Results 1 to 1 of 1

Thread: Mirza Ghalib Ke Adbi Latiffay

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    wink Mirza Ghalib Ke Adbi Latiffay

    مرزا غالب کے ادبی لطیفے
    میرزا غالب کے ایک شاگرد ایک دن امیر خسرو کی قبر پر گئے۔ مزار پر کھرنی کا ایک درخت تھا واپس آئے تو میرزا سے کہنے لگے کہ میں نے جی بھر کر کھرنیاں کھائیں۔ اتنی کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔ میرزا چہک کر بولے ۔۔۔ اماں تین کوس کاہے کو گئے، میرے پچھواڑے کے پیپل کی پیلیاں کیوں نہ کھالیں۔ چودہ طبق روشن ہوجاتے۔


    ایک روز سید سر...دار میرزا کے ہاں تشریف لائے جب تھوڑی دیر کے بعد جانے لگے تو مرزا شمع دان لے کر لب فرش تک آئے تاکہ وہ روشنی میں جوتا دیکھ کر پہن لیں۔ انہوں نے کہا "۔۔۔ قبلہ و کعبہ آپ نے اس قدر زحمت فرمائی میں اپنا جوتا پہن لیتا" مرزا ہنس کر بولے ۔۔۔ بھئی میں آپ کا جوتا دکھانے کو شمع دان نہیں لایا بلکہ اس احتیاط سے لایا ہوں کہیں آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں۔


    مراز غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچسی کھیل رہے تھے میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی صدر الدین آزردہ ؔ دہلی آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“ مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔“



    مرزا غالب قید فرنگ میں کئی سال گزار کر سلامت سے واپس ائے، تو ان کا قیام کالے میاں صاحب کے گھر ہوا۔ یہ بہادر شاہ ظفر کے مرشد زادے اور شیخ فخر الدین چشتی کے فرزند زادے تھے۔ کسی نے مرزا غالب کو رہائی کی مبارک دی تو کہنے لگے “کون قید سے رہا ہوا ہے؟ پہلے گورے کی قید میں تھا، اب کالے کی قید میں ہوں۔“


    مرزا غالب شطرنج کے بڑے شوقین تھے۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری دلی میں نئے نئے آئے تھے۔ غالب کو پتا چلا کہ وہ بھی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں تو انہیں دعوت دی اور کھانے کے بعد شطرنج کی بساط بچھا دی۔ ادھر سے کچھ کوڑا کرکٹ ڈھونے والے گدھے گزرے تو مولانا نہ کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“ مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“


    مرزا اسد اللہ غالب نے ایک دفعہ کسی دوست سے کہا “میرے پاؤں میں درد ہو رہا ہے۔ “

    دوست نے کہا “دبا دیتا ہوں۔“ غالب نے کہا “کیوں شرمندہ کرتے ہو؟“دوست نے کہا “کوئی بات نہیں، اجرت دے دیجیے گا۔“

    پاؤں دبا کر دوست نے مذاقاً کہا “لایئے اجرت کے پیسے دیجیے۔“

    غالب نے جواب دیا “میاں کیسی اجرت، تم نے ہمارے پاؤں دبائے، ہم نے تمہارے پیسے دبائے۔ حساب برابر ہو گیا۔“


    ریاست رام پور کے نواب کلب علی خان انگریز گورنر سے ملاقات کیلئے بریلی گئے تو مرزا اسد اللہ خان غالب بھی انکے ہمراہ تھے، انہیں دلی جانا تھا بوقت روانگی نواب صاحب نے مرزا سے کہا۔۔

    مرزا صاحب الوداع خدا کے سپرد۔

    مرزا غالب جھٹ بولے۔

    حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا مجھے خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔




    ‎1) ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔


    2) جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔ مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔

    3) غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔ویل، ٹم مسلمان ہے۔مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔کرنل بولا۔ کیا مطلب؟مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔

    4) ایک دفعہ مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھا رہے تھے ان کے پاس ان کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو کہ آم نہیں کھاتا تھا اسی وقت وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو غالب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دیے گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو غالب کے دوست نے سینا پھلا کر کہا دیکھا مرزا گدھے بھی آم نہیں کھاتے تو مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں گدھے ہیں جو آم نہیں کھاتے

    5) مرزا غالب شطرنج کے بڑے شوقین تھے۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری دلی میں نئے نئے آئے تھے۔ غالب کو پتا چلا کہ وہ بھی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں تو انہیں دعوت دی اور کھانے کے بعد شطرنج کی بساط بچھا دی۔ ادھر سے کچھ کوڑا کرکٹ ڈھونے والے گدھے گزرے تو مولانا نے کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“ مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“

    6) مراز غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچسی کھیل رہے تھے. میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“ مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔
    Last edited by Hidden words; 06-08-2012 at 11:58 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •