Results 1 to 4 of 4

Thread: محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    snow محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

    میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ باہمی ہمدردی میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا۔ لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی، شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خدا ہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا۔ پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت، حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں سلب کرنے لگی۔ محبت کی خاطر قتل ہونے لگے۔۔۔۔۔۔۔خود کشی وجود میں آئی۔۔۔۔۔۔سوسائٹی اغوا سے، شبخون سے متعارف ہوئی۔
    رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا۔ اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا۔۔۔۔۔۔بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی۔ محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے۔ ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی۔
    معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار Bacteria پیدا ہوا۔
    نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے. ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے. محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے. جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بُری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی۔ جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے۔۔۔۔ زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے. کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے۔
    شکست و ریخت.
    بد بختی و سوختہ سامانی۔
    آج تک سوسائٹی جرائم کی بیخ کنی پر اپنی تمام قوت استعمال کرتی رہی ھے. اس نے اندازہ نہیں لگایا کہ کتنے گھروں میں کتنے مسلکوں میں سارا نقص ہی محبت سے پیدا ہوتا ھے. سوسائٹی کا بنیادی تضاد ہی یہ ھے کہ ابھی تک وہ محبت کا علم اٹھائے ہوئے ھے, حالانکہ وہ اس کے ہاتھوں توفیق بھر تکلیف اٹھا چکی ھے. جب تک یہ جن دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو جاتا اور اس کے ٹریفک رولز مقرر نہیں ہوتے، تب تک شانتی ممکن نہیں کیونکہ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ھے کہیں ٹکتا نہیں اور معاشرے کو کسی ٹھوس چیز کی ضرورت ھے۔
    محبت میں بیک وقت توڑنے اور جوڑنے کی صلاحیت ھے۔ سوسائٹی کا رنگ اسی کی بدولت نکھرتا یے۔ اور اسی جزبے کی وجہ سے شدید کالک بھی منہ پر لگتی ھے۔

    بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سے اقتباس
    Last edited by T@nHA.D!L; 12-02-2012 at 08:26 AM.

  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

    2af0bv6 - محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

    thanku - محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

  4. #4
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1181
    Rep Power
    21474971

    Default Re: محبت بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سےاقتباس

    hm

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •