Results 1 to 2 of 2

Thread: Machino k Khuwab

  1. #1
    Join Date
    Mar 2012
    Location
    Pakistan
    Posts
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Thumbs up Machino k Khuwab

    مشینوں کے خواب

    لوگوں کو اب بھی خواب دیکھنے کی آزادی ہے مگر صرف صحیح طرح کے خواب۔ اکیسویں صدی کی ہر مشین کیلئے مخصوص خواب ہیں۔ آپ ایک افریقی کے خواب لے لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے اور سادہ سے خواب۔ جیسے صاف پانی کا ایک گلاس، روٹی کے چند نرم ٹکڑے، ایک دن جس میں کوئی موت واقع نہ ہو۔ یہ سب خواب ایک ساعت میںمکمل ہو سکتے ہیں بس اگر انہیں امریکہ کے کسی کوڑے دان میں زندگی گذارنے کی اجازت دے دی جائے۔ وہ وہاں کھانا اور پانی ایسی مقدار اور معیار کا پائیں گے جیسا شائید ان کے پورے ملک میں نہ ہو۔

    لیکن کوئی بھی انہیں اس کی اجازت نہیں دے گا۔ پھر خواب اسلئے تو نہیںہوتے کہ انکی تکمیل کر دی جائے۔ ان کی تشنگی ہی تو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ ان کی تکمیل سے تو سارا تہذیبی کانچ محل ٹوٹ جائے گا۔

    ایسے ہی مختلف خواب ہیں۔ ایک پاکستانی کے خواب، ایک فلپینو کے خواب، ایک برازیلین کے خواب، ایک فرنچ کے خواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ یقینا افریقی خوابوں سے پیچیدہ تر ہیں مگر ایک چیز جو ان میں مشترک ہے وہ ہے ان کا ناقابل حصول ہوا۔

    اور یہاں ایسے بدقسمت بھی ہیں جو نہیں جانتے کہ انہیں کیا خواب دیکھنا ہیں۔ میں نے مغربی شراب سے بھرے سمندروں میں مشرق کو پیاسا دیکھا ہے۔ وہ لوگ جو اجنبی سرزمینوں میں اپنے خوابوں کے بیج بوتے رہے۔ وہ نہیں جانتے کہ بیج اور مٹی میں ایک رشتہ ہوتا ہے۔ پہاڑوں کے چنار صحراوں میں نہیں اگا کرتے اور اگر اگتے بھی ہیں تو پستہ قامت آرائیشی پودوں کی صورت۔ تو آج مغرب کے دل میں بسا مشرق ایسے ہی آرائیشی پودوں کی چھاوں میں جھلس رہا ہے۔ اور انہیں پھر بھی سمجھ نہیں آتی کہ غلطی کہاں ہوئی ہے ان سے۔

    ہماری بات ادھوری ہو گی اگر ہم اس خواب کا ذکر نہ کریں۔ ایک ایسا خواب جس سے آج کا ہر انسان خود کو جڑا محسوس کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکن ڈریم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زیادہ پیچیدہ مشینوں کے لئے، بہت ترقی یافتہ روحوں کیلئے اب آتا ہے ایک آخری خواب (ایک مکمل عذاب)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خواب جو بہت پیچیدہ، لایعنی اور خطرناک ہے مگر ساتھ میں تہذیبی ترقی کا سب سے بڑا منبع بھی ہے۔

    تو اب اگر کوئی سوال کرتا ہے کہ آیا مشینیں خواب دیکھ سکتی ہیں تو میرا جواب ہو گا کہ ہاں مشینوں کیلئے خواب ہیں۔ مگر نہیں وہ خواب دیکھ نہیں سکتیں۔ ہم انہیں مفید، قابل بھروسہ، سریع جو چاہے کہ ڈالیں اور میں تو انہیں ایک حد تک باشعور ماننے پر بھی تیار ہوں مگر وہ اتنی زندہ نہیں ہیں کہ خواب دیکھ سکیں۔

    اور کچھ الفاظ ماضی کے ان عظیم خوابوں کے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاہکار خواب

    خدا اب بھی سانس لیتا ہے (گرچہ تہذیب کے بوجھ تلے دبا بڑی آہستگی سے )

    محبت اب بھی ایک ایسی الجھن ہے جس کا جواب کوئی نہیں (مگر صرف چند خوش قسمت روحوں کیلئے)

    تو مشینوں کی ان جی اکتا دینے والے زند گیوں کے ساتھ ساتھ بلو گیٹارسٹ کی افسردگی، کرائم اینڈ پنشمنٹ کی منطق، موضارت کی دھنیں بھی زندہ ہیں۔ ہاں کچھ لوگ ہیں جو اب بھی زندہ ہیں، جو اب بھی خواب دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ان سے پرے اربوں میکانکی گردنیں ہیں جو ایک پروگرامڈ لے پر گھومتی ہیں۔ وہ روشن جبینیں جو ہر اس شئے پر جھک جاتی ہیں جسے وہ سمجھ نہیںسکتیں، وہ آنکھیں جن کی آگ پردہ سکرین پر ابلتے آتش فشانوں سے زیادہ بے حدت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب دیکھ کر ہمیں ایک بہت بڑی ناکامی کا احساس ہوتا ہے۔

    لیکن میں ان کی طرف کیوں دیکھوں؟ میں اتنا بیوقوف تو نہیں ہوں کہ مشینوں سے باتیں کرنے لگوں۔ میری کہانی تو ان سہمی ہوئی روحوں کیلئے ہے جنہوں نے مشینوں کے اجسام میں خود کو کیموفلاج کر لیا ہے۔ اور اس دبکی ہوئی زندگی میں ایسے لمحات کا غلبہ ہے جب وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔ انہیں بس چھوٹی چھوٹی چیزوں سے اپنے انسان ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ جیسے شیشے پر ابھرتی دھند سے ہمیں اپنے سانس لینے کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ حقیقی معنوں میں زندہ ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ زندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جتنا کہ انسان کبھی تھا۔ جتنا کہ انسان کبھی ہو سکتا ہے۔ ایسے میں لوگ جلتے گھروں سے بچوں کو بچا لاتے ہیں، بھوک سے لرزتے ہاتھوں سے انقلاب کا مینی فسٹو لکھتے ہیں، اس بے رحم حقیقت پسندی کے بیچ محبت کرتے ہیںَ۔

    میں ان لمحات کی تلاش میں ہوں۔ میں انہیں اکٹھا کروں گا، گلورفائی کروں گا اور ڈھال دوں گا انہیں مستقبل کے خوابوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب جو مشینوں کی پہنچ سے بہت دور ہوں گے۔

    سید اسد علی کے ناول ‘‘برفاب لمحوں میں محبت’’ سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 06-08-2012 at 08:21 PM.

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Machino k Khuwab

    Nice sharing





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •