم کر دیا ہے۔اور زبردستی اسد کو امریکہ بھیج دیا ہے۔میں اس کو دیکھتا ہوں تو میرا خون کھول اٹھتا ہے میں اس کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی کبھی نہ کروں۔اپنے ہاتھوں سے مار دوں گا۔مگر میری بیٹی اس گھر میں کبھی نہیں جائے گی۔
    اسد کے ابا نے تو رشتے کے لئے نہ نہیں کی تھی آپ نے ہی رخسانہ کے رشتے کو توڑنے کا اعلان کیا تھا۔رخسانہ کی ماں ڈرتی ہوئی بولی۔
    ہاں ہاں میں ہی ظالم ہوں میں ہی اپنی بیٹی کی خواہشوں کا قاتل ہوں ۔۔اور دو الزام مجھے۔مگر میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔اسی مہینے کی 14تاریخ کو رخسانہ کی شادی ہو گی۔میں نے لڑکے والوں سے بات کر لی ہے۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    اور تم جو روز روز مجھے رخسانہ کی وجہ سے ڈراتی ہونا؟تم بھی دیکھنا رخسانہ بیٹی اپنے نئے گھر میں بہت خوش رہے گی۔ماشا اللہ سے لڑکے کا اپنا کاروبار ہے۔
    وہاں اسد کے ابا جان اور امی بیٹھے یہی باتیں کر رہے تھے کہ رخسانہ کا رشتہ کہیں اور پکا ہو گیا ہے اور14 کو بارات آ رہی ہے۔مگر یاد رہے کہ اسد کو اس بات کا پتہ نہیں چلنا چاہیے۔
    اور اسد امریکہ میں بالکل خوش نہیں تھا کسی طرح بھی رخسانہ کے پاس جانا چاہتا تھا کیوں کہ وہ رخسانہ سے دل وجان سے محبت کرتا تھا۔مگر ان کے والدین کے جھگڑے نے دو دلوں کو جدا کر رکھا تھا۔اسد سے رہا نہ گیا اور پاکستان جانے کے لئےٹکٹ بک کروا لی۔اور 14 کو پاکستان پہنچ گیا۔
    کہتے ہیں کہ تقدیر کا میوا اسے ہی ملتا ہے جس کے نام کا لوح قلم سے لکھا جاتا ہے۔
    14تاریخ آن پہنچی رخسانہ ایک زندہ لاش کی طرح دلہن کے کپڑوں میں ملبوس سجی سجائی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اس کی جھکی ہوئی نظریں دروازے کی چوکھٹ پر لگی تھیں۔
    بارات کے آنے کا ٹائم ہو رہا تھا رخسانہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی جا رہی تھیں۔جبکہ جسم ساکن کسی پتھر کے پتلے کی طرح۔
    وہاں اسد جب اپنے گھر پہنچا تو اس کے ماں باپ کی حیرت کی حد نہ رہی۔اور ہڑبڑاتے ہوئے بولے تمہیں کس نے بلایا ہے؟ اور کیسے پتہ چلا؟اسد حیران تھا کہ آخر کس بات کا پوچھ رہے ہیں آپ؟اسد کی امی نے بتایا کہ آج رخسانہ کی شادی ہے
    اور کچھ ہی دیر میں بارات آنے والی ہے۔پلیز بیٹا کچھ ایسا کام نہ کرنا کہ تمہارے ابا کی عزت داو پر لگ جائے ۔اسد نے ایک لمبی سی سانس لی اور بولا۔خدارا مجھے رخسانہ کی شادی کا بالکل علم نہ تھا امی جان مجھے نہیں معلوم کہ ایسی کون سی طاقت ہے کہ جس نے مجھے زبردستی پاکستان آنے پر مجبور کیا ہے مگر میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جس سے ابا جان کی اور رخسانہ کی عزت پر داغ آئے۔
    رخسانہ کے گھر میں ایک کہرام مچ گیا پتہ چلا کہ رخسانہ کے ابا جان نے جس لڑکے کو رخسانہ کے لئے پسند کیا تھا وہ ایک اسمگلر تھا اور اسے پولیس گرفتار کر کے تھانے لے جا چکی تھی۔رخسانہ کے ابا جان مسلسل روئے جا رہے تھے اور اپنی کی بربادی کا کچھ ہی دیر میں تماشہ دیکھنے والے تھے۔
    ایسے میں ایک رشتے دار نے بتایا کہ اسد گھر آن پہنچا ہے ۔انکل پلیز غصہ چھوڑیں اور اسد کے گھر چلیں ان کو منا لیں تبھی ہماری عزت محفوظ رہے گی۔مجھے پورا یقین ہے کہ اسد اور اس کے گھر والے ناراضگی چھوڑ کر ہماری عزت کو داغدار ہونے سے بچایئں گے۔
    اسد بند کمرے میں اندھیرے میں الجھا ہوا اگلے دن کا انتظار کر رہا تھا تاکہ پاکستان سے چلا جائے مگر ایک بھاری آواز نے اسے کمرے سے باہر آنے کو کہا۔
    رخسانہ کا باپ اسد کے ابا جان کے سامنے بیٹھا اپنی بیٹی کی عزت کی دہائی دے رہا تھا۔سارا ماجرا اسد کے سامنے تھا۔
    اسی رات پھولوں کی سجی سیج پر رخسانہ اور اسد ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال جواب کر رہے تھے۔
    یہ تقدیر ہی تھی جس نے رخسانہ اوراسد کو ملایا۔مقدر جس کے نام کی دوڑ میں لگ جاتا ہے جیتنے والا ہی اس کا طلبگار ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    از اسد علی حسنین
    sagar3 - Topic of the week.....(taqdeer)

    جانےکیسا رشتہ ہےمیرا اسکیذاتکےساتھ
    وہذرا بھیخاموشہوتوسانس ٹھہرسی جاتی ہے




  8. #8
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    288
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    9 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    7

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)

    تقدیر

    حالات ہمیں ہر غلط کام کے لئے اکساتے نہیں ہیں، کچھ کام ہم اپنے شوق کی بنیاد پہ بھی تو کرتے ہیں۔ مگر ہم اشرف المخلوقات کتنی آسانی سے حالات کو ذمہ دار قرار دے کر خود کو پانی کی طرح صاف کر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر کچھ اور باہر کچھ ہوتا ہے۔
    دس بیس نہیں ایک ہی انسان دکھا دو
    ایسا جو اندر سے بھی باہر کی طرح ہو
    ہم چوری کرتے ہیں اور اس کو غربت کا نام دے کرایک طرف ہو جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے غربت کئی معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے غربت کے خاتمے کے لئے کیا کیا؟ ہم دوسروں کو روندکر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، مگر نتیجتاََ ہم خود ہی دوسروں کے نقشِ کفِ پا بن کے رہ جاتے ہیں۔مشہورِ زمانہ کمپنی مائیکرو سافٹ کے چئیر مین بل گیٹس کہتا ہے:
    ”اگر تم غریب پیدا ہوئے تو تمہارا کوئی قصور نہیں لیکن اگر تم غریب مرتے ہو تو یہ سرا سر تمہارا قصور ہے۔“
    ہم عزم و یقین سے عاری ہیں، تبھی ہم ناکام ہیں۔ غیر مسلم اس دولت سے مالا مال ہیں اور ہمارے ہی اصولوں پہ پنپ رہے ہیں جبکہ ہم ہر جگہ شارٹ کٹ کی کوشش کرتے ہیں۔ہم ا س پرندے کی مانند ہیں جس کے دونوںپر کاٹ دیئے گئے ہوں مگر ایک پر ہم نے خود کاٹا ہے اور ایک ہمارے دشمنوں نے ۔ ایسے حالات میں منیر نیازی کا یہ شعر رہ رہ کر یاد آتا ہے:
    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے ،کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
    حالات اور تقدیر کا آپس میں گہرا تعلق ہے ، بطورِ خاص اس لئے کہ ہم اپنی ہر غلطی کو تقدیر سے منسوب کر دیتے ہیں کہ ہماری تقدیر میں یہ لکھا تھا، مشیتِ ایزدی بھی یہی تھی، لیکن اگر ہر غلطی سے پیچھا چھڑانے کا یہی طریقی ہے تو پھر انسان کو عقل کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں، عقل تو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنی کوتا ہیوں سے سیکھیں نہ کہ ان کی پردہ پوشی کریں۔ اگر ہر کام کو تقدیر سے ہی منسوب کرنا تھا تو علامہ اقبال کا یہ شہرہ آفاق شعر کبھی منظرِ عام پہ نہ آتا:
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    اقبال کے دور کے لوگ اپنی تقدیریں خود بنایا کرتے تھے اور یہ انکی اللہ پر کامل یقین کی ایک نشانی تھی ان کہ مقاصد نیک تھے، تقدیرِ امم ان کی باندی تھی، مگر آج کے دور کے انسان کی تقدیرِ امم طاﺅس پہ آ کر خوابِ غفلت کے مزے لے رہی ہے۔اگر کسی نیک انسان کا بیٹا کسی بھی جرم میں ملوث پایا جائے توصرف یہ نہیں کہہ سکتے کہ تقدیر میں یہ لکھا تھا، بلکہ اس نیک انسان کی تربیت میںبھی فرق آیا تھا، ورنہ اگر تربیت صحیح ملے تو ایک چور کا بیٹا بھی زاہد بن سکتا ہے۔
    سیاسی نقطئہ نظر سے قطعِ نظرآج ہمارا پاکستان انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے، مگر ہم بار بار انہی لوگوں کو منصبِ حکومت سے نوازتے ہیںجو پاکستان کو بیچ دیتے ہیں، کیا یہ بھی تقدیر ہے؟کیا وجہ ہے کہ ہم ۶۴ سالوں میں بھی ایک قوم نہیں بن پائے۔ وجہ صرف اپنی تاریخ سے دوری ہے۔ مگر ہم صرف فرسودہ روایات کو ہی یاد رکھتے ہیں۔بقولِ اقبال
    حقیقت خرافات میں کھو گئی
    یہ امت روایات میں کھو گئی
    ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اجداد کو پھر سے زندہ کریں۔جو کام ہمارے آباءہمارے لئے چھوڑ گئے تھے ان کو پھر سے زندہ کریں۔
    (محمد بلال اعظم)


  9. #9
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    tanhao main
    Posts
    6,644
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1009 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474849

    Default Re: Topic of the week.....(taqdeer)

    Aap muhabbat zarror karien,
    khawahish zaroor karin

    Maghar muhabbat kay hasool ki itni khawish na karein.

    Aap kay muqadar main jo chez hoo gee woh app ko mill jayee gee,

    Magar kisi khawish ko kayee bana kar apnay wajood par phelnay mat dain

    warna yeh sab say philay app kay IMAAN ko niglay gee.

    Pershan honay
    ,Ratoon ko jagna aur saraboon kay pichay baghnay say kisi chez ko muqadar nahi banya ja sakta."

    ak muqdar insan khud banata hy

    achy amaal sy

    duao sy

    jub hi inssan ki pedash hoti hy
    sath hi us ki taqdeer likh di jati hy

    jisy wo apni duao sy mita bhi skta hy

    jub inasaan burai ki taraf bhagta hy


    pher chot khata hy

    to yei bolta hy muqadar main likha tha


    but ye q nh bolta k ye hamary imal ki saza





    Bgxof - Topic of the week.....(taqdeer)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •