Results 1 to 2 of 2

Thread: اسلام کی اجنبیت

  1. #1
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default اسلام کی اجنبیت

    عن ابی ھریرہ رضی اللّٰہ عنہ، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا بدا الاسلام غریباً وسیعود کما بدا غریباً فطوبیٰ للغرباء(رواہ مسلم)
    وفی مسند احمد: قیل یا رسول اللّٰہ ومن الغرباء؟ قال: ”الذین یصلحون اذا فسد الناس“ وفی الترمذی: ”فطوبیٰ للغرباءالذین یصلحون ما افسد الناس من بعدی من سنتی“
    ”ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا:
    ”اسلام کا آغاز تھا تو اسلام اجنبی تھا۔ عنقریب یہ شروع ہی کی طرح اجنبی ہو رہے گا۔ تو پھر خوشخبری ہو (اس دور کے) اجنبیوں کو“ (بروایت مسلم)
    مسند احمد میں الفاظ آتے ہیں:
    ”دریافت کیا گیا: ”یہ غرباء(اجنبی لوگ) کون ہوں گے؟“
    فرمایا:
    ”یہ وہ ہوں گے کہ لوگ جب فساد کا شکار ہو جائیں یہ اصلاح کرنے میں لگے ہوں گے“
    ترمذی میں الفاظ ہیں:
    ”توپھر خوشخبری ہو ان غرباء(اجنبیوں) کو، کہ میرے بعد میرے چھوڑے ہوئے راستے میں لوگوں کے ہاتھوں جو فساد در آیا ہوگا یہ اس کو درست کریں گے“۔
    حق سے دور ہونے میں لوگ درجہ بدرجہ تقسیم ہوتے ہیں۔ ’فساد‘ کا شکار ہونے میں سب لوگ یکساں نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ بہت زیادہ نہیں ہوتے جو فساد کو جانتے بوجھتے ہوئے اور قصداً و عمداً قبول کر چکے ہوں۔ زیادہ لوگ ___ اپنی غفلت کے سبب ___ محض شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر غور کیجئے تو یہ لوگ بھی معاشرے میں بہت زیادہ نہیں ہوتے۔ کسی معاملے میں ’شبہات‘ اور ’غلط فہمیاں‘ رکھنا بھی اس معاملہ کو ’جاننے‘ کی ایک خاص سطح ہے۔ ’شبہات‘ اور ’غلط فہمیاں‘ رکھنے کیلئے بھی دراصل اس معاملے پر کچھ نہ کچھ سوچ بچار کر رکھی ہونا ضروری ہے۔ حق اور باطل کے فرق کو معاشرے کی توجہ سے محروم رکھا جائے تو لوگ اس معاملے پر ’شبہات‘ اور ’غلط فہمیاں‘ تک رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
    حق سے جہالت کے ماحول میں لوگ زیادہ تر ’تاثرات‘ اور ’رحجانات‘ کاشکار ہوتے ہیں نہ کہ ’شبہات‘ اور ’غلط فہمیوں‘ کا۔ معاشرے میں کچھ اصطلاحات اور تعبیرات اور ریت اور روایت کا چلن ہو جانا اس بات کیلئے کافی ہوتا ہے کہ حق اور لوگوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے۔ دعوت جب اس دیوار کی اوٹ میں کر دی جائے تو لوگ اس کی بابت محض اندازے اور تاثرات قائم کرتے ہیں۔
    یوں تو حق کے بیشتر معاملات اس دیوار کی اوٹ میں کر دیئے گئے ہیں مگر حق کا وہ معاملہ جو آج سب سے بڑھ کر اس مشکل سے دوچار ہے وہ دعوت توحید ہے جو کہ حق کی اساس ہے اور اسلام کا صلب موضوع۔ ایک محدود طبقہ تو واقعی اس کی بابت ’شبہات‘ اور ’غلط فہمیاں‘ رکھتا ہے مگر ایک بڑا طبقہ اس کی بابت محض ’تاثرات‘ رکھتا ہے۔
    اس سارے بحران کو اگر ہم دو لفظوں میں سمیٹنا چاہیں تو ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی الفاظ نہ ہوں گے، جو کہ حدیث کے الفاظ ہیں: یعنی ’اسلام کی غربت‘ یا ’اسلام کی اجنبیت‘ ....

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: اسلام کی اجنبیت

    جزاک اللہ خیر ۔۔۔ا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •