Results 1 to 1 of 1

Thread: Az: Jahan e Danish --- Ehsan e Danish

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel Az: Jahan e Danish --- Ehsan e Danish

    شروع شروع میں میری اہلیہ دنیا کے رسم و رواج اور آئین و ضوابط سے صرف اتنی بہرہ مند تھی کہ ایک دفعہ نجانے کس بات پر میں نے تنبیہ کی مگر اس کی حاضر جوابی پر اس قدر غصہ آیا کہ میرے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا:
    "میرے ساتھ تمہارا نباہ مشکل ہو گا۔ میرا پیچھا چھوڑو اور اپنی راہ لو."

    اس نے میری برہمی سے بے پروا ہو کر لمحہ بھر کے توقف سے جواب دیا:
    "اچھا۔ ۔ ۔ میں بھی اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاوں گی۔ خدا رکھے میری ماں اور میرے بھائی موجود ہیں۔ آپ میرا مہر معاف کر دیں۔"
    ...
    میرا یہ سننا تھا کہ غم و غصہ فرو ہو گیا، اور میں مسکراتا ہو باہر نکل آیا۔ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس دور میں مجھے کیسی شریکِ حیات عطا کی ہے جو یہ بھی نہیں جانتی کہ مہر کی ادائیگی کس کا فرض ہے، اور اس کی طلبی و معافی بیوی کی طرف سے ہوتی ہے یا شوہر کی طرف سے۔ ۔ ۔
    ___________________________
    از: جہانِ دانش--- احسان دانش
    Last edited by Hidden words; 07-08-2012 at 12:11 AM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •