Results 1 to 6 of 6

Thread: پرچھائیاں

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel پرچھائیاں

    پرچھائیاں


    پرچھایئاں ساحر لدھیانوی کی طویل ترین نظم ، میں اس کے بارے میں بس اتنا کہنا چاہونگا کہ جب بھی اسے پڑھا بے اختیار آنسو نکلے
    آپ بس ایک بار پوری نظم پڑھ کر دیکھئے میری کیفیت سمجھ جایئنگے


    جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچل

    مچل رہا ہے کسی خواب مر مریں کی طرح
    حسین پھول ، حسین پتیاں، حسین شاخیں
    لچک رہی ہیں کسی جسم نازنیں کی طرح
    فضا میں گھل سے گئے ہیں افق کے نرم خطوط
    زمین حسین ہے خوابوں کی سرزمیں کی طرح
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    کبھی گمان کی صورت کبھی یقین کی طرح
    وہ پر جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھے
    کھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح


    انہی کے سائے میں پھر آج دو دھڑکتے دل
    خموش ہونٹوں سے کچھ کہنے سننے آئے ہیں
    نہ جانے کتنی کشاکش سے ، کتنی کاوش سے
    یہ سوتے جاگتے لمحے چرا کے لائے ہیں
    یہی فضا تھی ،یہی رت ،یہی زمانہ تھا
    یہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی
    دھڑکتے دل سے ،لرزتی ہوئی نگاہوں سے
    حضور غیب میں ننھی سی التجا کی تھی
    کہ آرزو کے کنول کھل کے پھول ہو جائیں
    دل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں


    تم آرہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
    نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوے
    خود اپنے قدموں کی اہت سے جھینپتی ڈرتی
    خود اپنے سائے کی جنبش سے خوف کھاۓ ہوئے
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پر
    ندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے
    تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے
    مری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    میں پھول ٹانک رہا ہوں تمہارے جوڑے میں
    تمہاری آنکھ مسرت سے جھکی جاتی ہے
    نہ جانے آج میں کیا بات کہنے والا ہوں
    زبان خشک ہے آواز رکی جاتی ہے
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    مرے گلے میں تمہاری گداز باہیں ہیں
    تمہارے ہونٹوں پہ میرے لبوں کے سائے ہیں
    مجھے یقین ہے کہ اب ہم کبھی نہ بچھڑیں گے
    تمہیں گمان کہ ہم مل کے بھی پرائے ہیں
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں



    مرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو
    ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تم
    شاگ رات ڈھولک پہ جو گیت گئے جاتے ہیں
    دبے سروں میں وہی گیت گا رہی ہو تم
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    وہ لمحے کتنے دلکش تھے وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں
    وہ سہرے کتنے نازک تھے وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں
    بستی کی ہر اک شاداب گلی خوابوں کا جزیرہ تھی گویا
    ہر موج نفس ،ہر موج صبا، نغموں کا ذخیرہ تھی گویا

    ناگاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں

    بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
    تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
    ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی ،ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
    مغرب کے مہذب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آئے
    اٹھلاتے ہوے مغرور آئے ، لہراتے ہوے مدہوش آئے
    خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گَڑنے لگیں
    مکھن سی ملائم راہوں پر ،بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں
    فوجوں کی بھیانک بینڈ تلے ،چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
    جیپوں کی سلگتی دھول تلے پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیں
    انسان کی قیمت گرنے لگی اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگے
    چوپال کی رونق گھٹنے لگی ،بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
    بستی کے سجیلے شوخ جواں بن بن کے سپاہی جانے لگے
    جس راہ پہ کم ہی لوٹ سکے اس راہ پہ راہی جانے لگے
    ان جانے والے دستوں میں ،غیرت بھی گئی برنائی بھی
    ماؤں کے جواں بیٹے بھی گئے ،بہنوں کے چہیتے بھائی بھی
    بستی پہ اداسی چھانے لگی ،میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں
    آموں کی لچکتی شاخوں سے جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیں
    دھول اڑنے لگی بازاروں میں ،بھوک اگنے لگی کھلیانوں میں
    ہر چیز دکانوں سے آٹھ کر روپوش ہوئی تہ خانوں میں
    بدحال گھروں کی بدحالی بڑھتے بڑھتے جنجال بنی
    مہنگائی بڑھ کر کال بنی ، ساری بستی کنگال بنی
    چرواہیاں رستہ بھول گئیں ،پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
    کتنی ہی کنواریں ابلائیں ،ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں
    افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے کھلیان بکے
    جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بکے
    کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو جسموں کی تجارت ہونے لگی
    خلوت میں بھی جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں


    تم آرہی ہو سر شام بال بکھرائے
    ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئے
    ہوس پرست نگاہوں کی چیرہ دستی سے
    بدن کی جھینپتی عریانیاں چھپائے ہوئے
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    میں شہر جا کے ہراک در پہ جھانک آیا ہوں
    کسی جگہ مری محنت کا مول مل نہ سکا
    ستمگروں کے سیاسی قمار خانے میں
    الم نصیب فراست کا مول مل نہ سکا
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    تمہارے گھر میں قیمت کا شور برپا ہے
    محاذ جنگ سے ہر کارہ، تار ، لایا ہے
    کہ جس کا ذکر تمہیں زندگی سے پیارا تھا
    وہ بھائی ،،نرغہ دشمن ،، میں کام آیا ہے
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    ہر ایک گام پہ بدنامیوں کا جمگھٹ ہے
    ہر اک موڑ پر رسوائیوں کے میلے ہیں
    نہ دوستی ،نہ تکلف ،نہ دلبری ،نہ خلوص
    کسی کا کوئی نہیں آج سب اکیلے ہیں
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    وہ رہگزر جو مرے دل کی طرح سونی ہے
    نہ جانے تم کو کہاں لےکے جانے والی ہے
    تمہیں خرید رہے ہیں ضمیر کے قاتل
    افق پہ خون تمنائے دل کی لالی ہے
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں


    سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے

    چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
    اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
    سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مسکان بھی بیچی جاتی ہے
    اس شام مجھے معلوم ہوا اس کارگہ زرداری میں
    دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے
    اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھن جائے
    ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے
    اس شام مجھے معلوم ہوا جب بھائی جنگ میں کام آئیں
    سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے
    سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
    چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

    تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میں

    یا بزم طرب آرائی میں
    میرے سپنے بنتی ہوگی بیٹھی آغوش پرائ میں
    اور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوں
    جینے کی خاطر مرتا ہوں
    اپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوں
    مجبور ہوں میں ،مجبور ہو تم ،مجبور یہ دنیا ساری ہے
    تن کا دکھ من پر بھاری ہے
    اس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہے
    میں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیں
    چاہا تو مگر اپنا نہ سکیں
    جینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیں
    خاموش وفائیں جلتی ہیں
    اور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیں
    پھر دو دل ملنے آئے ہیں
    پھر موت کی اندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بدل چھائے ہیں
    میں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو
    ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو
    ان کے بھی مقدر میں لکھی ،اک خون سے لتھڑی شام نہ ہو
    سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
    چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

    ہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکا

    مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائے
    ہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملی
    انہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائے
    بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا
    کہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیں
    بہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کا
    کہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیں
    بہت دنوں سے جوانی خواب ویراں ہیں
    بہت دنوں سے محبت پناہ ڈھونڈتی ہے
    بہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میں
    نگار زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈتی ہے
    چلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سے
    کہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیں
    ہمارا راز ہمارا نہیں سبھی کا ہے
    چلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیں

    چلو کہ چل کہ سیاسی مقامروں سے کہیں

    کہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے
    جسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئے
    ہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہے
    کہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیا
    تو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گی
    اٹھو کہ آج ہر اک جنگجو سے یہ کہ دیں
    کہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہے
    ہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیں
    ہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہے
    کہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرے
    اب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گی
    یہ کھیت جاگ پڑے .اٹھ کھڑی ہوئیں فصلیں
    اب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گی

    یہ سر زمیں ہے گوتم کی اور نانک کی

    اس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھی
    ہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لئے
    ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی
    کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے '
    تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
    جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے
    زمیں کی خیر نہیں آسمان کی خیر نہیں
    گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
    عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
    گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
    عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: پرچھائیاں

    merey pas puri book parhi hai Sahir Ludhiyanvi sahab ki

    zabardast sharing hai

    eq2hdk - پرچھائیاں

  3. #3
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default Re: پرچھائیاں

    haah nice laken both zaida lakha ha lekhny waly ny

  4. #4
    Join Date
    Jul 2011
    Location
    Lahore-Pakistan
    Posts
    1,636
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    944 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default Re: پرچھائیاں

    *yeh aisay logon ki shairy hai ...k jitni bhe padhtay jayo g nai bharta...welldone bro.....nyc collection
    sagar3 - پرچھائیاں

    جانےکیسا رشتہ ہےمیرا اسکیذاتکےساتھ
    وہذرا بھیخاموشہوتوسانس ٹھہرسی جاتی ہے




  5. #5
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    City Of Light
    Posts
    26,767
    Mentioned
    144 Post(s)
    Tagged
    10310 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474871

    Default Re: پرچھائیاں

    nice



    3297731y763i7owcz zps9ed156a3 - پرچھائیاں

    MAY OUR COUNTRY PROGRESS IN EVERYWHERE AND IN EVERYTHING SO THAT THE WHOLE WORLD SHOULD HAVE PROUD ON US
    PAKISTAN ZINDABAD











  6. #6
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: پرچھائیاں

    ap sbaka tah-e-dil se shukriya

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •