۔۔۔۔مقدمہ۔۔۔
انصاف کے تقدس کی پامالی کی کچھ تو وجوہات رہی ہونگی جس کی وجہ سے ایک عام انسان کو انصاف کی بحالی غیر یقینی ہو گئی ہے۔کچھ ایسے عناصر اب بھی اس معاشرے کو اپنی مٹھی میں دبائے پھر رہے ہیں جن کے خیال میں ایک محترم طبقہ ان کی رکھیل کی طرح ہے۔
یہ مختصر سی کہانی سچائی کی اس بنیاد پر لکھ رہا ہوں کہ شاید کہیں ایسا تاثر پیدا ہو جائے کہ ہم کون ہیں اور ہمارا کیا مقصد ہے ؟
نادیہ اپنے باپ کی موت کے بعد ایک سسکتی کانپتی ہوئی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی۔بوڑھی ماں اور چھوٹا بھائی جب بھی اپنی مضبوط بیٹی وبہن کی آنکھوں میں دیکھتے تو انہیں زندگی کا ایک طویل پر کشش رستہ نظر آتا تھا۔
ماں کی لاچاری اور بھائی کی معصومیت نے نادیہ کو اس زمانے کی تیر نظروں سے مقابلہ کرنے کا ڈھنگ سکھا دیا تھا۔
نادیہ ایک آفس میں جاب کر رہی تھی۔وہاں سے ملنے والی مختصر سی رقم کو وہ اپنی ماں کے علاج اور بھائی کی پڑھائی پر صرف کر رہی تھی۔شاید اسے اپنی کوئی فکر نہیں تھی۔اور فکر ہوتی بھی کیسے؟جس نے اپنے باپ کی میت پر بہت سے آنسو بہا دیے ہوں اس کے پاس اور باقی رہتا کیا ہے؟؟؟
قربان جاوں خدائے برتر کے جو اس نظام کو ایک خاص نوعیت کے متضاد تناسب سے چلا رہا ہے۔اگر کوئی بہت امیر ہے تو اسی کے گھر کے قریب بہت غریب بھی رہتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی مظلوم ہے تو ظالم بھی میسر ہے۔نادیہ جس آفس میں جاب کرتی تھی اسی آفس کے ہیڈ مینجر کی نظر نادیہ کی جوانی پر بھی تھی۔وہ عیاش پرست انسان تھا۔دو جوان بیٹیوں کا باپ تھا مگر شیطانیت اس کی آنکھوں سے چھلکتی تھی۔
اسی کمپنی کے مالک کا اس ہیڈ مینجر سے یارانہ تھا۔اس بدبخت مینجر کی آنکھوں سے چھلکنے والی حوس کا ایک دن باند ٹوٹ گیا۔
سب آفس والے جا چکے تھے صرف نادیہ کو اوور ٹائم کی وجہ سے رکنا پڑا ۔کچھ پریزنٹیشنز بنانے کے لئے مینجر نے نادیہ کو روک رکھا تھا۔
رات کے 12بج چکے تھے مگر نادیہ اپنی نیک نیتی کے ساتھ اپنے کام کو ایمان کی حد تک جان کر جٹی ہوئی تھی۔،مینجر نے نادیہ کو اپنے آفس میں
بلایا اور کام سے خوش ہونے کی تسلی دی۔اور یہ بھی بتایا کہ تمہارے کام سے بڑے صاحب بہت خوش ہوئے ہیں اسی لئے تمہیں پرسنل سیکریٹری بنانا چاہتے ہیں۔
نادیہ جیسی بھولی بھالی لڑکی جو صبح اٹھ کر نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد گھر سے نکلتی تھی۔ہزاروں قیامت خیز نظروں سے اپنی نظریں بچا کر آفس جاتی تھی۔وہ مردوں کے اس پاکھنڈی دھندے سے بالکل ناآشنا تھی۔اس نے جب ترقی کی خبر سنی تو خوشی کے مارےپھولی نہ سمائی۔۔۔۔
اور اندر ہی اندر ہزاروں مرادوں کے پل بنانے شروع کر دیے۔وہ اب بھی اپنے اچھے کل کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی بلکہ اپنی ماں کے اچھے علاج اور بھائی کی اچھی تعلیم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
مینجر کی منحوس نظریں نادیہ کے جسم پر مرکوز تھیں۔اس کی حوس پرستی معصوم نادیہ کے جسم کی پیمائش میں مشغول تھیں۔
مینجر تھوڑا دھیمی آواز میں بولا۔۔۔ابھی بڑے صاحب نے تمہیں اپنے آفس میں بلایا ہے۔چلو میرے ساتھ ان کے آفس میں چلتے ہیں۔
نادیہ خوشی خوشی چل دی۔
مینجر اور اس کے مالک کی پہلے سے پلاننگ تھی۔ایک بنت حوا کو لاچاری کی حالت میں لوٹنے والے تیار تھے۔ایک عورت کے تقدس کو پامال کیا جانے والا تھا۔ایک شریف گھر کی لڑکی اپنی عزت سے ہاتھ دھونے والی تھی۔
جب نادیہ کو ان کے بدترین عزائم کا پتہ چلا تو اس معصوم نے اس بند کمرے میں نبیوں رسولوں کے واسطے دیے ۔۔۔مریمؑ کی پاکپازی کا واسطہ دیا۔۔۔۔ان کو انہی کی ماوں بہنوں کی قسمیں دیں۔
وہ معصوم چلاتی رہی ۔۔۔روتی رہی۔۔۔۔سسکتی رہی۔۔۔مگر قدرت کی ہر شے اس بدنصیب کی لاچاری کا تماشہ دیکھنے میں مشغول تھی۔
خدارا مجھ پر رحم کرو میں تمہاری بیٹی جیسی ہوں۔خدارا مجھ غریب پر رحم کرو۔۔میری ماں صدمے سے مر جائے گی۔۔۔میرا بھائی جو اپنی توتلی زبان سے مجھے پکارتا ہے وہ گھبرا جائے گا۔
میری اس پامالی کا ہرجانہ تمہیں روزِ آخرت میں کیا اسی دور میں بھرنا پڑے گا۔۔۔تم ایک غریب پر ظلم کرو گے تو اس کا ہرجانہ تمہیں دینا پڑے گا۔۔۔
یا میرے خدا تو کہاں ہے؟ کیا یہ سب تو دیکھ رہا ہے؟ کیا تم نے میرے واسطے سنے؟؟ کیا تم نے میری عزت کو پامال ہوتے ہوئے دیکھا ہے؟؟
مگر ظالموں نے ایک نہ سنی۔۔۔۔
نادیہ کی چیخوں اور سسکیوں کی آوازیں سن کر اسی بلڈنگ میں موجود کچھ لوگ بھاگتے ہوئے اندر آئے تب تک درندے کمرہ چھوڑ چکے تھے۔نادیہ ایک کونے میں سدھ بدھ کھوئے بیٹھی تھی۔اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھی۔اور نظریں خدا کی جانب گامزن تھیں۔
وہ آسمان کی منہ کیے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔شاید کوئی چیز کھو چکی تھی اسکی۔
منظر کشی کرنے والوں نے نادیہ کو مشورے دینے شروع کر دے۔ کہ تم ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر دو۔ان ظالموں کو سزا ملنی چاہیے۔
کچھ ہی دیر میں لیڈیز پولیس وہاں آن پہنچی۔رات کے 3 بج چکے تھے اور نادیہ ہسپتال میں لیٹی ابھی تک آسمانوں سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔میڈیکل رپورٹس تیار ہو چکی تھیں۔کیس فائل ہو چکا تھا۔
گھر میں کہرام مچ گیا۔ماں روتی ہوئی اپنی لاچار بیٹی کے پاس پہنچی۔بھائی اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھ کر اپنی توتلی زبان سے ماں سے پوچھ رہا تھا۔
ماں۔۔۔ماں۔۔۔نادیہ باجی کو کیا ہوا ہے؟؟؟ایسے کیوں پڑی ہے؟
ماں اپنے عزت دار بیٹےکو کیا بتائے؟ کہ تیری بہن کے ساتھ کیا ہوا ہے؟
آج عدالت میں پہلی پیشی تھی۔
۔۔۔۔۔کہانی ابھی جاری ہے۔۔۔۔۔