لوگ جسےتقدیر کہتے ہیں
ہم تیری تدبیر کہتے ہیں

پوچھتی ہے خلش دل کی!
کیا نظر کے تیر کہتے ہیں!

تم نے کوئی خواب دیکھا ہوگا!
ہم سے اہلِ تعبیر کہتے ہیں..!

جو نہ دے اس کا بھی بھلا!
کیسی بات فقیر کہتے ہیں!!!

پھول کہتے ہیں تجھے اپنا چہرہ
تجھکو اپنے لب انجیر کہتے ہیں

باتیں ہماری یاد رہیں گی,تصوٓر
یہ ہم نہیں ، میر کہتے ہیں!!!