Results 1 to 1 of 1

Thread: Shuara Akram Ki Nazar

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel Shuara Akram Ki Nazar

    شعراء اکرام کی نذر

    سدا سلامت رہیئے

    آپ ماشاءاللہ بہت سمجھدار لوگ ہیں،بس ایک بات کا ہمیشہ دھیان رکھئے کہ ہمارا ایمان ہمارے دل اور ہماری زبان دو سے مضبوط اور مربوط ہے ہمارے پاس ان دو کے علاوہ اور کوئی چیز پائیدار نہیں ہے ،جب ہم اللہ کی ذات پر شک ک...رتے ہیں یا معترض ہوتے ہیں تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ہم اس دائرے سے خارج ہوجاتے ہیں جس میں ہمیں اللہ قبول فرماتا ہے ،جب اہلِ علمِ عروض اپنی منطق اپنی سو...چ اپنے نظریات کو علم قرار دیتے ہیں اور اس کے مطابق کسی کا کلام نہیں ہوتا تو اسے کلام ماننے سے انکار کر دیتے ہیں یا خارج از بحر قرار دیتے ہیں اسے معیوب سمجھتے ہیں ،یا اسے شاعری کے زمرے سے ہی خارج کر دیتے ہیں ،تو اللہ تو اللہ ہے ، علیم اسکا نام ہے علم اسی نے عطا کیا ہے وہ اللہ جس نےانسان کو ایک ناپاک نطفے سے پیداکیا ہے اسے ایک بہترین صورت سے نوازا ہے اسے دن رات ماں باپ کی شکل میں عظیم نعمتیں عطا فرما کر پروان چڑھایا ہے اسے بولنا سکھایا ہے عقلِ سلیم سے نوازا ہے اور جب اس انسان کو بولنا آ گیا تو یہ اللہ ہی پر اعتراض اور بدگمانی میں مبتلا ہو گیا ،کیا وہ اللہ پاک جو مجھے اور آپ کو ایک قطرے سے وجیہہ و عقیل بنا سکتا ہے ہمارے حالات ہماری خواہشات ہماری زندگی کے مسئلے مسائل حل نہیں کر سکتا ؟ اور ہم اس سے اتنے متنفّر ہو جائیں کے اسے اپنا رب کہنا اور اسکی اطاعت کرنا بیکار سمجھنے لگیں اور اس بات کو تحریر میں لا کر حجّت تمام کر دیں کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں کیوں کہہ رہے ہیں اور کس سے کہہ رہے ہیں ،کیا ہم اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ اپنے رب پر اعتراض کر رہے ہیں اور اپنی تحریر سے دوسروں کو بھی اللہ کی ذات سے دور کر رہے ہیں آخر کیوں ؟
    میں پھر دہراؤں گا اپنی بات کو کہ آپ احباب باشعور انسان ہیں شاعر ہیں آپ لوگوں کے پیچھے نہیں چلتے بلکہ لوگ آپ کے پیچھے چلتے ہیں آپ رہنما ہیں ،ذرا سا غور فرمائیے اور سوچئیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ احباب کی شاعری لوگوں کو اللہ سے متنفّر کرنے میں بھر پور کردار ادا کر رہےی ہے ؟ اللہ سے گلہ شکوہ اور اس کی ذات کی نفی کرتے ہوئے ،جبکہ اللہ پاک نے تو اس دنیا میں بھیجا ہی ہے آزمانے کے لئے
    ارشاد باری تعالٰی ہے

    وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
    الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
    أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ

    جس کا مفہوم ہے

    ہم تمہیں آزمائیں گے خوف سے بھوک سے تمہارے مال میں کمی کر کے تہماری جان پر تکلیف دے کر (بیماری) کی شکل میں اور تمہاری خواہشات تمہاری مزے تمہاری لذّتیں کم کر کے ۔ اور خوشخبری دو صبر کرنے والوں کو کہ جب ان پر مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ،مطلب سب اللہ کی جانب سے ہے اور ہم اس سے راضی ہیں ،ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی عنایتیں ہیں اور وہی لوگ ہدایت پر ہیں

    اب آپ بتائیے کہ گلہ شکوہ اللہ سے کرنا نفرت کا اظہار کرنا بدگمان ہونا مایوس ہونا کفر کہنا اللہ سے بدظن ہونا اور نہ صرف اسکا اظہار کرنا بلکہ اسے تحریر میں لا کر حجّت قائم کرنا اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اسی راہ پر لانا ہماری نجات کا سامان ہے ؟

    امّید ہے کہ آپ احباب اور میرے اس پیغام کو پڑھنے والے تمام پیارے لوگ غور فرمائیں گے
    دعا گو
    Last edited by Hidden words; 07-08-2012 at 12:03 AM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •