اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ 'ان شاء اللہ' کو 'انشاء اللہ' لکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے.. ابنِ ہشام کی شذور الذہب میں آیا ہے کہ 'انشاء' کا مطلب ہے بنانا یا دریافت کرنا، ارشادِ باری تعالی ہے: 'انا انشانہن انشاء' یعنی ہم نے (ان عورتوں کو) بنایا ہے.. چنانچہ جب ہم 'انشاء اللہ' لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ہم نے خدا کو بنایا ہے..!؟

درست لفظ 'ان شاء اللہ' ہے.. ارشادِ باری تعالی ہے: 'وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ' … اور حضرت یوسف کی زبانی ارشاد فرمایا: 'ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین'.

امید ہے فرق واضح ہوگیا ہوگا..