Results 1 to 3 of 3

Thread: Paharon Par Se Utarta HUa Pani

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel Paharon Par Se Utarta HUa Pani

    پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی

    وہ ایک بڑی شئے کا حصہ تھا۔ کسی بہت بڑی شئے کا حصہ تھا۔ اسنے لوگوں کو خود کی طرف دیکھ کر مبہوت ہوتے دیکھا تھا۔ وہ ایسی بلندی پر تھا کہ پرندوں کا سانس بھی جہاں پہنچتے ہوئے پھولنے لگتا تھا۔ ساری دنیا اسکے قدموں میں پھیلی تھی اور وہ میلوں تلک پھیلی وادیوں کو دیکھ سکتا تھا۔ ایک کسک البتہ دل میں تھی کہ وہ جان سکے کہ وہ بھلا ہے کون؟ پر وہ اس کسک کے ساتھ گویا رہنا سیکھ گیا تھا۔

    ایک دن سورج کی ایک شرارتی کرن بہت دور سے بھاگتی ہوئی آئی اور اس سے ٹکرا گئی۔ وہ دونوں لڑھکتے ہوئے قریب بہتی ایک چھوٹی سی ندی میں جا گرے۔ ندی کیا تھی ایک ہجوم تھا اس جیسی پریشان روحوں کا۔ سب ایک دوسرے کو دھکے دیتے اس جبر سے نکلنے کو کوشاں تھے مگر وہ دھکے شائید انہیں آگے لئے جاتے تھے۔ وہ رکنا چاہتے تھا۔ واپس اپنی جگہ پہنچ جانا چاہتا تھا۔ پھر سے اسی ماورائیت کو اوڑھ لینا چاہتا تھا مگر یہاں ٹھہرنا ناممکن تھا۔

    وہ بہتا رہا یہا ں تک کہ پہاڑوں نے سفید چادر اتار پھینکی اور نئی سبز پوشاک کے لئے گویا تیار سے ہو گئے۔ وہ بہتا رہا چھوٹی چھوٹی بستیوں سے بڑے بڑے شہروں تک۔ ایسے ریگستانوں کے کنارے جہاں برسوں سے پانی کا قطرہ تک نہ پہنچا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ دریا سے باہر نکلے اور کی ایک کی پیاس ہی بجھا پائے۔ اسے لگتا تھا کہ یہ زندگی کا ایک اچھا مقصد ہو سکتا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ دریا تھا جو اسے بس آگے دھکیلے جاتا تھا۔ وہ مایوس ہو گیا اور آنکھیں موند لیں۔ پتہ نہیں میرا خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ میں تو ایسا بدنصیب ہوں جو کسی کی پیاس بھی نہیں بجھا سکتا۔

    وہ بہتا رہا اور پھر ایک دن ایک مہیب سمندر میں لا پھینکا گیا۔ سمندر جو اتنا بڑا تھا کہ اسے اپنا آپ بہت چھوٹا لگنے لگا۔ وہ مہینوں اس عفریت کے پیٹ میں چکر کھاتا رہا یہاں تک کہ یونس کی طرح اسے آزادی کا پروانہ مل گیا اور وہ بادلوں کی صورت ساحلوں کی طرف بھاگنے لگا۔ مہینوں کا سفر ہفتوں میں طے کرتا ہوا وہ پھر سے اسی برف کے پہاڑ پر آ پہنچا جہاں سے چلا تھا۔ اور آج وہ ایک نئی اونچائی سے اپنے پرانے مسکن کو دیکھتا تھا اور اسکی آنکھیں اشکبار تھیں۔ اسنے اپنا مقام جاننے کی خواہش کی تھی اور خداے بزرگ وبرتر جس نے پتھر کے اندر چھپے کیڑے کے رزق کا بھی وعدہ کیا ہے بھلا اس کی اس آرزو کو تشنہ کیسے رہنے دیتا۔

    اسکے اندر شکرگزاری بہتی تھی اور بس ایک کسک بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسک ان لمحوں کی جب وہ دریا میں تھپیڑے کھاتے ہوئے یہ سمجھنے لگا تھا کہ گویا خدا اس سے محبت نہیں کرتا۔

    ‘‘جونک اور تتلیاں’’ سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 06-08-2012 at 09:21 PM.

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی

    nIce sharing





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی

    sbka bht bht shukriya

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •