آ ٹھہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں
روئے جب بھی رات تو پلکیں بھیگ گئیں

آنکھوں کو جب گہری کالی برکھا کی
سونپ گیا سوغات تو پلکیں بھیگ گئیں

اپنے بھی جب چھوڑ کے واپس پلٹے تھے
تھاما اس نے ہاتھ تو پلکیں بھیگ گئیں

یوں تو ہر نقصان پہ حاوی ضبط رہا
بکھر گئی جب ذات تو پلکیں بھیگ گئیں

پہلے تو آنکھوں میں حیرت ٹہری تھی
سمجھ میں آئی بات تو پلکیں بھیگ گئیں

بات بچھڑنے پر ہی ختم نہیں ہوتی
چلا جو کوئی ساتھ تو پلکیں بھیگ گئیں

ہر الزام کو سہنے کا کچھ عہد تو تھا
اور چھڑی جب بات تو پلکیں بھیگ گئیں