Results 1 to 2 of 2

Thread: عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

    عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
    میں شرمسار ھوا تیری جستجو کر کے

    کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
    ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے

    سنا ھے شھر میں زخمی دلوں کا میلہ ھے
    چلیں ھم بھی مگر پیرھن رفو کر کے

    مسافت شب ھجراں کے بعد بھید کھلا
    ہوا دکھی ھے چراغوں کو بے آبرو کر کے

    زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی
    وہ خوش ھوا تھا سمندر کو آب جو کر کے

    یہ کس نے ھم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    جلوس اھل وفا کس کے در پہ پہنچا ھے
    نشان طوق وفا زینت گلو کر کے

    اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ھے
    ھماری آنکھ تیری دید سے وضو کر کے

    کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسن
    ملا ھے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

    2af0bv6 - عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •