احادیث کی نظر میں بدعت کی مذمت



سنت کے مقابلے میں بدعت:

حضرت کثیر بن عبداﷲ بن عمرو بن عوف مزنی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے ( میرے باپ سے) میرے دادا نے روایت کیا کہ رسول خداﷺ فرمایا:'' جس نے میری سنت سے کوئی ایک سنت زندہ کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا ، تو سنت زندہ کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، جتنا اس سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کو ملے گا جبکہ لوگوں کے اپنے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے بدعت جاری کی اور پھر اس پر لوگوں نے عمل کیا، تو بدعت جاری کرنے والے پر ان تمام لوگوں کا گناہ ہوگا، جو اس بدعت پر عمل کریں گے جبکہ بدعت پر عمل کرنے والے لوگوں کے اپنے گناہوں کی سزا سے کوئی چیز کم نہیں ہوگی.(یعنی وہ بھی پوری پوری سزاپائیں گے)'' . (ابن ماجہ))

اس حدیث میں سنت کو زندہ کرنے والے کیلئے اجر و ثواب اور اس کے برعکس سنت کے مقابلے میں بدعات نکالنے والے کیلئے سخت وعید ہے.

بدعتی کی توبہ بدعت ترک کرنے کے بعد قبول ہوتی ہے:

بدعتی کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک وہ بدعت ترک نہ کے.( طبرانی)۔