Results 1 to 3 of 3

Thread: Shakni Or Madah

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel Shakni Or Madah

    یہ اقتباس جناب اشفاق احمد کی کتاب “بابا صاحبا ” سے لیا گیا ہے اور قارئین کی دلچسپی کے لیئے نقل کیا جا رہا ہے۔ اشفاق احمد روم یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر فیراکوتی سے معجزے کی ممکنات اور سائنسی نظریے کے متعلق مکالمے کا بیان کر رہے ہیں ۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ مکالمہ کس سن میں وقوع پذیر ہوا(غالبا ستر کی دہائی میں) اور آج اس موضوع پر سائنسی تحقیق کی کیا صورتحال ہے ۔

    پروفیسر کہنے لگے ‘ پرانے وقتوں کے بھگت ، بھکاری ، سادھ اور صوفی ایک ہی بات کہا کرتے تھے کہ یہ مادہ اور اس کے ساتھ وجود میں آئی ہوئی مادی زندگی دراصل توانائی کا ہی ایک روپ ہے ۔ یہ سب شکتی ہے اور سارا سنسار شکتی کی لیلا ہے “۔

    لوگ کہتے تھے یہ بھگتوں کا وہم ہے !

    پھر ڈھائی ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے کہا زندگی ایٹموں کا مجموعہ ہے اور ایٹم توانائی کی ایک شکل ہے ۔ چنانچہ اس ظطریے کے تحت سائینسی گروہ پیدا ہو گیا ۔ انہوں نے بھی کہا زندگی توانائی ہے ۔

    تو لوگوں نے کہا کو ئی ثبوت !

    اب سائنسدانوں کے پاس ایسے نفیس اور حساس آلات تو نہیں تھے جس کے زور پر وہ دکھا سکتے اور لوگوں کو ثبوت بہم پہنچا سکتے ۔۔۔ شرمندہ سے ہو کر رہ گئے ۔

    تو معترضین نے کہا ” جھوٹ “

    پرانے بھگتوں اور سیانوں نے یہی کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت تو نہیں البتہ ہم اپنی کشفی زندگی سے بتا سکتے ہیں کہ مادہ دراصل شکتی ہی ہے ۔

    لوگوں نے کہا یہ بھی جھوٹ ! ۔

    بڑی دیر تک صوفی اور سائنسدانوں کے درمیان جھگڑا چلتا رہا مگر کوئی اپنے دعوے کا ثبوت فراہم نہ کر سکا ۔ ۔ پھر 1900 میں ایک شخص آئن سٹائن نامی نے ریاضی کی ایک مساوات حل کر کے اعلان کیا ” توانائی مادہ ہے ” E= mc2 ” یعنی توانائی کو اگر روشنی کی رفتار کے مربع سے ” متعلق ” کر دیا جائے تو یہ مادے میں تبدیل ہو جائے گی ۔

    میرے لیئے ان کی باتیں سمجھنا کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا ان میں ریاضی کے جبریے آنے لگے تھے ۔

    انہوں نے کہا ” اس کلیے کے بعد سائنس دانوں نے متفقہ طور پر اقرار کیا کہ پرانے وقتوں کے لوگ ایٹم کی جسامت اور شباہت کے متعلق جو تصور رکھتے تھے ، ایٹم اس سے بھی چھوٹا ہے اور دوسری طرف بہت بڑا ہے ۔ یعنی جو ایٹم سینٹ پیٹر کے گنبد جتنا ہو گا اس کا مرکز نمک کے ذرے کے برابر ہو گا ۔ جس طرح سینک سلائی تیزی سے گھوم کر دائرے بناتی ہے ایسے ہی الیکٹران اپنے مرکزے کے گرد چار سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم کر ایٹم کو اس کا ” اوپری وجود ” مہیا کرتا ہے ۔ جس طرح مرکزے کے گرد الیکٹرون گھومتا ہے اسی طرح مرکزے کے اندر پروٹان اور نیوٹرون گردش کر رہے ہیں ۔ اپنی تیز رفتاری میں یہ الیکٹران کے بھی گورو ہیں ۔ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ ۔!

    پروفیسر صاحب بولے” کچھ مدت تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ پروٹان اور نیوٹرون بھی ایسے تیز رفتار چکر ہوتے ہوں گے جیسے سلگتی ہوئی سینک سلائی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ باقاعدہ وجود رکھتے ہیں اور سب اٹامک ذرات ہیں ۔ اس دریافت کے بعد دنیائے سائنس میں فساد برپا ہو گیا ۔ وہ جو مادے کو ٹھوس اور زندگی کو سالڈ سمجھتے تھے پھر شیر ہو گئے اور وہ جو زندگی کو توانائی گردانتے تھے پھر صفائی کے کٹہرے میں آ گئے ۔”

    پھر پتہ چلا یہ جو جوہری ذرات میں اٹامک پارٹیکلز ہیں جس سے پروٹان اور نیوٹران کا ہیولا بنتا ہے ، اصل میں پارٹیکل نہیں ہیں بلکہ موج ہیں ، لہر ہیں ، بس ارتعاش ہیں ۔ ان میں کچھ بھی ٹھوس نہیں ۔ ان کی حقیقت سالڈ نہیں ہے ۔ چناچہ اب ، اس لمحے فزکس کے سامنے ایک گھمبیر مسئلہ ہے ۔ ایک اہم مسئلہ ۔ کیا سب اٹامک پارٹیکلز ٹھوس ذرات ہیں یا صرف موجیں اور لہریں ہیں ۔ “

    ابھی ہمارے آلات ایسے حساس اور اور دقیق نہیں ہیں نہ ہی ان میں کوئی کشفی طاقت ہے جو اصل حقیقت کو کھول کر بیان کر سکیں ۔ ہمارے پے درپے تجربوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کوئی جگہ زندگی کے بنیادی یونٹ موجوں کی صورت میں نظر آتے ہیں اور کئی مقامات پر یہ ذرات کی صورت میں اجاگر ہوئے ہیں ۔ اب کیا اعلان کریں موج کہ پارٹیکل ؟

    چناچہ اب تک یہی معلوم ہو سکا ہے کہ سارا بکھیڑا تجربہ کرنے والوں کا ہے ۔ اگر تجربہ کرنے والوں کے ذہن میں ، روح میں ، بدن میں یہ تصور جاگزیں ہے کہ یہ سب اٹامک ، پارٹیکلز ہیں تو اس کو پارٹیکلز ہی نظر آئیں گے ، ذرے ہی دکھائی دیں گے ۔ اور اگر اس کے دھیان میں ، اس کے خیال میں ، اس کے گیان میں ، اس کے بدن میں ، اس کی آتما میں یہ تصور ہے کہ یہ موجیں ہیں ، ارتعاش ہے ، لہریں ہیں تو پھر اس کو وہ موجیں ہی دکھائی دیں گی ۔ جب کبھی بھی وہ تجربہ کرے گا ، سب اٹامک پارٹیکلز موجیں ہی بن کر اس کے سامنے آئیں گی ۔

    میں نے پہلی دفعہ سائنسی تجربے کو اس قدر مجبور و معذور پایا تھا کہ وہ دراصل حقیقت اجاگر کرنے کی بجائے تجربہ کرنے والی کی خواہش ، ہوس اور وسواس کا تابع ہوا بیٹھا تھا ۔ لیکن شاید میں غلط سمجھا تھا ۔ سائنس کی دنیا میں نہ کبھی ایسا ہوا تھا نہ ہی اس کی امید تھی ۔

    پروفیسر فیراکوتی کہنے لگے ” یہاں تجربے اور مشاہدے پر اور اس کے قدرتی نتیجے پر حقیقت کا اطلاق نہیں بلکہ تجربہ کرنے والے کی مرضی اور منشا کا اختیار ہے ۔ ۔ یہ مشاہدہ کرنے والے کارشناس کے من چلے کا سودا ہے ۔ موج چاہے ، موج دیکھ لے ، موجی کو موجیں ملیں ، ترابی کو ذرے !”

    کہنے لگے اس حیرت انگیز انکشاف نے دنیا کا صدیوں پرانا اصول توڑ کے خاک میں ملا دیا ہے کہ تجربہ چاہے کہیں بھی کیا جائے ، کوئی بھی کرے اس کے نتائج یکساں ہوں گے ۔

    یہاں سب اٹامک سطح پر سارا اختیار تجربہ کرنے والے کے تصرف میں آ گیا ۔ ایٹم نے اپنی روح تجربہ کرنے والے کے اختیار میں دے دی ۔ اس کو گورو ، مرشد اور مالک مان کر خود اس کا بردہ بن کر تھرکنے لگا ۔

    پروفیسر فیراکوتی کہ رہے تھے اور میرے کانوں میں رینک بازار جالندھر میں تخت پوش جوڑ کر اس کے اوپر بیٹھے مبارک علی خان فتح علی خان کی آواز گونج رہی تھی

    تو ہر دم می نمائی جلوہ من ہر بار می رقصم

    بہر رنگے کہ می رقصا نیم اے یا رمی رقصم

    اس کے ساتھ ہی میرا پگ گھنگھرو باندھ کر ناچ رہی تھی

    سارا مشرق اسی موضوع میں ڈوبا ہوا تھا ۔

    مجھے بڑی دیر تک بے خبر پا کر وہ میرا چہرا دیکھتے رہے اور پھر شاید میرے اندر کا کلائیڈوسکوپ بھانپ کر ہولے سے میرا کندھا چھو کر بولے ” میں تم کو زیادہ پریشان نہین کرنا چاہتا لیکن تم نے معجزے اور کرامت کے متعلق پوچھا ہے اس لیئے میں اتنا ضرور ہوں گا کہ معجزے اور کرامت کے بارے میں ایک سائنسدان کی حیثیت سے میں کچھ نہیں کہ سکتا ۔ نہ اس کا بطلان کر سکتا ہوں ، نہ اس کی تصدیق کر سکتا ہوں ۔ میں تم کو صرف یہ بتا رہا ہوں کہ ہماری روزمرہ زندگی کے تعقل یا تصور ایٹمی سکیل پر بالکل معتبر اور موثر نہیں ۔ نہ ہی ہم ان کو اپنے حساب سے درست اور صحیح کر سکتے ہیں ۔

    مثال کے طور پر اس وقت جو کتاب تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ اس کتاب میں ٹھوس اور وزنی کے مقابلے میں خالی زیادہ ہے ۔ اس کا قابل محسوس وجود کم ہے اور ناقابل محسوس خالی پن زیادہ ہے ۔ یعنی وہی پرانی بات کہ Something کے مقابلے میں Nothing زیادہ ہے ۔ اس کتاب کے ایٹموں میں الیکٹران ایسی تیزی سے گھوم رہے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کو ایک ٹھوس وجود عطا کر رکھا ہے ۔انہی کے وجود سے اس کتاب کی جلد ، جلد کے ڈورے ، حرف اور سیاہی عنوانات کی گرفت میں ہے ۔

    یہ ایک دھوکا ہے ، Illusion ہے ۔ اگر اس کتاب کے سارے الیکٹران ایک ساتھ طے کر کے گھومنا چھوڑ دیں تو یہ کتاب خاک کی مٹھی بن کر تمہارے ہاتھ سے نیچے گر جائے گی ۔ گرے گی نہیں بلکہ پکڑے پکڑے غائب ہو جائے گی ۔ ۔۔۔ جھر ریٹ ! سب لوگ تالی بجاو ۔

    پھر فورا کہنے لگے ” میں تم سے کوئی مابعدالطبیعیاتی بکواس نہیں کر رہا ۔ حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔ ایک طبیعاتی حقیقت ، ایک سائنسی حقیقت ۔ ہمارے ارد گرد یہ سب کچھ یہ دیوار ، پتھر ، ہوائی جہاز ، کار تمہارا وجود یہ سب اپنے مرکزے کے گرد الیکٹرون کی گردش اور ارتعاش سے وجود پذیر ہیں ۔ ہم یہ لہر ، یہ موج ، یہ ارتعاش نہیں دیکھ سکتے ۔ ہماری حسیات اتنی قوی نہیں ہیں ۔ لیکن ہم یہ ضرور جان گئے ہیں کہ الیکٹرون کی یہ گردش جاری ہے ۔

    تو پھر یہ طے پایا کہ اس کائنات میں ہونے کے مقابلے میں نہ ہونا زیادہ پایا جاتا ہے ۔ان اشیا میں جو پچھلے لاکھوں کروڑوں سالوں سے ساکت و صامت نظر آتی ہیں ، ان میں گردش کا عمل اور مسلسل حرکت کا عمل جاری ہے ۔

    ہر طرح کی زندگی توانائی ہے ۔ زندگی کچھ ہونے کا اور کسی وجود کا یا کسی دیہہ کا نمود بظاہر ضرور پیش کرتی ہے ، لیکن ہے نہیں ۔ حقیقت میں یہ توانائی ہے بس۔

    اور تمہارے سوال کے جواب میں ، میں بس اس قدر کہ سکتا ہوں کہ یہ توانائی انسانی تعامل کی ، انسانی انٹرایکشن کی جواب گوئی ضرور کرتی ہے ، کیوں کرتی ہے ، کیسے کرتی ہے ، اس کا ہمیں علم نہیں ، یہ انسان کی جواب دہندہ ضررو ہے ۔ اس طریق تعامل میں ، اس انٹرایکشن میں کیا راز ہے ، اس کا بھید نہیں ملتا ۔ میرا مطلب ہے اس وقت تک نہیں ملا آگے کی خبر نہیں ۔
    Last edited by Hidden words; 06-08-2012 at 11:43 PM.

  2. #2
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default Re: شکتی اور مادہ

    hm

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: شکتی اور مادہ



Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •