Results 1 to 2 of 2

Thread: Na Fermani Ka Anjam - نافرمانی کا انجام

  1. #1
    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    651 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    644254

    candel Na Fermani Ka Anjam - نافرمانی کا انجام

    Assalam-o-Alaikum



    Is mai'n koi shak nahi k sub kuch jantey bojhtey huwey bhi hum Allah aur us k Rasool(saww) ki na sirf na fermani kertey hai'n bel keh us pe seena zori bhi kertey hai'n hum bhool gaye hai'n k hum us Rasool (saww) ki ummet mai'n se hai'n jis jis ka ek ek aanso is ummet key ghum mai'n baha hey

    Allah hum sub k hal pe rehem fermaye aur hidayet ki doulat se nawazey


    Ameen






    Na Fermani Ka Anjam


    نافرمانی کا انجام





    اعمال قبیح

    ”ولاتجسسوا… ولاتحاسدو ا…ولاتدابروا … ولاتباغضوا“․
    یہ پانچ اعمال ہیں … جو دلوں کو توڑتے ہیں … اور چھٹا… لایغتب بعضکم بعضا… یہ چھ ہوئے … اگر یہ چھ چیزیں نہ ہوں … تو ایک نیویارک میں دس دین دار ہو جائیں… تو کچھ بھی نہ ہو گا … محبتیں ہی محبتیں ہوں گی … اگر یہ چھ ہوں تو سارے کے سارے ایک ہی مصلے پر آکر کھڑے ہو جائیں … پھر بھی بغض ونفرت سے بھرے ہوئے ہوں گے…

    لاتجسسوا… کسی کے عیب تلاش نہ کیا کرو… کسی کی برائیوں کی تانک جھانک نہ کیا کرو … کہ کیا کرتا ہے کیا نہیں کرتا…
    لاتحاسدوا… حسد نہ کیا کرو۔
    لاتدابروا… کسی کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر اس کی ٹانگیں نہ کھینچا کرو … اس پرر شک کریں… کہ الله تعالیٰ اور دیں … الله تعالیٰ اور دیں … یا الله! مجھے بھی دے … اور اس کو بھی دے… حسد مت کرو… تجسس مت کرو…
    لایغتب… غیبت مت کرو… بغض مت رکھو… یہ چھ کام ہیں … جب ہوں گے … تو امت محبت سے محروم ہو جائے گی … ساری امت آپس میں ٹوٹ پڑے گی… چاہے سب کے سب ایک ہی مصلی پر نماز کیوں نہ پڑھ رہے ہوں۔

    حضرت لقمان علیہ السلام کی وصیت

    حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی …﴿ یا بنی انھا ان تک مثقال حبة من خردل فتکن فی صخرة او فی السموات او فی الارض یأت بھا الله﴾․ اے میرے بیٹے! یادرکھنا گناہ کرو گے… یا برائی کرو گے … یا اچھائی کروگے …پہاڑ کے اندر چھپ کے کرو … تو الله تعالیٰ کو پتہ چل رہا ہے اور وہ رائی کے برابر … برائی یا اچھائی ہے … یا زمین کے اندر گھس جاؤ … وہاں بیٹھ کر کرو … کہ کسی کو پتہ نہ چلے … یا آسمان پہ چڑھ کے کرو … پھر بھی تیرا رب تجھے دیکھ رہا ہے … ﴿یات بھا الله﴾… الله تعالیٰ اسے ظاہر کر دے گا…

    لہٰذا الله تعالیٰ کی ذات کو ہر وقت سامنے رکھ کر اس سے ڈرتے ہو ۔

    توبہ کرلو
    جنیدبغدادی رحمة الله علیہ کے پاس ایک آدمی آتا ہے … کہ نصیحت فرمائیے… تو جنید بغدادی رحمة الله علیہ نے فرمایا… بیٹا گناہ کرنا ہے … تو وہاں چلا جاجہاں الله تعالیٰ نہ دیکھتا ہو … کہا الله تعالیٰ تو ہر جگہ دیکھتا ہے … تو فرمایا پھر گناہ کرنا ہی چھوڑ دے … جب الله تعالیٰ ہر جگہ دیکھتا ہے … توتوبہ کرلے۔
    میرے بھائیو اور بہنو! الله تعالیٰ نے انسان کو بیکار پیدا کیا … نہ بے مقصد پیدا کیا ہے۔
    ﴿افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون﴾․
    تمہارا کیا خیال ہے … کہ تم بیکار ہو … اور میرے پاس آنے والے نہیں ہو … الله تعالیٰ کا زبردست نظام میرے اور آپ کے گرد ۔
    زبان کی ہرحرکت… آنکھوں کی ہر حرکت … کان کی سماعت… دل میں آنے والے جذبات … احساسات… سب پر الله تعالیٰ کا زبردست پہرہ ہے۔
    ﴿مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید﴾ بولتے ہیں تو لکھاجاتا۔
    ﴿وإنّ علیکم لحافظین کراماً کاتبین﴾… سو رہے ہوں … جاگ رہے ہوں … کاروبار میں ہوں … تنہائی میں ہوں … دو نگہبان دائیں بائیں بیٹھتے ہیں … جنہیں نہ کھانے کی ضرورت نہ سونے کی ضرورت … نہ آرام کی ضرورت… ہماری ہر ہر حرکت پر کڑی نگاہ ہے۔

    اعلان خداوندی

    ﴿ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عند مسؤولا﴾․

    اور الله پاک اعلان فرما رہے ہیں … کہ میرے پاس سنبھل کے آنا… تمہاری آنکھوں سے پوچھوں گا… کیا جذبات لے کے آئے ہو … اور اس دن ان پر تیرا زور نہیں چلے گا … بلکہ یہ میرے حکم سے بولیں گے … اور جسم کا ایک ایک عضو بولے گا… اور یہ کہے گا… تمہیں کیا ہوا … میرے ہی خلاف تم گواہی دینے لگ گئے؟ … وہ جواب میں کہیں گے ۔

    ﴿انطقنا الله الذی انطق کل شيء﴾… ہم کیا کریں … ہمیں وہ بلوا رہا ہے جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا فرمائی ہے ۔ کہے گا تمہارا بیڑا غرق ہو … تمہاری وجہ سے تو میں الله تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہا، آج تم ہی میرے خلاف ہو گئے … ﴿الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون﴾ آج تمہاری زبانیں بند کر دیں گے … تمہارے ہاتھ پاؤں… تمہارے کیے کرائے کا کھلا ثبوت اپنی زبان سے پیش کریں گے ۔

    اس وقت ساری دنیا کے مرد اور عورت… اس اعتبار سے زندگی نہیں گزار رہے کہ ان پر کوئی نگہبان نہیں ہے … جو انہیں دیکھ رہا ہے … دن رات ان کی نقل وحرکت پر اس کی نگاہ ہے… او راس سارے کیے کرائے کو وہ سامنے رکھ کر پیش کرے گا… اس اعتبار سے ہماری زندگی نہیں گزر رہی۔
    ﴿یعلمون ظاہرا من الحیوة الدنیا وھم عن الآخرة ھم غفلون﴾
    ہم اس دنیا کی چار روزہ زندگی کے جھمیلوں میں اتنا پھنس گئے ہیں کہ آخرت کی زندگی سے ہی غافل ہو گئے … آنے والی گھاٹیوں سے غافل ہو گئے… آنے والے عذاب سے غافل۔
    ﴿ولا تحسبن الله غافلا عما یعمل الظلمون﴾
    بتا دو میرے بندوں، میری بندیوں کو … عورتوں، مردوں کو بتا دو … جو کچھ تم کرتے ہو میں غافل نہیں ہوں… پکڑتے کیوں نہیں؟
    ﴿نؤخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار﴾
    پکڑ کا ایک دن رکھا ہے اس وقت تک مہلت دی ہوئی ہے … پکڑنے پر طاقت پوری ہے۔
    ﴿افامن الذین مکروا السیٰات ان یخسف الله بھم الارض﴾
    اے میرے حبیب! انہیں بتائیے کہ میں زمین کو حکم دوں … تم سب کو اندر لے جائے، دھنسا دے تم میں ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑے﴿یصیبھم العذاب من حیث لا یشعرون﴾ یا وہاں سے عذاب کا کوڑا برساؤں کہ تمہیں وہم وگمان بھی نہ ہو۔

    علامات قیامت

    یہ ترمذی شریف کی روایت ہے … جب حکومت کے مال میں حکومت کے کارندے خیانت کریں گے ۔ یا جب مال چند ہاتھوں میں یجائے گا… جب لوگ دولت سمیٹ لیں گے … سود کے نظام سے… سٹہ بازی کے نظام سے … جوئے کے نظام سے ذخیرہ اندوزی کے نظام سے … جب دولت چند ہاتھوں میں ہو گی … امانت کھائیں گے … کوئی امانت والا نہیں رہے گا … کوئی زکوٰة دینے والا نہیں ہو گا … زکوٰة کو ٹیکس کہیں گے… زمین دار کہیں گے ہمارے خرچے پورے نہیں ہوتے، ہم عشرکہاں سے دیں؟… تاجر کہیں گے ہم نے خود کمایا ہے ہم کیوں غریب کو دیں ؟… ہماری ذاتی محنت کی کمائی ہے۔

    او رجب یہ امت علم دین کو دنیا کمانے کے لیے پڑھے گی … الله تعالیٰ کے لیے نہیں پڑھے گی … لوگ اپنی بیویوں کی فرماں برداری کریں گے … والدین کی نافرمانی کریں گے … اپنے دوست کو گلے لگ کے ملیں گے … باپ کو دیکھ کے راہ بدل جائیں گے کہ کہیں باپ سے بات نہ کرنی پڑے… قبیلے کا سردار شرابی ہو گا … نافرمان ہو گا … حکومت نااہل اور ذلیل انسانوں کے ہاتھ میں ہو گی … ایک دوسرے کو سلام کریں گے، مگر الله تعالیٰ کے لیے نہیں … اس کے شر سے بچنے کے لیے … مسجدوں میں لڑائیاں ہو ں گی… اونچی آوازیں ہوں گی … گانے والیاں معزز ومحترم ہو جائے گی… گانے والیوں کو شہرتملے گی … او رگانا بجانا عام ہو جائے گا … اور شراب پی جائے گی اور اس کو گناہ نہیں سمجھا جائے گا … ولبس الحریر … اور مرد ریشم پہنیں گے… اور آج کے لوگ پہلے لوگوں کو برا کہیں گے … وہ ایسے ہی ان پڑھ زمانہ تھا … آج ترقی کا زمانہ ہے … وہ اونٹوں کا دور تھا… آج راکٹ کا دور ہے … جب یہ پندرہ کام یہ امت کرے … حالاں کہ اس سے زیادہ سخت گناہ کافر کر رہے ہیں … مگر ان کوچھٹی ہے … یہ ان کے مقابلے میں چھوٹے کام ہیں … جب یہ کام میری امت کرے گی … تو ان پر موسم بدل جائیں گے … اور ہواؤں کے طوفان آئیں گے … اور زمین پر زلزلے ہوں گے … آسمان سے پتھر برسیں گے… ان کے چہرے مسخ ہو جائیں گے… اور وہ پے درپے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔

    لوگوں سے توبہ کراؤ

    ہم نے کاروبار کو نہیں چھوڑا … دوکان کو نہیں چھوڑا… زمین کو نہیں چھوڑا… بیوی بچوں کو نہیں چھوڑا… گھر کو نہیں چھوڑا… اگر چھوٹی موٹی آگ لگ جائے … تو فائر بریگیڈ کا انتظار ہوتا ہے … اگر پورے محلہ میں آگ لگ جائے … تو ہر آدمی بالٹی لے کر بھاگتا ہے … ہر آدمی سمجھتا ہے … کہ اگر فائر بریگیڈ کا انتظار کیا … تو پورا شہر جل کر خاک ہو جائے گا … اب جب کہ پوری دنیا میں نافرمانی کی آگ لگی چکی ہے … ہر ایک کو بھاگنا ہو گا۔

    ہر ایک سے منت کرناہو گی … تب جاکر لوگوں میں … الله تعالیٰ کی طرف رجوع ہو گا … ورنہ سارے اعمال ایسے ہیں … جو الله تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔

    لوگ کہتے ہیں کہ مہنگائی ہو گئی … ہم کہتے ہیں … کہ شکرکرو کہ ہم زندہ ہیں ورنہ ہمارے اعمال ایسے ہیں … کہ زمین پھٹ کر ہمیں اندر لے جاچکی ہوتی جو ہم کر رہے ہیں … کب سے آسمان کی بجلیاں کڑک جائیں … جو کچھ ہو رہا ہے … کب کے آسمان سے فرشتے آکر زمین کو پٹخ دیتے حکومتوں کے پیچھے مت بھاگو… ہڑتالیں نہ کرو… مسجد میں آجاؤ… توبہ کر لو۔

    آج پاکستان ہی میں کتنے مسلمان شراب پیتے پیتے مر گئے… چوری کرتے کرتے مر گئے، زنا کرتے کرتے مر گئے … ڈاکہ ڈالتے ڈالتے مر گئے… سود کھاتے ہوئے مر گئے … آپ بتاؤ یہ کہاں چلے گئے ؟

    جو دنیا میں شراب پیتا ہوا مر گیا … تو جہنم میں جو پیپ نکلے گی… اس کو الله تعالیٰ جمع کرکے شراب پینے والوں کو پلائے گا … جو اس حالت میں مر گیا … بتاؤ تو اس کا کتنا بڑا نقصان ہوا…؟ جو تکبر کے ساتھ مرے گا… اس کو جنت کی ہوا نہیں لگے گی … اگر اس سے ہم توبہ کروا لیتے تو کتنے بڑے نقصان سے وہ بچ جاتا؟

    اس کا ہماری گردنوں پر قبضہ ہے … دل پر قبضہ ہے … دماغ پر قبضہ ہے … سوچ پر قبضہ ہے… جسم کے ایک ایک ذرے حصے پر قبضہ … ایک ایک رگ پر قبضہ ہے … جسم کی ایک ایک بوٹی پر قبضہ ہے … تو وہ الله تعالیٰ انسانوں کو سیدھا نہیں کرسکتا … جونہی آنکھ نے غلط دیکھا … ایک تھپڑ پڑا اور آنکھ نکل کر وہ گئی … کانوں سے گانا سنا… تو الله تعالیٰ کا تیر آیا اور کانوں سے پار ہو گیا، سماعت گئی … چھوڑ دے یہ گانے بجانے … جونہی ہاتھ سے ظلم ہونے لگا ہاتھ شل ہو گیا … پاؤں غلط چلا تو شل ہو گیا … شہوت غلط راہ پر چلی تو الله تعالیٰ نے زمین پر پٹخ کر دکھایا۔

    زبان جھوٹ بولے تو فالج گرادے… کیا الله تعالیٰ کو قدرت نہیں ہے ؟… وہ پوری طرح قادر ہے۔

    دو عرب سردار آئے مشورہ کرکے … الله تعالیٰ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کو ( نعوذ بالله) قتل کریں گے … ایک نے کہا میں ان کو باتوں میں لگاؤں گا اور تو قتل کر دینا… ایک باتیں کرنے لگا تو دوسرے نے تلوار پر ہاتھ رکھا… ہاتھ شل ہو گیا … وہ ہٹانا چاہتا ہے، مگر ہاتھ تلوار سے دستے سے ہٹتا ہی نہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارا کو ظالم بادشاہ نے پکڑ لیا غلط ارادے سے تو الله تعالیٰ نے سارا منظر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تسلی کے لیے کھول کر دکھایا… اور حضرت ابراہیم علیہ السلام دیکھ رہے ہیں … کہ وہ ہاتھ بڑھاتا تو ہاتھ شل ہو کر گر پڑتا نیچے … تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر ہاتھ بڑھاتا… تو ہاتھ شل ہو کر نیچے گر پڑتا… کیا سارے زانیوں کو الله تعالیٰ نہیں پکڑ سکتا ؟ قادر ہے … طاقتور ہے۔

    غفلت چھوڑو

    من چاہی چھوڑ د﴿لاتحسبن الله غافلا عما یعمل الظلمون﴾ ظالمو! الله کو غافل مت سمجھو… یہ سارے کام جو میں نے بتائے یہ ظلم ہیں… گانا سننا بھی ظلم ہے ؟… ارے الله تعالیٰ کے بندو اس سے بڑا ظلم کیا ہو گیا … دیکھو! یہ ساری مارکیٹ… بازار ظالموں سے بھری پڑی ہے… کہ جس الله تعالیٰ نے ان کو مٹی سے وجود دیا ہے … اس الله تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے انکاری ہوئی پڑی ہے … دو ہزار کا ملازم رکھا ہو تو اپنی بات منواؤ گے اس سے کہ نہیں؟


    یہ موسیقی جس قوم میں آئی وہ قوم تباہ ہوئی … دنیا کی تاریخ پڑھو جس قوم نے راگ ورنگ چھیڑا… جس قوم کی نسل کے ہاتھوں میں بنسریاں آئیں … اور ان کے قدم اس کی آواز پر تھرکنے لگے … اور گانے عام ہوئے … اس قوم کو زمین آسمان نے دیکھا… اور یہ گواہ ہیں … یہ ہوا گواہ ہے … یہ فضا گواہ ہے … کہ وہ قومیں برباد ہوئیں … وہ قومیں تباہ ہوئیں… وہ قومیں ہلاک ہوئیں… ان قوموں کو ایٹمی طاقت نہ بچا سکی … ان قوموں کو مادی طاقت نہ بچا سکی … ان قوموں کو ثقافتی طاقت نہ بچاسکی… ان قوموں کو ان کے سیاسی نظام نہ بچاسکے… کافر ہو کر بھی … مشرک ہو کر بھی جن قوموں میں موسیقی پھیلی اور زنا پھیلا اور سود پھیلا… الله تعالیٰ نے انہیں صفحہ… ہستی سے مٹایا اور ان پر رندہ پھیر دیا… اپنے عذاب کا کوڑا برسایا… وہ نہ دنیا میں زندہ رہنیکے قابل رہتے ہیں نہ آخرت میں کوئی قابل ذکر قوم ہیں۔

    میرے بھائیو! ان کانوں کو حرام سننے سے بچا لو… تو کائنات کے ذرہ ذرہ کا الله تعالیٰ کی تسبیح پڑھنا آپ کو سنائی دے گا… ایک ایک چپہ… ایک ایک پتھر… ایک ایک تنکا… ایک ایک پہاڑ… ایک ایک گلی کی ایک ایک اینٹ تمہیں الله الله کرتی سنائی دے گی … ان کانوں کو حرام سننے سے جو بچائے گا، ان آنکھوں کو حرام دیکھنے سے جو بچائے گا… اس زبان کو حرام بولنے سے جو بچائے گا … اس پیٹ کو حرام کھانے سے جو بچائے گا … حرام استعمال کرنے سے جو بچائے گا … الله تعالیٰ کائنات میں اپنی قدرت اسے دکھا دے گا۔

    اس کائنات کی ہر چیز اس کے زوال کا … اس کی ہلاکت او رتباہی کا خود پتہ بتاتی ہے … یہ دنیامٹ جانے کا گھر ہے … آئی ہوئی بہار دیکھ کے یوں لگتا ہے کہ یہ کبھی نہیں جائے گی … ہوا کا ایک حھونکا جب اسے خزاں میں بدلتا ہے تو لوگ بھول ہی جاتے ہیں کہ کبھی بہار بھی تھی … جوانی کے رنگ میں جب آدمی مچلتا ہے … اچھلتا ہے … اس کے اندر جوانی کی لہریں دوڑتی ہیں… وہ سمجھتا ہے… کہ یہ جوانی سدار ہے گی … گھنٹوں اپنے چہرے کو دیکھتا ہے … کبھی ایک زاویے سے، کبھی دوسرے زاویے سے … بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے، آگے سے بھی دیکھتا ہے … پیچھے سے بھی کیسا نظر آتا ہوں…؟ اپنے اوپر خود اتراتا ہے … اپنے اوپر وخود اسے گمان ہوتا ہے … مان ہوتا ہے … اپنی ذات سے پیار ہوتا ہے کہ میں کیسا لگ رہا ہوں … چند صحبتیں گزرتی ہیں … چند شامیں گزرتی ہیں۔

    وہی شخص ہے وہی مرد ہے … وہی عورت ہے۔
    آئینے کا سامنا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں … نہیں ،ٰ نہیں !
    یہ وہ چہرہ نہیں جو کبھی تروتازہ تھا۔
    جو کبھی گلاب سے تشبیہ دیا جاتا تھا۔
    جو کبھی صبح صادق سے تشبیہ دیا جاتا تھا۔
    نہیں! نہیں! یہ نہیں، اس پر تو مکڑی کے جالے کی طرح بڑھاپے نے جھریوں کاتانا بانا بُن دیا ہے۔
    وہ چشم غزال… اس کی تو ہرنی جیسی آنکھ ہے۔
    اور ظالم ہاتھ نے اس کے پپوٹوں کو اس کی آنکھوں پر گرادیا… وہ آنکھ اٹھنے کو نہیں… دیکھنے کو نہیں… چشمے چڑھ گئے۔
    پھر انہوں نے بھی دیکھنے سے انکار کر دیا۔
    میرے بھائیو! بغیر توبہ کے نہ رہیں… یہ ظلم نہ کریں… الله تعالیٰ کے واسطے… اس کی کھا کر اسی کو غرانا!
    … یہ تو کتا بھی نہیں کرتا
    … یہ تو بلی بھی نہیں کرتی
    … یہ تو شیر بھی نہیں کرتا
    وہ چڑیا گھر میں ہو یا سرکس میں، اس کو جو گوشت کھلاتا ہے اس کے سامنے وہ بھی بکری بن جاتا ہے۔
    ہاں! الله تعالیٰ کی زمین پر رہیں… اور الله تعالیٰ کی زمین کو گناہوں سے جلا دیں۔

    الله تبارک وتعالیٰ کی فضا کو استعمال کریں… اور ساری فضا میں گناہوں کا دھواں بھر دیں۔
    آنکھوں کی شمع اس نے جلائی اور ہم اوروں کی عزتوں کو دیکھیں۔
    کانوں کے ٹیلی فون اس نے دیے اور ہم رنڈیوں کے گانے سنیں۔
    دل ودماغ اس نے دیا… او رہم نافرمانی میں استعمال کریں۔
    جسم اس نے دیا… اور وہ نافرمانی میں استعمال ہو… یہ تو کوئی عقل کی بات نہیں ہے۔

    کتا ایک روٹی کھا کر ساری زندگی کے لیے… وفادار بن جاتا ہے۔ آپ سوتے ہیں… وہ جاگتا ہے… ساری رات پہرہ دیتا ہے ۔ تو میں کتے سے نیچے ہو جاؤں کہ جو ایک روٹی پہ ایسی وفا کر جائے۔

    اور میں سارے جہان کی نعمتیں کھا کراسی سے ٹکرا جاؤں،کوئی انسانیت نہیں ہے ، ورنہ آخری سانس میں بھی توبہ کر لے… تو وہ بھی قبول ہے، لیکن موت کا پتہ نہیں کب آجائے… تو بہ آج ہی کرنی ہے۔


    آیت اتری… ﴿قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن﴾… اے میرے حبیب! بتا دو اپنی بیٹیوں کو … اپنی بیویوں کو … ساری مسلمان عورتوں کو کہو کہ اب پردے کا حکم آگیا ہے … ساری رات بیٹھ کر عورتوں نے اپنے لیے چادریں بنائیں، فجر کی نماز میں جب آئیں تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں۔
    کانھن غراب…
    یوں لگا جیسے کوے مسجد میں آگئے…
    کالی چادروں میں ڈھکی ہوئی … چھپی ہوئی…
    ادھر حکم آیا، ادھر اطاعت آئی…
    کہ اپنی من چاہی کو الله پر قربان کرنے کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا…

    اپنی چاہتیں الله تعالیٰ پہ قربان کرنے کے جذبے آگئے… بس وہ کریں گے جو الله تعالیٰ کہے گا۔ عبدالله ابن مکتوم رضی الله عنہ نابینا گھر میں آئے … حضرت عائشہ رضی الله عنہا او رحضرت حفصہ رضی الله عنہا بیٹھی تھیں… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اندر چلی جاؤ … انہوں نے کہا : جی اندھا ہے … وہ تو اندھا ہے … تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے کہا: تم تو اندھی نہیں ہو …أ فعمیا وان أنتما… وہ تو اندھا… لیکن تم تو اندھی نہیں ہو۔

    یہ کون عورتیں ہیں؟ نبی کی بیویاں… جن کی پاکیزگی قرآن بتائے۔ اور عبدالله ابن ام مکتوم رضی الله عنہ کون ہیں جن کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم کو تنبیہ کی گئی… یہ وہ ہستی ہے… سوالا کھ صحابہ رضی الله عنہم میں یہ ایک شخص ایسا ہے کہ جس کے بارے میں دو دفعہ قرآن میں ایسے حیرت انگیز طریقے سے آیا ہے کہ کسی کے بارے میں نہیں آیا۔

    حضور صلی الله علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور دعوت دے رہے ہیں قریش مکہ کو… سرداران مکہ کو… یہ آگئے… انہیں کیا پتہ کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ آکے کہا : یا رسول الله( صلی الله علیہ وسلم)! کچھ مجھے بتائیں… آپ صلی الله علیہ وسلم کو اچھا نہیں لگا… کہ یہ سردار بیٹھے ہوئے ہیں… یہ نفرت کھا جائیں گے… کہ یہ اس وقت نہ آتا تو اچھا تھا… تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی سنی ان سنی کرتے ہوئے انہی سے بات کرتے رہے… ابھی وہیں بیٹھے تھے… کہ وحی آگئی۔
    ﴿عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی ومایدریک لعلہ یزکی او یذ کرفتنفعہ الذکری﴾․
    اے میرے حبیب! آپ (صلی الله علیہ وسلم) نے اس سے منھ پھیر لیا اور اس سے ماتھے پہ بل پڑ گئے … کیوں آپ صلی الله علیہ وسلم کے ماتھے پر بل پڑے؟ یہ شخص … اس کے بعد عبدالله ابن مکتوم رضی الله عنہ جب کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم کے دربار میں آتے … تو آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے۔
    ”مرحبا لمن عاتبنی فیہ ربی مرحبا مرحبا“․
    ”جس کی وجہ سے میرے رب نے مجھے تنبیہ فرمائی…“
    اور یہ وہ شخص ہے کہ قرآن میں آیت آئی:
    ﴿لایستوی القاعدون من المؤمنین والمجاھدون فی سبیل الله﴾
    یہ آیت آئی … کہ الله کی راہ میں نکلنے والے جہاد کرنے والے… گھر بیٹھنے والے برابر نہیں ہو سکتے… تو عبدالله ابن ام مکتوم رضی الله عنہ نابینا تھے، کہنے لگے یا الله! میں کیا کروں؟… تو تو جانتا ہے، میں اندھا ہوں، میرے لیے تو گنجائش نکال، میں کیسے تیری راہ میں نکلو؟… آیت اتر چکی ہے… جبرائیل علیہ السلام پھر ایک لفظ لے کر دوبارہ آئے۔

    ایک لفظ جس کے لیے قرآن دوبارہ اتارا گیا اور آیت کو بدلا گیا… یا رسول الله( صلی الله علیہ وسلم)! اب اس آیت کو یوں پڑھیے۔
    ﴿لایستوی القاعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر﴾․
    یہ لفظ بڑھایا گیا۔
    ﴿غیر اولی الضرر والمجاھدون فی سبیل الله﴾․
    وہ مسلمان جنہیں عذر کوئی نہیں او رگھر بیٹھے ہوئے ہیں …وہ اور الله کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے… ہاں جو عذر والے ہیں ان کے لیے معافی ہے … غیر اولی الضرر۔
    ایک لفظ کے لیے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھگایا گیا…

    یہ ہے وہ عبدالله ابن ام مکتوم رضی الله عنہ… ان کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی فرشتوں سی پاکیزہ بیگمات کو فرمارہے ہیں، اندر چلی جاؤ… یا رسول الله! اندھا ہے… کہا تم تو اندھی نہیں … ارے یہ ان کی وجہ سے نہیں ہو رہا … اس محبوب کو پتہ تھا … میری امت آگے آکر کیا کرنے والی ہے … یہ ان کے لیے اصول بنائے جارہے ہیں … قرآن اوراق سے نکل کر جسم میں آجائے۔

    پورے تیس پارے انسان کے پانچ فٹ کے جسم میں آجائیں… پھر اس مسلمان پر جس کا ہاتھ اٹھے گا الله تعالیٰ اس ہاتھ کو توڑے گا… جو پاؤں اٹھے گا الله تعالیٰ اس پاؤں کو کاٹے گا، جو آنکھ اٹھے گی الله تعالیٰ اس آنکھ کو پھوڑے گا، جب مسلمان حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم والی کتاب کو لے کر کھڑا ہو جائے گا۔

  2. #2
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    Muhabbat ki shaon mein
    Posts
    721
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Na Fermani Ka Anjam - نافرمانی کا انجام

    jazak Allah bhut acha lika khush raho Ameen

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •