Results 1 to 3 of 3

Thread: Kala Kapra

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Kala Kapra


    کالا کپڑا

    خدا کو ڈھونڈنا ہو تو کہیں بھی چلے جائیں مگر کعبہ کا رخ نہ کریں کہ خدا وہاں نہیں ملتا۔ آپ بہت فطرت پرست ہیں تو ہمالیہ کے دامن میں یا پھر کسی افریقی صحرا کی طرف نکل جائیں۔ حسن آپ کی کمزوری ہے تو کسی حسینہ کی ذلف کے اسیر ہو جائیں۔ ذہن آپ کو تنگ کرتا ہے تو کسی نیچرل سائینس کی تعلیم میں مشغول ہو جائیں۔ انسانیت سے محبت ہے تو غریب بستیوں کا رخ کریں اور اگر کچھ نہ کر سکیں تو بس کسی پررونق بازار میں کھڑے ہو جائیں اور انسانوں کے اس خوبصورت ہجوم کو بارش کے قطروں کی سی روانی سے اپنے گرد بہتے دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سبھی صورتوں میں خدا آپ کو بڑی آسانی سے مل جائے گا کہ وہ ڈھونڈنے والوں سے بہت زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہتا۔ ہاں مگر شرط یہی ہے کہ آپ ہمالیہ کی ہیبت، لڑکی کے حسن ، علم کے تکبر اور پیسے کی چمک میں کھو نہ جائیں بلکہ اپنا مقصد سامنے رکھیں۔

    تو جہاں چاہے چلے جائیں اسے خود سے دور نہ پائیں گے مگر کعبہ کی بات دوسری ہے۔ اگر آپ یہاں خدا ڈھونڈنے آئے ہو تو آپ کو اس کی دیواروں سے سرد کوئی شئے محسوس نہ ہو گی۔ آپ گھبرا کر اپنے اردگرد دیکھو گے تو ہزاروں آنکھیں امید اور خوشی سے بھری نظر آئیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہر ایک گویا اپنے خدا کو تکتا ہے۔ آپ کو لگے گا کہ آپ کے سوا جیسے ہر ایک کو خدا مل گیا ہے۔

    ‘‘پھر مجھے کیوں نہیں؟’’ بے معنی سوال آپ کو ستائیں گے اور آپ غلافِ کعبہ سے لپٹ لپٹ کر روئو گے۔ بار بار سوال کرو گے۔ اتنے سوال آپ سڑک سے اٹھا کر کسی پتھر سے بھی کرو تو وہ بھی آپ سے بولنا شروع کر دے گا مگر کعبہ سے آپ کو کوئی آواز نہیں آئے گی۔ آپ کو اپنا آپ بہت گھٹیا اور بے حقیقت محسوس ہو گا اور آپ سمجھ نہیں پائو گے کہ آپ نے کیا غلط کیا؟

    ایک بات جو ہم کبھی نہیں مان پاتے کہ خدا یہاں رہتا ہی نہیں۔ یہاں آنے والا ہر مسافر اپنا خدا ساتھ لے کر آتا ہے۔ کعبے کے تین سو ساٹھ بت تو صاف کر دیے گئے مگر اب حج کے دنوں میں یہاں تیس چالیس لاکھ خدا اکٹھے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا جنہیں لوگوں نے ایک عمر کی تلاش کے بعد ڈھونڈا ہوتا ہے۔ خدا جن کے لئے اپنے گھر، اپنے دل، اپنی زندگی کا بہترین کونہ مختص کیا ہوتا ہے۔ خدا جنہیں ہم اپنی کمائی میں سے کھلاتے ہیں، جس کے اعزاز میں چڑھاوے چڑھاتے ہیں، دکھوں میں جس کے قدموں پر سر رکھ کر روتے ہیں۔ خدا جو شادیوں پران کے گھروں میں چیف گیسٹ ہوتا ہے۔

    تو ہم سب یہاں اپنے اپنے خدا ساتھ لے کر آتے ہیں اور یہاں آ کر عجب تماشہ ہوتا ہے۔ کعبہ کو دیکھتے ہی وہ خدا، وہ روشنی اس کالے کپڑے میں جذب ہو جاتی ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کھیل کیا ہے؟ یوں لگتا ہے جیسے کوئی مہربان ہر ایک کا پردہ رکھ لیتا ہے۔ جیسے آپ کا کالا کرتا داغوں کو بڑے التزام سے اپنے دامن میں چھپائے رکھتا ہے۔ حقیقت آپ تبھی جانتے ہو جب اس کپڑے کو دھویا جاتا ہے۔ اب میل کچیل دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کرتے نے آپ کی کتنی شرم رکھ لی تھی۔

    یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ لاکھوں لوگ ہیں اور سبھی صحیح ہیں۔ ان کے کروڑوں خدا ہیں اور سبھی برحق ہیں۔ وہ کالا کپڑا سب کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور لوگوں کو ایک مرتبہ پھر سے آزادی سے سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ خدا نام کا ‘‘پیرِ تسمہ پا’’ جو نجانے کب سے ہم نے اپنے کاندھوں پر بٹھا لیا تھا کچھ ایسے کہ اسکے بوجھ تلے ہم ہر آن دبے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ایک پل میں اس خدا سے آزاد ہو گئے۔ بہت سے لوگوں کیلئے آزادی کا یہ لمحہ کوئی بہت خوشگوار شئے نہیں ہوتی۔ ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنجرے میں برسوں سے قید پرندے کی طرح۔ پنجرے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے مگر ہم اڑنے کی ہمت نہیں لا پاتے۔ دروازے سے دور سمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی زبردستی نکال کر پنجرے سے باہر اڑا دے تو قریبی دیوار پر جا بیٹھتے ہیں جہاں کم از کم پنجرہ تو نظر آتا رہے۔

    کچھ یہی کیفیت لوگوں کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں کعبہ آتے ہوئے لگتا ہے جیسے وہ منزل پر پہنچ گئے مگر یہاں آ کر خبر ہوتی ہے کہ یہ تو ایک دوسرا آغاز ہے۔ تبھی تو کہا جاتا ہے کہ جب انسان یہاں سے واپس جاتا ہے تو اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اسکی ماں نے اسے ابھی جنا ہے۔

    یہاں ایسا ہی ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو سوچتے نہیں ہیں باقی سب یہاں اپنے خدائوں کو ٹوٹتا محسوس کرتے ہیں۔ وہ دعا کا ہر طریقہ آزماتے ہیں۔ لڑتے جھگڑتے حجرِ اسود تک پہنچتے ہیں۔ جس مقام پر خدا کی رحمت کا شائیبہ بھی ہوتا ہے وہاں نفل ادا کرتے ہیں۔ رکنِ یمانی کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ دروازے کی چوکھٹ سے لٹک جاتے ہیں مگر خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا نہیں ملتا۔

    میں نہیں مانتا کہ خدا وہاں نہیں ہے۔ وہ بھی وہیں ہے پر ہم اسے دیکھ نہیں پاتے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مسجد کے مینار پر کسی چھوٹے پرندے کی صورت بیٹھا ہو یا پھر اس نئی بننے والی بلڈنگ کی سب سے اونچی منزل پر دوسرے مزدوروں کے ساتھ کام کرتا ہو۔ یا پھر خاموشی سے کسی سیڑھی پر بیٹھا اس ہجوم کو دیکھتا ہو۔

    خدا گرد ہوتا تو غلافِ کعبہ جھاڑنے سے ہم اسے پا لیتے۔
    وہ کعبہ میں ہوتا تو گھنٹوں چوکھٹ سے لٹکنے والوں کو اتارنے ضرور آتا۔
    وہ حجر اسود کے کہیں قریب ہوتا تو اس کمزور شخص کو ضرور بچا لیتا جسے ہجوم نے گویا کچل ہی ڈالا تھا۔


    وہ بڑا ظالم ہے۔ اپنا پتہ نہیں دیتا اور ڈھونڈنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ آنکھ مچولی کھیلتا ہے اور یہ بھی نہیں بتاتا کہ ڈھونڈنا کیا ہے۔ گولے والے کی برف کی طرح پے درپے ضربوں سے ہمیں توڑ ڈالتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ ثابت قدم رہو۔ جان کو شکنجے میں یوں ڈال دیتا ہے جیسے رس بیلنے کی مشین میں گنا اور پھر بھی حکم ہے کہ ‘‘ رہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہون رہو تے مناں’’۔ لاکھوں میں وہ ہمیں ایک بناتا ہے اور پھر ایک کو یوں لاکھوں میں ملا دیتا ہے جیسے اسکے لئے یہ سب کوئی کھیل ہے۔

    ‘‘جونک اور تتلیاں’’ سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 06-08-2012 at 08:05 PM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Kala Kapra

    zabardasttt

    eq2hdk - Kala Kapra

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Kala Kapra

    bohat umda

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •