Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 10 of 29

Thread: Maa'n

  1. #1
    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    651 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    644254

    candel Maa'n

    Assalam-o-Alaikum



    Maa'n





    kehtey hai'n insan bimari mai'n buhat raqiq-ul-qalb ho jata hey shayed mairey sath bhi kuch aisa hi huwa kuch dinoo'n ki musalsal tabiyet kharabi ney jaha'n dil ko narm kerdia wahi'n Allah ki sub se bari naimat wo hasti jisey sub Maa kehtey hai'n aur wo ab mairey pas nahi is shiddet se yad aai k na sirf mairi aankhai'n num ho gai'n bel k aansoo ankhoo'n ki hadood tor ker beh nikley tu dair talak yad'dasht ki kudal se mazi ki qaber khod'ta raha aur usey khojta raha tu kuch nigarshat aisi nazer se guzri'n jo dil k buhat qareeb mehsoos hui'n tu aap k samney ley ker hazir ho gaya k shayed jin k pas ye naimat mojoud hey Maa ki qader karai'n


    ماں




    ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش

    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    ایسی ہستی کے بارے میں جو احترام و ادب،محبت و عشق اور جنوں کی حدوں کو پہنچی ہو اسکے بارے میں کچھ لکھنے کےلئے الفاظ ڈھونڈنا اور پھر استعمال کرنا بہت مشکل کام ہے

    ماں کے لئے لکھنے بیٹھا تو بہت دیر تلک ایک جملہ ہی نہ بن پایا یہی سوچتا رہا کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم پھر جو ذہن میں آتا گیا اسے تحریر کرتا چلا گیا دل بہت بوجھل ہو گیا اور آنکھ بھر آئی کیونکہ ماں ہی وہ ٹھنڈی چھاں ہے جس کے شفیق اور مہربان سائے تلے آکر اسیا لگتا ہے جیسے تپتی دوپہر میں سایہ مل گیا ہو اور ماں کی دعائیں ہی انسان کو کامیاب بناتی ہیں

    سب مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں اور ان کی دعائیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں گھر کی دہلیز کے ادنر قدم رکھتے ہوئے ٹھنڈک اور طمانیت کا احساس ماں کے وجود سے ہی ہوتا ہے اسی لئے ماں سے توٹ کر محبت کرنے والے کہتے ہیں کہ
    ”ماں کی دعا ،جنت کی ہوا“

    ہر انسان کی کامرانیوں کے پیچھے انکی ماں کی طاقتور دعائیں ہوتی ہیں کیونکہ ماں کی گود اور اس کا فیضان و طمانیت کی بانہوں میں سمیٹے رکھتا ہے ،

    ماں کی شان کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دو جہانوں کے رب نے ماں کو اس معراج تک پہنچایا کہ جنت اس کے قدموں تلے رکھ دیاور نبی کریم(ص) نے فرمایا کہ

    ”ماں باپ کے چہرے پر ایک نگاہ ڈالنا ایک حج اکبر کے برابر ہے،جتنی بار ماں باپ کے چہرے کی جانب دیکھو سمجھو تم نے اتنی بار حج ادا کیا“

    شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ

    ”ماں کی*کوشنودی دنیا میں باعث دولت اور آخرت میں باعث نجات ہے“
    ماں ایک ایسا پختہ مقدس اور دائمی رشتہ ہے جس سے بڑا تعلق پوری دنیا میں نہیں کیونکہ ماں
    شفقتوں،محبتوں،ٹھنڈکوں،بہا روں،خوشبوئوں،اور راحتوں کا استعمارہ ،راہنمائی و روشنی کی علامت ہے

    ہر گھر چونکہ ماں کی محبت و شفقت بے پایاں سے معمور ہوتا ہے اس لئے تقریبا ہر گھر میں اولاد اپنی والدہ ماجدہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے اور جن کیمائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان مسلمانوں کےلئے اللہ تعالی نے یہ عظیم نعمت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے آگے گئے ہوئے پیاروں کی بخشش و مغفرت کےلئے ایصال* ثواب کر کے ان پر جنت الفردوس کے دروازے کھل جانے کا سبب بن سکتے ہیں ،کہتے ہیں مسلمان نیک اولاد اسی لئے مانگتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں وفات پا جانے والے والدین اور دیگر پیاروں کی بخشش و مغفرت کےلئے دعا کر سکیں
    یہ احساس ہی اولاد کو کرب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اس کےلئے شب و روز دعائیں مانگنے والی ہستی خاک نشین ہو چکی ہے اس کی آمد کی منتظر نگاہیں ہمیشہ ہمیشہ کےلئے بندہو چکی ہیں

    جب بھی کسی ماں کی دنیا سے رخصت ہونے کی خبر سنتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ رحمتوں ،برکتوں اور دعائوں کی یہ آغوش ہم سے چھن گئی تھی ماں جی کے دنیا سے منہ موڑ جانے کے بعدمجھے اپنا دل و دماغ ہی نہیں بلکہ اپنا وجود بھی ریزہ ریزہ پوتا محسوس ہوا ایسا لگا کہ دنیا ختم ہو گئی ہے وہ ایسے وقت رخصت ہوئی جب میں پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس قابل تھا کہ ان کی خدمت کر سکوں،کوئی سوچ سمجھ ہی نہیں تھی لیکن ان کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ جس گھر میں ماں نہیں ہوتی وہ گھر گھر نہیں صرف مکان ہوتا ہے کیونکہ گھر رشتوں سے بنتے ہیں اور رشتوں کی لڑی اس وقت تک ہی جڑی رہتی ہے جب تک سارے رشتوں کو جوڑنے والی ڈور سلامت رہی سارے رشتوں کا اس وقت ہی اندازہ ہوا جب وہ ہم میں نہین تھی وہ بظاہر تو ہم سے دور چلی گئی لیکن ان کی دعائوں کا سلسلہ اسی طرح میرے ساتھ رہا بس یہی افسوس ہے کہ ہم ان کی خدمت نہیں کر سکے
    دوستوں بہت اچھا لگتا ہے جب ہم کسی کو اپنی ماں کو”ماں جی“والدہ“یا امی جان کہہ کر بلاتے ہیں یا دیکھتے ہیں
    اور خدمت کرتے ہوئے دیکھں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے کیونکہ ان الفاظ میں جو مٹھاس اور خوبصورتی ہے وہ دوسرے لفظوں میں نہیں لیکن دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی ہے جبکہ میرے نزدیک ماں کی خدمت کرنے،خیال رکھنے اور اسے ہر طرح کا سکون و اطمنیان بہم پہنچانے کا دعوی کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بلا شبہ”ہم اپنی ماں کی ایک رات کی خدمت کا قرض ہی نہیں چکا سکتے جب وہ خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور ہمیں خشک جگہ پر سلاتی ہے
    دوستوں
    آئو عہد کریں کہ وہ تمام لوگ جن کی ٹھنڈی چھائین موجود ہیں وہ اسکی ٹھنڈک کو اپنی روحوں میں اتاریں اور جن کی مائیں آسودہ خاک ہیں وہ ان سے روحانی فیض حاصل کریں اور یہ دعا کریں کہ
    آسمان ان کی لحد پہ شبنم اشفانی کرے
    کیونکہ افراتفری اور انتشار کے عالم میں اگر کہیں پناہ ملتی ہے تو وہ*خدا کی بارگاہ ہے یا ماں کی دعا ہے یہ ماں ہی ہے جس کے دل سے نکلی ہوئی دعا کبھی در نہیں ہوتی اور عرش بریں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں سے محبت کا اظہار کرنے کےلئے صرف ایک دن کو ہی مخصوص نہیں ہونا چاہیئے بلکہ وقتا فوقتا اس عمل کو جاری رکھنا ہم سب کا فرض ہے کیونکہ ماں جیسی ہستی دوبارہ نہیں ملتی

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جن کی مائیں زندہ ہیں وہ انہیں ان کی خدمت اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ جو اس ہستی سے محروم ہو چکے ہیں انہیں صبر و جمیل عطا فرماتے ہوئے انہیں اپنے نیک اعمال کے ذریعے ثواب پہنچانے کی ہمت فرمائے آمین ثم آمین

    ماں کے نام


    موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں

    تب کہیں جا کر سکوں تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں

    فکر میں بچوں کی کچھ اسطرح گھل جاتی ہے ماں

    نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں

    اوڑھتی ہے خود تو غربتوں کا بوسیدہ کفن

    چاہتوں کا پیرہن بچوں کو پہناتی ہے ماں

    روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے

    چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں

    اپنے پہلو میں لٹا کر اور طوطے کی طرح

    اللہ اللہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

    گھر سے جب بھی دور جاتا ہے کوئی نور نظر

    ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں

    دے کے بچوں کو ضمانت میں رضائے پاک کی

    پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں

    لوٹ کے جب بھی سفر سے گھر آتے ہیں ہم

    ڈال کے بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

    وقت آخر ہے اگر پردیس میں نور نظر

    اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں

    پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے

    کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں

    سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو

    ذندگی بھر کا صلہ اک فاتحہ پاتی ہے ماں


    Aur Zindagi ka ek rukh ye bhi hey aur jo intihai taklieaf deh hey laikin ye haqiqet hey k is dunia mai'n aaj kal logoo'n k pas apney Maa Bap ko dainey k liye waqt hi nahi hey baz Maa Bap k pas honey k bawajoud bhi un ki khidmet nahi kertey tu baaz ko talash-e-moash unhai'n Maa Bap ki muhabbet bhari chaoo'n se dor ker daiti hey donoo'n sourtoo'n mai'n jeetey ji dukh Maa bap hi uthatey hai'n, Ulad tu un k guzar janey k baad un ki qader kerti hey koi maney ya na maney laikin ye haqiqet hey laikin ye itna kerwa sach hey k hum isey baya'n kertey huwey katratey hai'n,Allah hum sub k hal pe rehem fermaye aur Maa Bap ki sidq-e-dil se khidmet ker k jannet kamaney ki toufique ata fermaye,Ameen


    زیادہ دن نہیں گزرے
    کہ میری گود کی گرمی تجھے آرام دیتی تھی
    گلے میں میری
    بانہیں ڈال کر تو اسطرح سوتا تھا
    کہ اکثر ساری رات میری
    اک کروٹ میں گزر جاتی
    میرے دامن کو پکڑے
    گھر میں تتلی کی طرح گھومتا پھرتا
    (اور اب)
    تیری دنیا میں اب ہر پل
    نئے لوگوں کی آمد ہے
    میں بے حد خاموشی سے
    ان کی جگہیں خالی کرتی جا رہی ہوں
    تیرا چہرہ نکھرتا جا رہا ہے
    میں پس منظر میں ہوتی جا رہی ہوں
    زیادہ دن نہ گزریں گے
    میرے ہاتھوں کی یہ دھیمی حرارت
    تجھے کافی نہ ہوگی
    کوئی خوش لمس دست یاسمین آکر
    گلابی رنگ کی حدت تیرے ہاتھوں میں سمو دیگا
    میرا دل تجھکو کھو دیگا
    میں باقی عمر تیرا رستہ تکتی رہوں گی
    میں “ماں” ہوں
    اور میری قسمت”جدائی” ہے

    اور اس صدی کی ماں جدائی کی کون کون سی صورتیں نہیں جانتی. ایک جدائی یہ جدائی ہے جو ایدھی ہوم کے ان بھاری بھرکم آہنی دیواروں کے اس پار جدائی ہے اور ایک جدائی وہ جو یورپ سے آتی ہوائیں ان مشرقی دھندھلکوں میں لپٹی صبحوں کے لئے لاتی ہے. بغیر مستقبل، روشن مستقبل کی تلاش میں لاکھوں نوجوان راھی ملک عدم ہوئے اور بوڑھے ماں باپ کے لئے مہنگے صابن / پرفیوم چاکلیٹ اور دواؤں کے اخراجات باقاعدگی سے بھیجتے ہیں. بوڑھے باپ ہر صبح کو اس انتظار میں شام میں ڈھال دیتے ہیں کہ بس اب کچھ ہی دن ہیں کہ لخت جگر آتا ہی ہوگا پھر اس صحں میں ننھے معصوم پوتی پوتوں کی کلکاریاں گونجیں گی جہاں اب اداسی بال کھولے سوتی رہتی ہے اور اکثر تو وہ “نور العین” ہر وقت فلائیٹ نہ ملنے کے سبب ماں یا باپ کو کاندھا دینے کی سعادت سے بھی محروم رہ جاتا ہے.
    تائی اماں دو عشروں سے دیار غیر میں بیٹھے اپنے بیٹے کی منتظر تھیں. ہر دوسری بات میں اسکا ذکر کرتی تھیں کہ اس ذکر سے نہ معلوم انکی ممتا کو نہ معلوم کیسی ٹھنڈک ملتی تھی. اور آخری دنوں میں انھوں نے دوائیں اٹھا کر پھینکنا شروع کر دی تھیں پانی سے بھرا گلاس دھڑ سے زمیں پر مار دیتیں کہ “ایا کو کہو وہ آئیگا تو دوا کھاؤنگی “(وہ پیار سے اکلوتے بیٹے کو ایا کہتے تھے) اور انکا نواسہ پرنم آنکھوں سے کہہ رہا تھا کہ ” خالہ آپ نے دیکھا تھا نہ نانی کا چہرہ مرنے کے بعد بھی سیدھا نہ جا سکا دائیں سمت ہی رہا کیونکہ وہ مسلسل دائیں سمت ہی دیکھا کرتیں تھیں. پھر تو دروازے سے نظریں ہی نہ ہٹاتی تھیں کہ دیکھو ایا آگیا ہے. اس سے قبل جب نانا جان کا انتقال ہوا تو نانی اماں کی کتنی بڑی خواہش تھی کہ ماموں انکو کاندھا دیں مگر ماموں جان کو کبھی رخصت ہی نہ مل سکی ” اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر ایک تلخ حقیقت بیان کی جو اب ہر گھر کی کہانی ہے بلکہ گھر گھر کی کہانی ہے.

    حضرت ابو ہریرہ شدید خواہش کے باوجود حج جیسے فریضے کے لئے تشریف نہ لے گئے جبکہ صحت بھی اچھی تھی اور سامان سفر بھی پاس تھا. حج کی اتنی شدید خواہش کہ حج کے کاروانوں کو خدا حافظ کہنے دور تک انکے ساتھ جاتے. حسرت سے انہیں دیکھتے اور دعاؤں کی درخواست کر کے واپس پلٹ آتے. لوگ دریافت کرتے کہ شدید تڑ پ کے باوجود وہ کیوں حج کی سعادت حاصل نہیں کرتے وہ کہتے ” میں یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ بوڑھی ماں کو ایک دن بھی تنہا چھوڑوں” اور اس برس لوگوں نے دیکھا تھا کہ حج میں ابو ہریرہ بھی شامل ہیں کسی کے دریافت کرنے پر فرمایا ” کعبہ دل اجڑ گیا ہے اور کعبۃ اللہ میں ہی تسکین دل رہ گئی ہے” ماں کے بچھڑنے کا سوز و گداز گویا انکے وجود کا حصہ نظر آرھا تھا. اسلامی تاریخ ایسے بی شمار نقوش سے منور ہے. خود نبی آخر الزماں علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ” اگر میری ماں زندہ ہوتیں اور نماز میں مجھے پکارتیں “اے محمد” تو میں نماز توڑ کر انکی خدمت میں حاضر ہوتا ” آپٌ کی عادت تھی جب حلیمہ سعدیہ تشریف لاتیں تو آپ میری ماں میری ماں کہہ کر انکی طرف لپکتے، اپنی رضاعی ماں کی انتہائی تکریم فرماتے، اپنی چادر انکے لئے بچھاتے۔

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحآبہ کرام کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ اویس قرنی جب مدینہ تشریف لائیں تو انسے دعا کی درخواست کرنا۔ کیونکہ اویس قرنی اپنی ماں کی شب و روز خدمت کی وجہ سے خدائے اقدس میں حاضری سے مھروم رہے۔ لیکن اس خدمت کا صلہ یہ ہے کہ اللہ کے نبیٌ نے صحابہ کو یہ وصیت کی کہ اگر اویس قرنی سے ملو تو اپنے لئے دعا کی درخواست ضرور کرنا خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ہر سال حج کے موقع پر یہ منادی کراتے کہ یمن کے قبیلے قرن سے تعلق رکھنے والے اویس قرنی موجود ہوں تو انہیں اطلاع دی جائے۔ ایک سال وہ حج کے لئے تشریف لائے تو حضرت عمر فاروق نے حضور اکرمٌ کی وصیت پوری کی اور انسے دعا کی درخواست کی۔ سبحان اللہ، یہ ہے اس قیمتی متاع اور گنج گراں مایہ کی خدمت کا صلہ۔

    روایات میں ہے کہ ایک موقع پر موسٰی کلیم اللہ نے اللہ سے سوال کیا کہ “جنت میں میرا رفیق کون ہے” جواب ملا ایک قصاب جو فلاں بستی میں رہتا ہے –حضرت موسٰی نے بہت کوشش سے اسے تلاش کیا کہ وہ ایسا کیا عمل کرتا ہے جو اللہ کو اتنا محبوب ہے؟ حضرت موسٰی اسکے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا گھر کے ایک کونے میں اسکی ماں بیٹھی ہے اسنے اسے سہارا دیا پھر اسکا منہ اپنے ہاتھوں سے دھلایا، اسکو کھانا کھلایا، اور پھر اپنے ہاتھوں سے اسکا منہ صاف کیا۔ حضرت موسٰی نے سنا کہ اسکی ماں نے اسکو دعا دی “اللہ جنت میں تجھے موسٰی کا ساتھ نصیب کرے” وہ قصاب ہے نہ عالم دین ہے، نہ صوفی، نہ غازی، نہ مجاہد محض ماں کی خدمت اتنا عظیم مقام دلانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اقبال اسرار خودی میں خوبصورت نظم میں ماں کا مرض بیان کرتے ہیں جسکے کچھ اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    ” ماں سے زندگی سر گرم ہے، ماں ہی سے زندگی کے اسرار بے نقاب ہوتے ہیں ہماری ملت کی ندی میں ہر پیچ و تاب مان سے ہے ، اس ندی میں موجیں اور گرداب و بلبلے اسی وجود کے باعث ہیں.

    میری ساری حیات کا حاصل
    تحفہ آسماں پر قربان ہے
    یہ میری جاں کیا کہ سارا جہاں
    جنت پائے ماں پر قرباں ہے

  2. #2
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default Re: Maa'n

    amazing g....... i like it...... maa ky bary gtna kha gaey otna km ha

  3. #3
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default Re: Maa'n

    bohaat achay

  4. #4
    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    651 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    644254

    Default Re: Maa'n

    Quote Originally Posted by ch kashif View Post
    amazing g....... i like it...... maa ky bary gtna kha gaey otna km ha

    Buhat sahi kaha Kashif tum ney k "Maa'n k liye jitna kaha jaye kam hey
    buhat shukria hosla afzai k liye
    hamaisha khush raho
    Ameen

  5. #5
    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    651 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    644254

    Default Re: Maa'n

    Quote Originally Posted by Hidden words View Post
    bohaat achay

    Buhat shukria Hidden words
    hamaisha khush raho
    Ameen

  6. #6
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default Re: Maa'n

    Quote Originally Posted by syed sohail akhter View Post

    Buhat shukria Hidden words
    hamaisha khush raho
    Ameen
    Ameen.thank u

  7. #7
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    288
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    9 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    7

    Default Re: Maa'n

    Bohat aalaa

  8. #8
    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    651 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    644254

    Default Re: Maa'n

    Quote Originally Posted by Bilal Azam View Post
    Bohat aalaa

    Hosla afzai k liye buhat shukria Bilal
    hamaisha khush raho
    Ameen

  9. #9
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default Re: Maa'n

    Bahot achchii Sharing ki Aapne.

  10. #10
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: Maa'n

    Great shairring



    no words for now this is awesome.....

Page 1 of 3 123 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •