ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سخت قحط پڑا، بارش ہونہیں رہی تھی۔ لوگ پریشان ہو کر اُم المُومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:"اے اُم المومنین! بارش نہیں ہوتی، قحط پڑ گیا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے ہیں، فرمائیں کیا کیا جائے؟"۔
اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا، حضورﷺ کی قبرِ انور پر جاؤ ، قبر شریف کے حجرہ مبارکہ کی جو چھت ہے ، اُس میں سے چند ایک مقامات سے مٹی ہٹا کر روشن دان بناؤ، تاکہ قبر شریف اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے اور آسمان کو قبر شریف نظر آنے لگے۔ آسمان جب قبرِ انور کو دیکھے گا تو رونے لگے گا اور بارش ہونے لگے گی۔
اُم المومنین کی اس تدبیر پر صحابہ کرام نے عمل کیا اور روضہ شریف کی چھت میں کچھ روشن دان بنائے تو آسمان کو قبر شریف نظر آنے لگی اور بارش شروع ہو گئی۔ اتنی بارش ہوئی کہ گھاس اُگ آئی۔ اونٹ موٹے ہو گئے۔ اور اُن میں اتنی چربی اور گوشت پیدا ہو گیا کہ گویا وہ موٹاپے سے پھٹنے لگے۔ اس سال کا نام ارزانی( کثرت والا مال) رکھا گیا۔(مشکوٰات۔ ص نمبر 637)۔