کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
صحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پی

اپنوں نے تج دیا ہے تو غیروں میں جا کے بیٹھ
اے خانماں خراب! نہ تنہا شراب پی

تو ہم سفر نہیں ہے تو کیا سیرِ گلستاں
تو ہم سبو نہیں ہے تو پھر کیا شراب پی

اے دل گرفتۂ غم جاناں سبو اٹھا
اے کشتۂ جفائے زمانہ شراب پی

دو صورتیں ہیں یارو دردِ فراق کی
یا اس کے غم میں ٹوٹ کے رویا شراب پی

اک مہرباں بزرگ نے یہ مشورہ دیا
دکھ کا کوئی علاج نہیں ، جا شراب پی

بادل گرج رہا تھا ادھر محتسب ادھر
پھر جب تلک یہ عقدہ نہ سلجھا شراب پی

اے تو کہ تیرے در پہ ہیں رندوں کے جمگھٹے
اک روز اس فقیر کے گھر آ ، شراب پی

دو جام ان کے نام بھی اے پیر میکدہ
جن رفتگاں کے ساتھ ہمیشہ شراب پی

کل ہم سے اپنا یار خفا ہو گیا فراز
شاید کہ ہم نے حد سے زیادہ شراب پی