Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 16

Thread: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے

    اسلام علیکم



    آج غالب کی 143 ویں برسی ہے:

    ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے
    وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا


    اس تھریڈ میں غالب کا کلام شئیر کروں گا ،اور جو کلام غالب کا آپ کو پسند ہو آپ بھی شئیر کر سکتے ہیں





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    کہتے ہو نہ دینگے ہم دل اگر پڑا پایا
    دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدّعا پایا

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی دردِ بے دوا پایا

    دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
    آہ بے اثر دیکھی نالہ نا رسا پایا

    سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
    حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

    غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
    خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

    حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
    ہم نے بار ہا ڈھونڈھا تم نے بار ہا پایا

    شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
    آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
    غالب۔۔





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  3. #3
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
    کیا مزا ہوتا ، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک

    گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دل
    ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک

    مجھ کو ارزانی رہے ، تجھ کو مبارک ہو جیو
    نالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک

    شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آج
    گِردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک

    داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی ، واہ واہ !
    یاد کرتا ہے مجھے ، دیکھے ہے وہ جس جا نمک

    چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہے
    دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک

    غیر کی منت نہ کھینچوں گا پَے توفیرِ درد
    زخم ، مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک

    یاد ہیں غالب ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میں
    زخم سے گرتا ، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  4. #4
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
    طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

    دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلے
    نشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

    گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
    ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

    ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطر
    خاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے

    دل سے اٹھا لطفِ جلوہ+ہاۓ معانی
    غیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے

    قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
    وائے اگر عہد استوار نہیں ہے

    تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالب
    تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے

    مرزا غالب





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  5. #5
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
    دودِ شمعِ کشتہ تھا، شاید خطِ رخسارِ دوست

    اے دلِ ناعاقبت اندیش، ضبطِ شوق کر
    کون لا سکتا ہے تابِ جلوہء دیدار ِ دوست

    خانہ ویراں سازیء حیرت، تماشا کیجیۓ
    صورتِ نقشِ قدم ہوں، رفتۂ رفتارِ دوست

    عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھے
    کُشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست

    چشمِ ما روشن، کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
    دیدہء پر خوں ہمارا، ساغرِ سرشارِ دوست

    غیر یوں کرتا ہے میری پرسش، اس کے ہجر میں
    بے تکلّف دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست

    تاکہ میں جانوں، کہ ہے، اس کی رسائی واں تلک
    مجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدہء دیدار ِ دوست

    جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوہِ ضعفِ دماغ
    سَر کرے ہے وہ، حدیثِ زلفِ عنبر بار ِ دوست

    چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
    ہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخئ گفتار ِ دوست

    مہربانی ہاۓ دشمن کی شکایت کیجیۓ
    یا بیاں کیجے سپاس ِ لذّتِ آزار ِ دوست

    یہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آتی ہےآپ
    ہے ردیف شعر میں غالب، ز بس تکرارِ دوست

    ۔،غالب ،۔





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  6. #6
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
    تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

    نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
    کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے

    یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
    وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے

    چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
    ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

    جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا
    کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ سے ہی* نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
    سواۓ بادۂ گلفامِ مشک بو کیا ہے

    پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
    یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

    رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
    تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

    ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

    مرزا غالب ..





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  7. #7
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ
    جان جاۓ تو بلا سے، پہ کہیں دِل آۓ

    ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
    دوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آۓ

    وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!
    ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آۓ

    آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں
    "لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آۓ"

    دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیم
    دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آۓ

    سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریں
    عکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آۓ

    اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالب!
    آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آۓ

    مرزا اسداللہ خان غالب





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  8. #8
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
    چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

    قد و گیسو میں ، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
    جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے

    کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر
    ہنوز اُس خستہ کے نیروۓ تن کی آزمائش ہے

    نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!
    اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے

    وہ آیا بزم میں ، دیکھو ، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“
    شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے

    رہے دل ہی میں تیر *، اچھا ، جگر کے پار ہو ، بہتر
    غرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے

    نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی
    وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

    پڑا رہ ، اے دلِ وابستہ ! بیتابی سے کیا حاصل؟
    مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے

    رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم ، تب دیکھیے کیا ہو!
    ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے

    وہ آویں گے مِرے گھر ، وعدہ کیسا ، دیکھنا ، غالب!
    نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے

    غالب۔۔۔۔





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  9. #9
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے


    نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
    کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے
    بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
    وہ اِک نگہ کہ ، بظاہر نگاہ سے کم ہے

    غالب ؎





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  10. #10
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Lost...
    Posts
    17,151
    Mentioned
    135 Post(s)
    Tagged
    11596 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    3865501

    Default Re: ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے

    Ghalib the greatest of all. Beautiful collection of poetry shared....
    Teri ankhon uworiginal - ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •