اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق
اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا

ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اُس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا

کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہوا

لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فراز! تجھ سے کہا نا، بہت ہوا

احمد فراز